loadshedding 1 808x454

ملک بھر میں بجلی کابحران ہر کوئی پریشان مستقل حل کی فوری ضرورت

38 views

پاکستان بھر میں بجلی کا بحران  ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے شدید گرمی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا عذاب بنارکھا ہے ۔  حکومت نے حالیہ دنوں میں متعدد بار اس بحران کے خاتمے کی یقین دہانی کروائی ہے  لیکن ابھی تک تو کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آرہی لگتا یوں ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔

ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی طلب 26 ہزار میگاواٹ ہے، بجلی گھروں کو ایل این جی اور فرنس آئل کی مطلوبہ فراہمی تاحال نہ ہوسکی لیکن پاور پلانٹس کو آئندہ چند روز میں ایندھن کی مطلوبہ فراہمی شروع کر دی جائے گی۔

بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 36 ہزار16 میگاواٹ ہے، پن بجلی ذرائع سے 3 ہزار674 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور سرکاری تھرمل پاور پلانٹس صرف 786 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔اسکے علاوہ نجی شعبے کے بجلی گھروں کی پیداوار 9 ہزار526 میگاواٹ ہے، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس 487 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، سولر پاور پلانٹس سے 104 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جبکہ بگاس سے 141 اور ایٹمی بجلی گھر 3 ہزار312 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔

ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 10 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ ہائی لاسز والے علاقوں میں 18 گھنٹے تک بجلی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔

ایک ہفتہ پہلے جو بحران چھ ہزار میگا واٹ کے قریب تھا اب ساڑھے سات ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ انیدھن کی قلت اور تکنیکی مسائل کے باعث پاور پلانٹس کی بندش   شارٹ فال کا اہم سبب اور بنیادی وجہ ہے۔

لیکن دوسری جانب یہ بھی تو سچ ہے کہ ایڈمنسٹریشن میں بے تحاشہ کرپشن اور بدنظمی بھی ہمارے ہاں مسائل کی جڑ ہے۔ ہم جب تک شعبہ جاتی بے انتظامی ہر قابو نہیں پاتے قومی وسائل کا بھرپور استعمال کیونکر ممکن ہوسکے گا ۔

بجلی کے شعبے میں کرپشن اور بدنظمی کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے دور حکومت میں گردشی قرضوں میں 1328 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال دسمبر میں ان قرضوں کا حجم 2476 ارب تک پہنچ گیا تھا۔ بجلی گھروں کو بروقت ادائیگی نہ ہونا ملک میں بجلی بحران کا بنیادی سبب ہے ۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملے پر ہمارے قانون ساز کوئی پائیدار حل نہیں نکال سکے ۔ نہ ہی کبھی اس ایشو پر کوئی قومی پالیسی تشکیل دی جاسکی ہے۔ جو بھی سیاسی جماعت اقتدار میں آتی ہے وہ اپنے نقطہ نظر سے دیکھتی ہے کسی کو ان گردشی قرضوں کے پیچھے  نجی بجلی گھروں کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے لگتے ہیں تو کسی کو بجلی کی مد میں دیجانے والی سبسڈی اس کا سبب لگتا ہے ۔

مگر تلخ بات یہ ہے کہ توانائی کے نرخوں میں جس قدر اضافہ ہوا ہے اس  کے بعد تو عام صارفین کو کسی قسم کی کوئی رعایت اور سبسڈی شاید خواب میں ہی ممکن ہے ۔

دوسری طرف بجلی کی چوری اور مختلف لائن لاسز بھی موجود ہیں جن کے تدارک کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا جاسکا جس کے باعث پاکستان میں بجلی کے لائن لاسزبہت زیادہ ہیں۔ جبکہ صارفین سے وصولی کےمعاملات ٹرانسمیشن اور میٹرنگ کے ناقص نظام کی وجہ سے بھی بے تحاشہ مسائل موجود ہیں۔

ان سب پر کام کرنے کے لیے یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوگا کہ یہ سب بجلی میں ٹیرف میں رعایت کی وجہ سے ہورہا ہے۔ اس سے تو نظام مزید عدم توازن کا شکار ہوگا اور مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوگا۔

عمران خان نے اپنے دور حکومت میں سرکلر ڈیبٹ مینجمنٹ پلان  تشکیل دیا تھا جس کا بنیادی مقصد گردشی قرضوں کو کم کرنا تھا  لیکن دیکھنا یہ ہوگا حکومت کی اچانک تبدیلی سے کہیں اس منصوبے کو تو نقصان نہیں ہوگا کیونکہ اس منصوبے پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے ۔

واجبات کی عدم ادائیگی بجلی کے شعبے میں کس قدر مسائل کا سبب بن رہے ہیں اس کے لیے یہ دیکھ لینا کافی ہے کہ سی پیک کے تحت کوئلے سے لگائے گئے بجلی گھروں کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں سے1980 میگا واٹ کمی کی وجہ یہ ہے کہ ان بجلی گھروں  کو 300 ارب روپے کی ادائیگی ممکن نہیں ہوسکی۔

موجودہ حکومت کو نجی شعبے کے بجلی گھروں کے ساتھ ٹیرف اور واجبات کے نظام پر بھی نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے جبکہ تھرمل انرجی کے متبادل وسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

ملک میں اس وقت جو بھی آبی ذخائر اور پن بجلی کے پروجیکٹ جاری ہیں ان کو اپنی مقررہ مدت پر ہی مکمل ہونا چاہیے دیامیر بھاشا مہمند ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی تکمیل کو بھی ممکن بنانا  ضرروی ہے۔

ملک بھر میں بجلی کا بحران اس بات کا متقاضی ہے کہ حکومتی سطح سے بیان بازی اور پچھلی حکومتوں کو کوسنے  کے بجائے  کوئی مستقل اور پائیدار حل تلاش کیا جائے اور اب کچھ کام  ہوتا نظر  آنا چاہیے ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *