پاکستان میں پندرہ مہینے بعد پولیوکیس رپورٹ پولیوفری ملک بننے کا خواب کب پورا ہوگا 808x454

پاکستان میں پندرہ مہینے بعد پولیوکیس رپورٹ پولیوفری ملک بننے کا خواب کب پورا ہوگا

68 views

پاکستان میں 15 مہینے کے بعد پولیو کا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے علاوہ تمام ممالک میں پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے۔سنجیدہ سوال یہ ہے کہ  ہم بحیثیت پاکستانی آج تک  پاکستان میں پولیو کا خاتمہ کیوں نہیں کر سکے؟

فہمیدہ یوسفی

قومی ادارہ برائے صحت کے مطابق پاکستان میں اس سے پہلے آخری پولیو کیس قلعہ عبداللہ بلوچستان میں27 جنوری 2021 میں رپورٹ ہوا تھا۔

وفاقی وزارت صحت کے حکام  کے مطابق پاکستان میں پولیو کیس رپورٹ ہونے کے بعد بنوں میں ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس پایا گیا ہے۔

پاکستان سےپولیو کا خاتمہ نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ پسماندہ اور دور دراز کے علاقے ہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں جن  علاقوں میں پولیو کے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، وہ دُوردراز کے پس ماندہ علاقے ہی ہیں، جہاں ورکرز کو بچّوں تک رسائی میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جن میں سال 2021 سے رپورٹ ہونے والا کیس قلعہ عبداللہ بلوچستان سے تھا ۔ جبکہ سال رواں کا پہلا کیس شمالی وزیرستان سے تعلق رکھتا ہے۔

دوسری جانب  صحت کی بنیادی سولیات کی عدم دستیابی  حفاظتی ٹیکوں کافقدان،خراب سیوریج سسٹم، آلودہ پانی(جس کے ذریعے وائرس پھیل رہا ہے)،صفائی ستھرائی کی ناقص صُورتِ حال،کوڑا کَرکَٹ ٹھکانے لگانے کے نا مناسب انتظامات، تعلیم و آگاہی کی کمی،پولیو کے حفاظتی قطروں سے متعلق منفی پروپیگنڈا،موسمی تبدیلیاں(کیوں کہ پولیو ٹیمز کی شدید موسم کے دِنوں میں نقل و حرکت محدود ہوجاتی ہے)، پہاڑی علاقوں میں سفرکی دشواریاں بھی پولیو کے خاتمہ نہ ہونے کی بڑی وجوہات ہیں۔

جبکہ ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ  بدقسمتی سے  پاکستان میں  مختلف  مقامات پر پولیو ٹیم پر حملے بھی کیے جاتے ہیں جس میں درجنوں رضاکاروں، ہیلتھ ورکروں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

 قومی پولیو پروگرام

پاکستان میں 1994 سے پہلے بیس ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے  جس کے بعد 1994 میں پولیو  پروگرام شروع کیا گیا  جب سے اب تک نناوے فیصد پولیو کیسز میں کمی آئی ہے ۔پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد سال  2014 میں 306 رہی جبکہ سال   2015 میں صرف 54 پولیو کیسز سامنے آئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2016ء  سے 2018ء تک پولیو کیسز میں واضح طور پر کمی ریکارڈ کی گئی سال  2019147 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے

جبکہ سال   2020 میں ملک بھر سے 84   کیسز رپورٹ ہوئے تھے

پاکستان میں سال  2021 میں میں صرف ایک ہی کیس رپورٹ ہوا تھا ۔  یہ کیس جنوری میں بلوچستان  قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہوا تھا  ۔

جبکہ اب پندرہ  مہینے بعد شمالی وزیرستان سے ایک بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

 پولیو مہم  کے لیے  ملک  کی ٹارگٹ پاپولیشن  یعنی  پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد   چالیس ملین ہے ۔ جبکہ سندھ میں تعداد  نو ملین ہے  جس میں 2.3 ملین   ٹارگٹ  پاپولیشن کراچی میں ہیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے فیلڈ امیونائزیشن کے عملے اور ان کی حفاظت کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں نے بہت  مشکل، خطرناک ماحول میں  حملوں کا سامنا  کرتے ہوئے فرائض کی ادائیگی میں مشغول ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کے کچھ علاقوں میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام کو غیر ملکی پروگرام سمجھا جاتا ہے کیونکہ اب بھی مقامی رہنما اس کی قیادت کرتے نظر نہیں آتے۔۔

پولیو مہم ناکام بنانے کے لیےمختلف ہتھکنڈوں کا استعمال، قبائلی اضلاع اوربلوچستان میں سکیوریٹی کی صُورتِ حال،پولیو ورکرز پر حملے اوران کےاغواجیسے عوامل بھی انسدادِ پولیو مہم میں رکاوٹ کا سبب  بنتے ہیں ۔

سال 2021 میں  جرنل آف دی یورپین اکنامک ایسوسی ایشن کے شمارے میں اپنی ایک رپورٹ میں دس سالہ اعداد وشمار کی بنیاد پر  انکشاف کیا کہ ہ پاکستان میں اسلام پسندوں کی اکثریتی آبادی والے علاقوں میں پولیو ویکسی نیشن کی شرح میں 39 فیصد تک کمی آچکی ہے۔

البتہ، حالیہ برسوں میں پولیو ویکسین کے خلاف عوامی مزاحمت کی بڑی وجہ اسلام پسند لوگوں کی بڑی تعداد کا پولیو کارکنان کو ’’خفیہ جاسوس تنظیموں کا نمائندہ‘‘ سمجھنا ہے۔

ان شبہات کے حق میں اُسی جعلی پولیو مہم کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے جو 2011 میں امریکی سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کو پکڑنے کےلیے انجام دی تھی۔ (اس جعلی پولیو مہم کےلیے سی آئی اے نے مقامی ڈاکٹر شکیل آفریدی کا استعمال کیا تھا۔)

یہی نہیں بلکہ آج شدت پسندوں کے ہاتھوں زخمی اور قتل ہونے والے پولیو کارکنان اور انتظامی اہلکاروں بڑی وجہ بھی یہی سوچ ہے

پاکستان میں  پولیو کے لیے  حساس ترین قرار دیے جانے والے علاقے  مندرجہ ذیل ہیں

٭ پاکستان کا سب سے بڑا  شہر کراچی

٭ کوئٹہ بلاک جس میں کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ کے اضلاع شامل ہیں

٭ فاٹا اور خیبر پختونخواہ  جس میں پاک افغان سرحد سے متصل فا ٹا کے تین ملحقہ علاقے (ایف آر ایجنسیاں) اور ضلع پشاورصوبہ خیبر پختونخواہ شامل ہیں

کیا سندھ میں پولیو کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے ؟؟

خوش آئند ہے کہ تین  سال میں پہلی بار سندھ  کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس نہیں پایا گیا جبکہ صوبےمیں پچھلے ایک سال سےاب تک  پولیو وائرس کا کوئی کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ سندھ میں آخری کیس  14  جولائی2020 کو رپورٹ ہوا۔

پولیو کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لیے، ہمیں حقیقی شراکت داری کی ضرورت ہے جس میں مکمل منصوبہ بندی اور حکمت عملی کو بامعنی انداز میں تشکیل دینے کے لیے مقامی ان پٹ کا استعمال کرنا چاہیے

 ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ پولیو کا خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا

پاکستان  کو اب بھی پولیو فری ملک کا درجہ حاصل کرنے کے لیے تین سال کا عرصہ درکار ہے جس میں کوئی بھی پولیو کیس یا سیمپل  ملک بھر  سے رپورٹ نہ ہو۔

تاہم اب رواں سال پولیو کیس رپورٹ ہونے اور بنوں میں ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی نے ایک بار پھر پاکستان کا پولیو فری ملک بننے کے خواب کو شدید دھچکا پہنچادیا ہے۔

جبکہ ملک بھر میں وقفے وقفے سے جاری پولیو مہم کو کامیاب بنانا  ذمہ دار شہری کے طور پر ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔تاکہ پاکستان کا پولیوفری ملک بننے کا خواب پورا ہوجائے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *