dua zahracase 808x454

دعا زہرہ زندہ سلامت سامنے آگئی اللہ آگے اس کے لیے آسانی فرمائے

158 views

پچھلے دس دنوں سے کراچی سے لاپتہ لڑکی دعا زہرہ کا کیس ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنا رہا ۔ ہر طرف بچی کی بازیابی کے لیے دعائیں کی جاتی رہیں ۔پاکستان کے مشہور شوبز ستارے جن میں ماہرہ خان اور سجل علی شامل ہیں وہ بھی بچی کی  محفوظ بازیابی کے لیے  ٹویٹ کرتی رہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین بھی دعا زہرہ کے کیس پر خصوصی نظر رکھے ہوئے تھے ۔

آخرکار پولیس کی محنت رنگ لائی اور اس گمشدگی کا ڈراپ سین ہوگیا اور معلوم یہ ہوا کہ دعا زہرہ نے ظہیر احمد نامی شخص سے شادی کرلی ہے۔

دعازہرہ   کا وڈیو بیان بھی سامنے آگیا ہے ۔ جس کے مطابق اس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے ظہیر احمد  سے شادی کی ہے جبکہ اس نے یہ بھی کہا کہ اس کے والدین کہیں اور شادی کرنا چاہتے تھے جس کے لیے وہ رضامند نہیں تھی اس کا مزید یہ کہنا تھا کہ وہ اٹھارہ سال کی ہے گھر والے میری عمر غلط بتارہے ہیں اور مجھ پر تشدد بھی کرتے تھے ۔

  دوسری جانب دعا زہرہ اور اس کے شوہر ظہیر احمد کو پولیس نے پاکپتن سے تحویل میں لیا ہے اور ان دونوں کو لاہور منتقل کیا گیا جہاں  دعا زہرہ نے اپنے شوہرکے ساتھ پولیس کو ویڈیو بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔

دعا زہرہ اور ظہیر نے مقامی عدالت میں ہراسمنٹ پٹیشن بھی دائر کی سیشن عدالت نے ایس ایچ او وحدت کالونی کو دعا زہرہ کو ہراساں کرنے سے بھی روک دیا اور اس کے ساتھ ہی دعا زہرہ کی درخواست نمٹا دی۔

یہی نہیں دعا زہرہ نے اپنے والد کے خلاف  مقدمہ  بھی کر دیا جس میں الزام لگایا ہے کہ والد اور کزن نے مجھے اغواء کرنے کی کوشش کی ہے۔

دعا زہرہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اپنی پسند سے شادی کی ہے، خاوند کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، میرے والد اور کزن کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب کراچی میں پریس کانفرنس میں دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی کا کہنا تھا کہ مکمل تفتیش کی جائے کہ کیا معاملہ ہے۔ ظہیراحمد کو نہیں جانتا۔ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کو لے جانا اغوا ہے۔

دعا زہرہ کے والد کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تومیری شادی کو بھی 18 سال نہیں ہوئے۔ درخواست ہے کہ دعا کو کراچی لایا جائے اور بچی مجھے نہیں تو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو دی جائے۔ ہم غلط ہوتے تو میڈیا پرکیوں آتے۔

مجسٹریٹ کی عدالت نے دعا زہرہ کو والد کے خلاف شواہد پیش کرنے کے لیے 18 مئی کو بلا لیا۔

اس کیس کا سب سے  خطرناک پہلو یہ ہے کہ دعا کے والدین نے اس بارے میں کئی جھوٹ بولے جبکہ افسوسناک ہے کہ ان کی جانب سے اس معاملے کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کی بھی کوشش کی گئی ۔

کئی ایسے معاملات میں بچیاں اپنی مرضی سے گئی ہوتی ہیں اور بعد میں نکاح نامے سامنے آتے ہیں۔

 جبکہ اس طرح کے معاملات میں جھوٹ بولے جائیں تو پھر   جو اغوا کے جینوئن کیسز کے لئے بھی آواز اٹھانا مشکل ہوجاتی ہے۔

گھر سے نکلنا کسی بھی لڑکی کا انتہائی اقدام ہوتا ہے اس سے پہلے یقینی طور پر  وہ اپنی پسند و شادی کے حوالے سے کم از کم ماں سے بہت ساری باتیں کرچکی ہوتی ہے ۔

لڑکی کی پہلی دوسری اور تیسری ترجیح والدین کی رضامندی سے شادی کرنا ہوتی ہے وہ پرانا زمانہ تھا جب والدین اپنی مرضی اور انا کے زیر اثر رشتے کیا کرتے یعنی اس قسم والے کہ ” بس جو میں نے کہہ دیا وہ ہوگا ورنہ میری لاش سے گزرنا” ٹائپ  کے سستے جذبات والے جملے  بول کر اپنی بات منوالیا کرتے تھے۔

یہ آج کل کی جنریشن ہے والدین سے گزارش ہے کہ  بچوں کو سنیں دوستی کریں انکی پسند ناپسند کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں ضروری تحقیق کے بعد رشتہ کردیں۔

 دعا کے معاملے کا سب سے خوفناک پہلو پہلے سے منقسم معاشرے کو مزید فرقہ وارانہ تقسیم میں دھکیلنا تھا جس سے گریز بہت لازم ہے ۔

یہ سارا معاملہ گھر کی چار دیواری میں خوش اسلوبی سے نمٹ سکتا تھا مگر والدین کی جہالت یا بیوقوفی سے تماشہ لگا امید ہے کہ اس واقعے کو غلط طریقے سے حل کرنے کی دعا کے والدین کے طرز عمل سے بہت سارے والدین نے بھی بہت کچھ سیکھ لیا ہوگا۔

دعا نے بہت چھوٹی عمر میں یہ سب کیا ، اس طرح ہونا نہیں چاہیے  تھا مگر ہوچکا اب اگلا کام زندگی کے آئندہ مراحل کو اچھے انداز سے طے کرنے کا ہے جس میں دعا کے والدین( رشتہ داروں ۔دوستوں جن سے توقع ہے کہ) بھاگنے کے طعنے دینے کے بجائے اسکی مدد کریں گے تاکہ وہ اس نفسیاتی اثر سے نکل سکے جو ان دس دنوں میں اسکی زندگی کا اٹوٹ انگ بن گئے۔

خیر سب سے آخر میں اچھی بات یہی ہے کہ دعا زہرہ سامنے آ گئی۔ اللہ پاک ا سکے لئے آسانی فرمائے، آمین۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *