پاکستان امریکہ تعلقات ریڈ کارپٹ سفید ہاتھی سے دھمکی آمیز لیٹر تک 808x454

پاکستان امریکہ تعلقات ریڈ کارپٹ سفید ہاتھی سے دھمکی آمیز لیٹر تک

45 views

قائدعظم نے 1947 میں کابینہ کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ”پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، اور کمیونزم اسلامی ممالک میں نہیں پنپ سکتا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے مفادات روس کی بجائے امریکہ اور برطانیہ سے وابستہ ہوں گے۔“

جب سے پاکستان وجود میں آیا  ہے ہمارے امریکہ کے ساتھ تعلقات نشیب و فراز کا ہی شکار رہے ہیں ۔ہمیں  امریکہ کے ساتھ  سفارتی تعلقات قائم ہوئے 70سال ہورہے ہیں۔ مگر 20اکتوبر1947کو شروع ہونے والے ان  سفارتی تعلقات میں تلخیاں، عدم اعتماد اور کشیدگی روز اول  سےہی موجود ہے ۔دونوں ممالک کو ایکدوسرے سے گلے شکوے پہلے دن سے رہے ہیں

 پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان  نے  امریکہ کو روس پر  ترجیح دی۔اس دورے پر بعد میں بہت بحث کی جاتی رہی لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان کے امریکہ میں استقبال کے لئے نہ صرف سرخ قالین بچھایا گیا تھا بلکہ  امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین نے وزیراعظم اور ان کے وفد کو لندن سے واشنگٹن لانے کے لئے صدرِ امریکہ کے لئے مختص طیارہ انڈیپنڈنٹ بھیجا تھا۔

یہی نہیں،بلکہ 3مئی1950ء کو جب یہ طیارہ واشنگٹن ڈی سی کے ایئر پورٹ پر اترا تو صدر ٹرومین اپنی پوری کابینہ کے ہمراہ استقبال کے لئے موجود تھے۔ معروف صحافی اور دانشور شجاع نواز نے پاکستان کی تاریخ کے بارے میں اپنی کتاب ”کراسڈ سورڈز“ میں استقبال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ میں کسی مہمان کو خوش آمدید کہنے کے لئے یہ اعلیٰ ترین اعزاز تھا جو لیاقت علی خان کو دیا گیا۔

 اس کے باوجود امریکہ کو پاکستان سے اور پاکستان کو امریکہ سے شکایتیں ہمیشہ رہی ہیں جبکہ  پاکستان امریکہ کی  ضرورت رہا ہے ۔

تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان  نے  اپنی سلامتی کی قیمت پر، اپنے آپ کو خطرات میں ڈال کر امریکہ کی انتہائی اہم اور حساس شعبوں میں مدد کی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس کی واضح مثال ہے ۔

صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان  کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہتر تھے لیکن پھر 1965 کی جنگ کے بعد  امریکی امداد بند کردی گئی امریکہ کی  اس  طوطا چشمی پر انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل  مشہور زمانہ کتاب ’ فرینڈز، ناٹ ماسٹرز‘‘ لکھی ۔

1971 کی پاکستان بھارت جنگ میں امریکہ نے پاکستان کی کوئی مدد نہیں کی تو پاکستان نے امریکہ کے ساتھ سیٹو اور سینٹو کے معاہدے توڑ دیے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان میں ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی گئی اور جب 1973 کے رمضان المبارک میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی تو ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان ائر فورس کے پائلٹ عرب کی مدد کو بھیجے یوں امریکہ بھٹو کے خلاف ہو گیا۔

پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس وقت کی اپوزیشن کی جانب سے اپنے خلاف لائی گئی تحریک پر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو  نے کہا تھا کہ’یہ ایک بہت بڑی عالمی سازش ہے جسے امریکہ کی مالی مدد حاصل ہے تاکہ میرے سیاسی حریفوں کے ذریعے مجھے نکال دیا جائے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ  ’ویتنام میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے اور اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کا ساتھ دینے پر امریکہ انھیں معاف نہیں کرے گا۔‘  انھوں نے امریکہ کو سفید  ہاتھی قرار دیا جو بھولتا ہے نہ معاف کرتا ہے۔

 بھٹو  کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کی سازش کامیاب ہوئی اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی این اے کی تحریک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ضیاالحق نے پانچ جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔

جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ  ’ان کے ساتھ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ انھوں نے پاکستان کو ایک جوہری طاقت بنانے کا عزم کر لیا تھا اور امریکہ کے وزیرِ خارجہ ہنری کیسنجر کے خبردار کرنے کے باوجود جب انھوں نے جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا تو ہنری کیسنجر نے انھیں دھمکی دی ‘ تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیا جائے گا۔‘

جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان کو خوب امداد دی گئی اور تمام معاشی پابندیاں ختم کر دی گئیں، اس کی وجہ پاکستان کی افغانستان میں روس کے خلاف جنگ تھی روس جیسی سپرپاور کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، اس طرح امریکہ کا پاکستان کی مدد کے ذریعہ وہ مقصد پورا ہوا جس کی وہ کافی عرصے سے تیاری میں تھا اور امریکہ پوری دنیا میں واحد سپرپاور بن کر ابھرا۔ پاکستان کو اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کا طوفان امڈ آیا۔

پھر بھی پاکستان اور امریکہ کسی نہ کسی طور ساتھ چلتے رہے لیکن پاکستان کے سوویت یونین کے ساتھ تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔ اس سے بھارت پورا فائدہ اٹھاتا رہا۔ سوویت یونین کے قریب ہوتا رہا۔ اس سے اقتصادی معاہدے بھی کئے گئے اور دفاعی معاہدے بھی ۔ بھارت کی ترقی میں سوویت یونین نے بنیادی کردار ادا کیا۔ صنعتی کارخانے ، دفاعی پیداوار، بھاری اسلحے کی فراوانی میں ماسکو دہلی کی بھرپور مدد کرتا رہا۔

جنرل ضیاء کی حکومت کے 11 سال بعد جب پاکستان میں جمہوری نظام آیا، بینظیر بھٹو وزیر اعظم منتخب ہوئیں تو اس دور میں پاکستان نے میزائل تجربات کیے جس میں کامیاب رہے، پھر نواز شریف کے دور میں  جب بھارت کے جواب میں 1998 کو پاکستان نے چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کیے تو امریکہ  نے پھر  پاکستان پر پابندیاں لگا دی گئی امریکہ ہمیشہ سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف تھا۔

امریکہ کے جڑواں ٹاورز پر دہشت گردی کے بعد امریکی صدر نے کہا تھا کہ دنیا بدل گئی ہے۔ اس عالمگیر تبدیلی میں بھی امریکہ دہشت گردوں کے خلاف کبھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا تھا اگر پاکستان اس سے تعاون نہ کرتا۔ اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف سے چند ماہ پہلے تو امریکی صدر بل کلنٹن کی برہمی کا یہ حال تھا کہ امریکی صدر نے ان کے ساتھ دورہ پاکستان کے دوران کوئی تصویر بھی نہیں کھنچوائی۔ انہوں نے بند اجلاسوں میں حصہ لیا اور پاکستان قوم سے خطاب کرکے چلے گئے۔ امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی تھیں لیکن جب نائن الیون کا واقعہ ہوا اور پاکستان نے بہت سوچ بچار کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو صدر پرویز مشرفMan of the Momentبن گئے۔

پاکستان سرد جنگ میں بھی امریکہ کا اتحادی رہا ہے۔ بعد میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بھی امریکہ کا اتحادی رہا اور ہزاروں جانیں قربان کرچکا ہے۔

امریکہ نے پاکستان سے معاملات میں ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ جب بھی پاکستان پر نازک وقت آیا تو اس نے غیر جانبداری اختیار کرلی۔

امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ہمیشہ مخالفت کی۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسینجر جن کو 1971میں پاکستان نے چین کے خفیہ دورے کی تاریخی سہولت فراہم کی، جس سے دُنیا میں ایک نیا سفارتی نظام قائم ہوا، انہی کسینجر صاحب نے 1972میں پاکستان کے وزیر اعظم کو دھمکی دی کہ اگر ایٹمی پروگرام بند نہ کیا تو تمہیں عبرتناک مثال بنادیا جائے گا اور اس پر امریکہ نے عمل بھی کیا۔جب 1998میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے مجبوراً ایٹمی دھماکے کئے تو اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان پر پریسلر ترمیم کی پابندیاں عائد کردی گئیں۔

امریکہ بھارت سے جو اپنی پینگیں بڑھارہا ہے، اس کے لئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بھارت بڑی مارکیٹ ہے۔ جہاں ایک ارب کے قریب صارفین بستے ہیں۔ اس لئے امریکہ اور مغربی ممالک اس مارکیٹ کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔90کی دہائی سے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ بھارت کے بہت نزدیک ہوگیا ہے۔ پہلے اس نے روس سے محبت کے مزے لوٹے اب امریکہ سے عشق کے لطف اٹھارہا ہے۔

 پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں سرد مہری تب بھی بڑھی کیونکہ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک پاکستان کی فوج اور شہریوں کی ان قربانیوں کو یکسر نظر انداز کردیا  جو 2001سے اب تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں دی گئیں۔ پھر افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستان کے طول و عرض میں جو خوفناک وارداتیں کیں۔ ایک عرصے تک پاکستان کا ہر شہری خوف زدہ رہا، لیکن پاکستانی فوج کے آپریشن ضرب عضب، پھر آپریشن ردّالفساد میں تمام دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نیست و نابود کیا گیا۔ جنرل راحیل شریف کی پُر عزم قیادت پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کی کمان میں تسلسل سے یہ کارروائیاں جاری ہیں۔ عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ، کو اس کا اعتراف کرنا چاہئے۔

دوسری جانب کابل پر طالبان کے قبضے سے خطے میں جو نئی صورتحال سامنے آئی اور امریکہ کو ایک بار پھر اپنی فوجوں کے انخلا کے لیے پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی ۔

تاہم دوسری جانب ایک بارپھر امریکہ کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئی کہ وہ پاکستان میں عمران خان کی حکومت کو گرانا چاہتے ہیں ۔ اس کی وجہ سابق وزیراعظم کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی جانب سے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پارلیمان میں جمع کروائی تو عمران خان نے اس تحریک کی بنیاد کو بیرونی سازش قرار دیا جبکہ انہوں نے 27 مارچ کو اسلام آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران اپنی جیب سے ایک خط نکالا اور اُسے لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متحدہ اپوزیشن ایک ’بیرونی سازش‘ کے ذریعے اُن کی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ خط اس مبینہ سازش کا ثبوت ہے۔

اس خط کا معاملہ نیشنل سیکورٹی کے اجلاس بھی زیربحث آیا اور اس پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

تاہم اپنی حالیہ پریس بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی سلامتی کے اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں ہے، ہم پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

پاکستان کی متحدہ اپوزیشن کا اتحادعمران خان کو برطر ف کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے لیکن عمران خان بھی اپنا مقدمہ لیکر عوام کے پاس سڑکوں پر آگئے ہیں ۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان سے لیکر وزیراعظم عمران خان تک امریکہ پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ ہی ملوث رہا ہے

اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے عوام یہ فیصلہ کریں کہ ایسے اتحادی کے ساتھ کیا اس عدم اعتماد کے رویے کے ساتھ آگے بڑھا جائے؟ امریکہ کی دہری پالیسیوں کا دبائو قبول کیا جائے؟ فیصلہ کن گھڑی آگئی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھل کر یہ مباحثہ ہونا چاہئے جس میں ماضی میں پاکستان کے نازک موڑوں پر امریکی پالیسیوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں مسلسل سالوں  سے پاکستان کی فوج، پولیس، نیم فوجی تنظیموں اور پاکستان کے شہریوں کی قربانیوں کو عالمی برادری کے سامنے لایا جائے۔ بھارت کی سازشوں، بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی پاکستان میں کارروائیوں، کلبھوشن یادیو کے حوالے سے ‘را’ کی وارداتوں، افغانستان سے سرحد پار کرکے آنے والے افغان دہشت گردوں کی کارروائیوں کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے۔
پاکستان کی پارلیمنٹ پھر امریکہ سے آئندہ تعلقات کی شرائط طے کرے۔

کیونکہ تاریخ بار بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ ایک خود غرض اور مطلب پرست ریاست ہے۔جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے اس اتار چڑھاؤ میں اب یہ لیٹر اسکینڈل بھی یاد کیا جائیگا جو بلاواسطہ پاکستان کی منتخب حکومت کو گھر بھیجنے کا مبینہ کردار بنا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *