ملکی معیشت کے پریشان کن اشاریے حکومت کو ترجیحی بنیادوںپر فیصلے کرنے ہونگے 808x454

ملکی معیشت کے پریشان کن اشاریے حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر فیصلے کرنے ہونگے

58 views

پاکستان اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے اور حالیہ حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلینج اس وقت معیشت کی بحالی ہے ۔ جبکہ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی شرح نمو 4.3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے،گزشتہ مالی سال پاکستان کی شرح نمو 5.6 فیصد رہی۔

پاکستان کی حالیہ حکومت کے سامنے اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح سے ملک میں معاشی استحکام لاسکتے ہیں  ملک میں بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کو کنٹرول کرنے کے ساتھ نوکریوں کے لیے مواقع پیدا کرنا، صنعتوں کو بجلی و گیس کی فراہمی اور ٹیکس ریفارمز بھی نئی حکومت کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے درپیش معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لئے قومی اقتصادی مشاورتی کونسل بنانے اور قلیل المدتی اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن وقت کم مقابلہ سخت ہے ۔ اس وقت ہنگامی نوعیت کے فیصلے لینے ہونگے ۔ اپنے  مختصر سے دور میں اس نئی حکومت کو کچھ بہت مشکل ترین فیصلے لینا ہونگے اور ساتھ یہ خیال بھی رکھنا ہوگا کہ اس کی معاشی مینیجمنٹ ایسی ہو جس کی وجہ سے مہنگائی میں پستی عوام کو مزید بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔

حکومت کو جو معاشی مینیجمنٹ کرنا ہے اس میں جو سوال اہم ہیں وہ یہ ہیں کہ کیا  شہباز حکومت توانائی کے نرخوں میں کوئی ریلیف دے سکتی ہے ؟ ۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کرسکتی ہے ۔ یہ دو دھاری تلوار پر چلنے کے مترادف ہے  اگر مہنگائی کم نہیں ہوئی تو عوام میں وہی جماعت غیر مقبول رہیگی جو اس وقت وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہے ۔ حکومت کو پرائس مینجمنٹ سخٹی سے کرنا پڑیگی جبکہ ہر حال میں گراں فروشی کو قابو کرنا ہوگا ۔ اس کے علاوہ لازمی اجزائے خوراک پر ٹیکس کم کرنا چاہیے۔

پاکستان کا عام شہری گزشتہ پچاس سال میں حکومتوں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں رہا۔ذوالفقار علی بھٹو نے کاروباری ادارے نیشنلائز کر کے سرمایہ کاروں کو ملک سے باہر بھیج دیا۔بڑی بڑی فیکٹریاں اور کارخانے تباہ ہو گئے۔سرکاری کنٹرول میں آنے کے بعد بہترین پیداوار دینے والے یہ ادارے خسارے میں چلے گئے

مسلم لیگ ن کے سابق ادوار میں موٹر وے بنانے اور صنعتوں کے قیام کے سلسلے میں قابل قدر اقدامات ہوئے۔ان منصوبوں کی وجہ سے ملک میں نئے معاشی مواقع پیدا ہوئے۔بہت سے لوگوں کو روزگار ملا۔ملک میں اچھی ٹرانسپورٹ آئی۔یہ وہ منصوبے تھے جنہوں نے بیرونی قرض کی واپسی میں اپنا کردار ادا کیا۔

2008ء سے 2018ء کے درمیان مسلم لیگ ن کی پنجاب اور پھر وفاق میں حکومت نے غیر ملکی قرضوں کو غیر پیداواری منصوبوں پر خرچ کیا۔میٹرو بس اور اورنج ٹرین جیسی سہولتیں ملنی چاہئیں۔اس طرح کی سہولیات سے بہت سی آسانیاں پیدا ہوتی ہیں اور ملک کی عمومی شکل ترقی یافتہ نظر آنے لگتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر ماہ قرض سے چلنے والے ان منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے حکومت کو نیا قرض لینا پڑتا ہے۔ایسے بہت سے منصوبے سیاسی مقبولیت دلا سکتے ہیں لیکن ملک کو بدترین مالیاتی مسائل کا شکار بنا کر تباہی کا راستہ کھول دیتے ہیں

شہباز شریف بطور وزیر اعلیٰ ایسے ترقیاتی منصوبوں کے حامی رہے ہیں۔اب بطور وزیر اعظم قومی معیشت کی اصل حالت ان کے سامنے آ چکی ہے۔بہتر ہو گا کہ وہ پہلے مرحلے میں ان ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں نئی حکمت عملی ترتیب دیں جو عوامی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں اور جنہیں عوام کی سہولت قرار دے کر ان کے منفی اثرات کو چھپایا جاتا رہا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت افراط زر پر قابو پانے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے مہنگائی بڑھی۔شروع کے دو سال تجارتی خسارہ ختم کر دیا گیا لیکن درآمدی مال پر چلنے والے کاروبار کو رواں رکھنے کے لئے جونہی نرمی کی گئی تجارتی خسارہ ایک بار پھر 20ارب ڈالر سے بڑھ گیا۔

ٹیکسٹائل کے شعبے کے لئے سابق حکومت نے مراعات کا اعلان کیا۔ان مراعات میں بجلی و گیس کے نرخوں پر رعائت شامل تھی۔ان مراعات کا فائدہ ہوا۔30برس کے دوران پہلی بار پاکستان کی ٹیکسٹائل کی صنعت اس وقت ترقی کر رہی ہے۔قومی اقتصادی کونسل کے سامنے یہ معاملہ رہنا چاہیے کہ سابق حکومت کی معاشی خرابیوں کو درست کرنے کے ساتھ ساتھ اس امر کا خیال رکھا جائے کہ جو شعبے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ان کے لئے مسائل پیدا نہ ہوں

وزیر اعظم شہباز شریف ایک اچھے منتظم سمجھے جاتے ہیں۔انہیں یقینا قومی معیشت کی خرابیاں تلاش کرنے اور عوامی توقعات کے مطابق ترقی کی حکمت عملی ترتیب دینے میں آسانی ہونی چاہیے۔اپوزیشن کے قائد کے طور پر شہباز شریف پی ٹی آئی حکومت پر سی پیک منصوبوں میں تاخیر کا الزام عائد کرتے رہے ہیں چین نے وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے پر شہباز شریف کو مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے۔سی پیک منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کر کے معاشی بہتری کے امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں

 پاکستانی معیشت کے لئے سب سے بڑا چیلنج آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آئوٹ پیکیج کی اگلی قسط کے لئے شرائط کا معاملہ ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط سے کس طرح نمٹا جائے یہ طے کرنا ضروری ہے۔تجربہ کار ماہرین پر مشتمل ٹیم آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنے کی حکمت عملی تیار کر لے تو کئی دوسرے مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ آغاز سے آثار اچھے نظر آرہے ہیں  ڈالر کی قیمت کم ہورہی ہے  پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل بہتری نظر آرہی ہے ۔ جبکہ یہ بھی خوش آئند ہے کہ حکومت ملک کو معاشی لحاظ سے مستحکم بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانے جا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے معاشی ٹیم کو ہنگامی بنیادوں پر معیشت کی بہتری کیلئے اصلاحات کا جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *