loadshedding 808x454

حکومتی دعوے دھرے کے دھرے شدید گرمی میں لوڈشیڈنگ کا دوارنیہ پندرہ گھنٹوں پر جا پہنچا

55 views

پاکستان بھر میں شدید گرمی میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں لوگوں کا جینا محال ہوگیا ہے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئےہیں کراچی لاہور، راولپنڈی اسلام آباد کوئٹہ سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں بجلی کی آنکھ مچولی  نے شہریوں کو شدید اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

    رمضان المبارک کا مہینہ اور شدید گرمی میں روزے داروں کے لیے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کسی عذاب سے کم نہہیں ہے  سحر و افظار میں بجلی کی آنیاں  جانیاں نے روزہ داروں کو  شدید اذیت جھیلنے پر مجبور کر رکھاہے

ملک بھر میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 15گھنٹے تک پہنچنے سے شدید گرمی میں روزہ داروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ کاروبار زندگی بھی مفلوج ہو کر رہ گیا ۔

کئی کئی گھنٹوں تک بجلی کی بندش نے عوام کا جینا محال کردیا جبکہ شدید گرمی میں سحر و افطاربھی مشکل ہوگیا۔پنجاب کے شہری علاقوں میں آٹھ سے 9 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 10 سے 12 گھنٹے بجلی غائب رہنے لگی۔بہاولپورکے شہری علاقوں میں چار سے پانچ گھنٹے اور دیہی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 8سے 10گھنٹوں تک پہنچ گیا ۔

کراچی میں لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی چار سے چھ گھنٹے بجلی غائب رہنے لگی جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 8 سے 15 گھنٹوں تک پہنچ گیا۔نواب شاہ میں بجلی کی بارہ سے سولہ گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے ۔صوبہ خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں میں 8 اور دیہی علاقوں میں 12 گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ،

پیسکو حکام نے کہاصارفین کو بجلی کی مسلسل فراہمی کی کوشش کر رہے ہیں، فیڈرز پر زیادہ لوڈ کے باعث بعض علاقوں میں لوڈشیڈنگ جاری رہی ۔ترجمان کیسکو نے کہاکوئٹہ میں یومیہ 8 گھنٹے جبکہ ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں 12 گھنٹے تک بجلی بند کی جارہی ہے ۔

پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار17ہزارمیگاواٹ اور طلب 19ہزار میگاواٹ تک جاپہنچی ہے، دوپہر اور شام کے اوقات میں بجلی کی طلب 21 ہزار  میگاواٹ  تک ہو جاتی  ہے۔شہری علاقوں میں آٹھ سے دس گھنٹے اور دیہی علاقوں میں بتی کی بندش کا دورانیہ بارہ گھنٹے تک پہنچ گیا ہے

کراچی میں 100 میگاواٹ کا سائٹ بجلی گھر متبادل فیول پر نہیں چلایا جارہا اور پلانٹ گیس نہ ہونے کے سبب بند ہے لیکن ڈیزل پر نہیں چلایا جا رہا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ  بحران کی ایک وجہ کے الیکٹرک کے 900 میگا واٹ بجلی گھر منصوبے میں ایک سال کی غیر معمولی تاخیر بھی ہے۔

لیسکو ریجن کے مختلف علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ بجلی کی طلب بھی بڑھ گئی، لیسکو کی بجلی کی طلب 4250 میگاواٹ سے تجاوز کرگئی ہے۔ این پی سی سی کی جانب سے لیسکو کو 3650 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے

جبکہ لیسکو کا شارٹ فال 600 میگاواٹ سے بھی بڑھ گیا، بجلی کی پیداوار میں کمی کے باعث لیسکو کا کوٹہ بھی کم کردیا گیا،طلب و رسد کا فرق بڑھنے پر بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ شروع کردی گئی۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں 3 سے 4 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری جبکہ دیہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔

راولپنڈی میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے، پشاور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ گیس کی لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے

رمضان المبارک میں روزہ داروں کو سحری اور افطاری میں جس اذیت کا سامنا ہے حکمران اس سے بے خبر ہیں ۔بجلی آتی نہیں مگر بل برابر آ رہے ہیں ،اس بناپر بھی شہریوں میں حکومت کے خلاف غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔بجلی کا شارٹ فال 7ہزار 1سو میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔بجلی کی مجموعی پیداوار 14ہزار 4سو میگاواٹ جبکہ طلب 21ہزار 5سو میگاواٹ سے زائد ہے۔

عام علاقوں میں 10گھنٹے جبکہ زیادہ لائن لاسز والے علاقوں میں 16گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جان لیوا لوڈ شیڈنگ سے معیشت کو روزانہ کی بنیاد پر 3ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔

شہریوں نے حکومت کی جانب سے تمام تر دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ باتیں بنانے کی بجائے سنجیدہ اقدامات کی جانب توجہ دی جائے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *