پاکستان میں سیاسی بےیقینی معیشت کے لیے خطرات جاری 808x454

پاکستان میں سیاسی بےیقینی معیشت کے لیے خطرات جاری

60 views

خدا خدا کرکے  نئی حکومت آخر کار  وفاقی کابینہ  کی تشکیل میں کامیاب ہوگئی ہے لیکن ایسالگتا نہیں ہے کہ ملک میں جاری اس وقت سیاسی بے یقینی تھم سکے گی اور یہی سیاسی بے یقینی معیشت کی صورتحال کے لیے مزید دباؤ اور خطرات بڑھارہی ہے۔  

پاکستان اس وقت شدید سیاسی بحران سے گزرہا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔  وزیراعظم شہباز شریف کی حلف برداری کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی  دیکھنے میں آئی لیکن ایک بار پھر ڈالر کی قیمت میں اضافہ جاری ہے۔

آج ہی انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر 1.93روپے اضافے سے 186.36 روپے کا ہوگیا۔ جبکہ گزشتہ تین روز میں ڈالر کی قدر میں 4.78 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے، تین روز پہلے انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 181.58 روپے تھی۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ  میں پاکستان میں اس سال معاشی ترقی، مہنگائی اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے اہداف پورے نہ ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس سال مہنگائی 11.2 فیصد کے ڈبل ڈیجیٹ میں رہنے کا امکان ہے جبکہ حکومت نے اوسط مہنگائی کا سالانہ ہدف 8 فیصد مقرر کیا تھا۔

اس کے علاوہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5.3 فیصد تک پہنچ جائے گا جبکہ ہدف 0.7 فیصد مقرر تھا،دوسری جانب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 19 ارب ڈالرز تک ہونے کا خدشہ ہے۔

جب یہ مہینہ شروع ہوا تھا تو تو اس کے پہلے ہفتے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ  بالکل سیاسی بے یقینی کا نتیجہ تھا  لیکن پچھلے ایک ہفتے کے استحکام کے بعد روپے کی قیمت میں مسلسل گراوٹ کا یہ نیا سلسلہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام آباد میں اقتدار کے کھلاڑیوں کی تبدیلی سے معیشت کا اعتماد اب تک تو بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے

جبکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ کہ آنے والے سال میں پاکستان کا جی ڈی پی گروتھ  4.8 فیصد کے ہدف کے مقابلے معاشی شرح نمو 4 فیصد اور اگلے سال 4.2 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے اور یہی اندازہ ساؤتھ ایشیا اکنامک فوکس نے بھی لگایا ہے کہ پاکستان کی معاشی شرح نمو چار فیصر رہیگی جبکہ توانائی اور اشیائے خورونوش کی مپنگائی میں عالمی سطح پر کمی کا بھی کوئی انکان ظاہر نہیں کیا گیا۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ سال ملک میں مزید مہنگائی کی ہی خبر لائیگا۔

اب ایسی صورتحال میں پاکستان کو اپنے اندرونی بیرونی قرضوں پر بہت ہی کڑی نظر رکھنی ہوگی جبکہ ملکی اور غیر ملکی قرضوں کو محتاط ہوکر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بڑھتے ہوئے قرضے بلاشبہ غیر معمولی توجہ کے متقاضی ہیں کیونکہ اس وقت پاکستان کی صنعتی پیداوار اور برآمدات کی سرگرمیاں ماند پڑی ہوئی ہیں ۔ جبکہ درآمدات کا حجم مسلسل بڑھتا جارہاہے۔  رواں مالی سال کے پلے نو ماہ کے دوران برآمدات تئیس ارب بائیس کروڑ ڈالر تھا جبکہ درٓمدات بتیس ارب ڈالر رہی تھیں۔

جی ڈی پی کے تناسب کے لحاظ سے توانائی پر دیجانے والی سبسڈی پاکستان میں جنوبی ایشیائی ممالک  میں سب سے زیادہ ہے جبکہ عالمی ادارے ملک میں توانائی پر دیجانے والی سبدڈی کو معیشت کے لیے مصیبت قرار دیتے ہیں

ماضی میں پاکستان کے توانائی کے سستے منصوبوں کے بجائے مہنگے منصوبوں پر انحصار کیا جس کا نتیجہ  آج ہم بھگت رہے ہیں۔ ابھی اس نوزائیدہ حکومت کو دو ہفتے بھی نہیں ہوئے لیکن بجلی کی قیمت میں اضافہ دوسری بار کی جارہی ہے۔ نئی حکومت کہہ ہی چکی ہے کی آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے  جس کا مطلب صاف ہے کہ ڈیزل پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا اور میہنگائی کی آنے والی نئی لہر عوام کے لیے مزید طوفان لائیگی ۔

ان مسائل کا حل صرف اور صرف سیاسی استحکام ہے اور ہمارے لیڈران کو ملک کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو بھلا کر مل بیٹھ کر فیصلے کریں ۔ ورنہ کہیں ہم بھی سری لنکا والی نہج پر نہ پہنچ   جائیں ۔ ہماری قومی ذمہ داری اور وطن کی محبت کا تقاضہ ہے کہ ہم ملک میں سیاسی استحکام لائیں  تاکہ ہماری معیشت جس سیاسی گرداب میں ہے اس سے نکل سکے ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *