اندھا قانون نو سالہ معصوم آصف کے قاتل سندھ ہائی کورٹ سے رہا 808x454

اندھا قانون نو سالہ معصوم آصف کے قاتل سندھ ہائی کورٹ سے رہا

50 views

اس ملک میں انصاف کی فراہمی صرف ایلیٹ کلاس کے لیے ہی ہے اگر نو سالہ آصف کسی بیوروکریٹ کسی سیاستدان یا کسی سفارتکار کا بیٹا ہوتا تو اس کو انصاف ضرور ملتا  لیکن وہ تو ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے والے باپ کی اولاد تھا  اس کے قاتلوں کو سندھ ہائی کورٹ نے بری کردیا ہے .

فیض اللہ خان

نو برس کا محمد آصف کراچی کے مضافاتی علاقے اتحاد ٹاؤن میں ماں باپ کیساتھ رہتا تھا 2017 میں اللہ دتہ حفیظ اور عرفان نے آصف کو اغواء کرکے تاوان وصولنے کا گھناؤنا منصوبہ ترتیب دیا

یوں پہلے معصوم محمد آصف اغواء ہوا پھر والدین سے تاوان کی پندرہ لاکھ رقم طلب کی گئی اور باپ کیطرف سے ایک لاکھ تیس ہزار روپے اس ظالمانہ مد میں ادا کرنے کے باوجود ان وحشیوں نے اس معصوم کو بیدردی سے قتل کرکے لاش قریبی گندے نالے میں پھینک دی

جو بڑی مشکل سے مل سکی پولیس حرکت میں آئی مجرم پکڑے گئے اے ٹی سی میں کیس چلا اور تینوں کو اغواء تاوان قتل اور خوف و ہراس پھیلانے کے مقدمے میں تین تین بار عمر قید کی سزا سنادی گئی پیارا سا آصف تو واپس نہیں لوٹ سکا مگر پھر بھی سزا سے کچھ نا کچھ والدین کو سکون ملا

اب شروع ہوتا ہے اس معاملے کا دوسرا اور سب سے سنگین مرحلہ ، مجرموں نے اس سزا کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیل کی مقدمہ چلتا رہا یہاں تک کہ آج کا سیاہ دن یوں سامنے آیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے اے ٹی سی کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر تینوں کی باعزت بریت کا فیصلہ سنادیا

سوال یہ ہے کہ ، پولیس نے جنہیں نے گرفتار کیا ، کیا وہی مجرم تھے ؟

ماتحت عدالت کی سزا جلد بازی تھی ؟ انصاف تھا ؟ یا پھر آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئیے کئی برس سے اے ٹی سی کا تماشہ لگا رکھا ہے ؟

اس سب سے بڑھ کر اگلا سوال جو کہ آصف کی غمزدہ ماں اور بیٹے کے بھیانک قتل اور جدائی کا روگ لئیے اسکا باپ پوچھتا ہے کہ کیا میرا بیٹا اغواء اور قتل نہیں ہوا تھا ؟ کیا تاوان کی رقم میں نے ادا نہیں کی ؟

ان سب سے آگے بڑھیں تو مزید سوالات ابھرتے ہیں ، کیا آصف اور اس جیسے بچوں کے مقدمات پہ ریاست پھرتی اس لئیے نہیں دکھاتی کہ یہ اسلام آباد کی ایلیٹ کلاس میں ہوئے سفارت کار شوکت کی بیٹی کے قتل جیسا نہیں تھا ؟ کیا طبقاتی تقسیم سے انصاف کے تقاضے بدل جاتے ہیں ؟

اگر آصف کسی جج جرنیل اور سیاست دان کا بیٹا ہوتا تو بھی یہی رویہ اختیار کیا جاتا ؟ کیا اعلی ترین تفتیشی ذرائع جدید آلات فرانزک سمیت وہ سب ثبوت عدالت کے سامنے پیش نہ ہوتے جو قاتلوں کو سزا دلاتے ؟؟؟

یہ نظام اور اسکے ماتحت ادارے ظلم اور جبر کی علامت ہیں اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ انہیں بدلنے کی صلاحیت نواز شریف زرداری اور عمران خان کے پاس نہیں ۔

جیسے آصف اغواء ہوکر اغواء نہیں ہوا جیسے آصف کے باپ نے تاوان دیکر تاوان نہیں دیا جیسے آصف کو قتل کرکے قتل نہیں کیا گیا جیسے گندے نالے میں اسکی لاش پھینک کر لاش نہیں پھینکی گئی اسی طرح نواز شریف زرداری نے کرپشن کرکے کرپشن نہیں کی اور اسی طرح مشرف نے پاکستان کو تباہ کرکے تباہ نہیں کیا

یہ عدالتیں فراڈ ہیں دھوکہ ہیں یہ نظام باطل ہے اور بدقسمتی سے اسے بدلنے والا کوئی نہیں کیونکہ سب اسی کے نیچے سیاست کرنا پسند کرتے ہیں انکی اپوزیشن والی نظام کو بدلنے والی باتوں پہ نہ جائیں بلکہ وہ دیکھیں جو یہ سب اقتدار میں رہ کر کرتے ہیں بس وہی سچ ہوتا ہے

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *