childrape 808x454

آٹھ سالہ شاکر کی زیادتی کےبعد ذبح کچلی مسلی لاش ہم سے سوال کرتی ہے

84 views

میرا آٹھ سالہ شاکر بازار کی روٹی اور برگر بہت شوق سے کھاتا تھا اس دن بھی ضد کرکے بازار کی روٹی لینے گیا تھا مجھے کیا پتہ تھا کہ آخری بار اس کی ضد پوری کررہا ہوں ۔ اس کے بعد اپنے بچے کو کبھی زندہ سلامت نہیں دیکھ سکونگا اور جس حال میں اس کو میں نے دیکھا خدا کسی دشمن کو بھی اس کا بچہ اس حال میں نہ دکھائے۔ میرے بچے کی خون میں لت پت لاش لائبریری کے عقب میں بند گلی میں پڑی تھی۔ یہ کہنا ہے اس بدنصیب باپ عبدالرشید کا جس نے ابھی تو اپنے آٹھ سالہ شاکر کے ارمان اور لاڈ بھی ٹھیک سے نہیں کیے تھے ۔

ان معصوموں کی زیادتی کے بعد کچرا گھروں میں پھینکی گئی لاشیں دیکھ  کر  زمین کیوں نہیں کانپ جاتی ہے یہ آسمان کیوں نہیں گرجاتا ہے بس اب قیامت کیوں نہیں آجاتی ہے اب کونسی کسر رہ گئی ہے۔ ان معصوموں کی دنیا میں تو ابھی بس کھلونے ٹافیاں کارٹون ہوتے ہیں اس دنیا میں شیطان کہاں سے آگئے۔

ان کی معصوم دنیا میں تو  ان کے جیسے چھوٹے چھوٹے پیارے پیارے دوست ہوتے ہیں بہن بھائی ہوتے ہیں اسکول ہوتا ہے  ماں باپ ہوتے ہیں جن سے وہ رور رو کر ضد کرتے ہیں  لیکن اس دنیا میں انہیں رلا رلا کر جان لینے تک کی اذیت دینے والے کہاں سے آگئے۔  ان معصوموں کی سبریدہ کٹی پھٹی لاشیں دیکھ کر ایک بار تو انسانیت بھی لرز کر رہ جاتی ہوگی ۔

کیا ان شیطانوں کا  ایک بار بھی دل نہیں کانپتا ایک بار بھی  احساس ہوتا کہ کس بے دردی سے ان معصوم کلیوں کو مسل رہے ہیں یہ تو ابھی اس قابل بھی نہیں کہ اپنی تکلیف کے بارے میں صحیح سے بتا بھی سکیں۔ بچوں سے زیادتی  کوئی ذہنی مرض نہیں ہے نا ہی یہ کوئی پاگل پن ہے یہ صرف اور صرف شیطانیت ہے غلاظت ہے ذلالت ہے  اس جرم کی تو کسی صورت نہ معافی ہے نہ تلافی ہے ۔ یہ جرم بھی نہیں ہے یہ تو وہ گناہ ہے جس کے بعد بخشش تو ناممکن ہے ۔

کیا ان معصوموں کی سسکیاں ان کے گھر والوں کی آہیں ہمارے ارباب اقتدار تک پہنچ رہی ہیں جب بھی کوئی ایسا واقعہ رپورٹ ہوجائے جس کو میڈیا کی توجہ مل جائے وہاں قانون بھی حرکت میں آجاتا ہے اور سیاسی بیان بازیاں بھی سامنے آجاتی ہیں ۔ لیکن ان کا کیا جہاں یہ کیسز رپورٹ ہوتے ہی نہیں جہاں یہ درندے خون آشام بھیڑیے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے ان معصوم پھولوں کو نشانہ بنالیتے ہیں ۔

ساحل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گذشتہ برس بچوں سے جنسی تشدد کے واقعات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے اور 92 سے زیادہ بچوں کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔

بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات رپورٹ کرنے والے ادارے ساحل کے مطابق ملک میں سنہ 2021 میں بچوں سے جنسی تشدد کے کل 3852 کیسز سامنے آئے ہیں ان میں سے 2275 واقعات ریپ کے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ‘بچوں سے جنسی تشدد کے 2275 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 750 میں بچوں سے ریپ کیا گیا، 676 میں جنسی تشدد، 561 میں ریپ کی کوشش، 133 واقعات میں ریپ اور غیر اخلاقی ویڈیوز، 87 واقعات میں ریپ کے بعد قتل جبکہ 68 واقعات میں بچوں کے قریبی رشتے دار ملوث پائے گئے ہیں۔’

ان واقعات میں تناسب دیکھیں تو 54 فیصد لڑکیاں اور 46 فیصد لڑکے ریپ کا شکار ہوئے یعنی 2068 لڑکیاں اور 1784 لڑکے ریپ کا نشانہ بنے۔

یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں روزانہ دس سے زیادہ بچے ریپ کا نشانہ بنتے ہیں۔ گذشتہ برس 43 فیصد ریپ کے کیسز ملک کے شہری علاقوں جبکہ 57 فیصد دیہی علاقوں میں پیش آئے۔

ان واقعات میں سے 63 فیصد پنجاب، 23 فیصد سندھ، چھ فیصد اسلام آباد، پانچ فیصد خیبر پختونخوا اور دو فیصد بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں پیش آئے۔

یہ واقعات پورے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی اخباروں میں چھپنے والی رپورٹس کی بنیادوں پر مرتب کیے گئے ہیں۔ کل واقعات جو اخبارات کی خبروں سے ڈیٹا کی شکل میں مرتب کیے گئے ہیں میں سے 84 فیصد کیسز پولیس کے پاس رجسٹرڈ ہوئے۔

ساحل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنہ 2020 کے 2960 کیسز کے مقابلے میں سنہ 2021 میں 3852 کیسز سامنے آئے یعنی ان جرائم میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔

سب سے زیادہ کیسز 11 سے 15 برس کی عمر کی حد میں موجود لڑکے اور لڑکیوں کے سامنے آئے جن میں لڑکیوں کے کیسز کی تعداد 617 جبکہ لڑکوں کے کیسز کی تعداد 703 تھی۔ یہاں یہ بات تشویشناک ہے کہ پانچ برس تک کی عمر کے بچوں کے ساتھ ریپ کے کیسز میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ چھ سے 10 برس کی عمر کے بچوں کے 821 کیسز میں لڑکوں کی تعداد 444 تھی۔ ان میں سے 39 بچوں کو ریپ کے بعد قتل کیا گیا۔ اسی طرح 11 سے 15 برس کی عمر کے لڑکے لڑکیوں کی نسبت زیادہ ریپ کا شکار ہوئے۔ ان میں 56 فیصد لڑکے اور 44 فیصد لڑکیاں ریپ کا شکار ہوئیں

ساحل کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2021 میں ریپ کا شکار ہونے والے بچوں میں سے 36 فیصد کو بند جگہوں پر نشانہ بنایا گیا جن میں فیکٹری، جیل، ورکشاپس، ہسپتال، پولیس سٹیشن، تعلیمی و دینی اداروں کے علاوہ خالی عمارتوں کو استعمال کیا گیا۔

447 کیسز میں ریپ کا شکار ہونے والوں نے اپنی منتخب کردہ جگہ لے جا کر بچوں کو نشانہ بنایا جبکہ 588 کیسز میں ریپ کرنے والے انھیں اپنی رہائش گاہوں پر لے کر گئے۔

ساحل کا کہنا ہے کہ بچوں کے اپنے ہی گھروں میں ریپ کے شکار ہونے کے تناسب میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔

تین ہزار سے زیادہ ریپ کے واقعات میں 17 فیصد کھلی جگہوں میں پیش آئے۔ جن میں پارک، گلی، بس سٹاپ، مارکیٹ، خالی پلاٹس، جنگل اور قبرستان شامل ہیں۔ سب سے زیادہ واقعات گلیوں میں پیش آئے جن کی تعداد 291 بنتی ہے۔

ساحل کی رپورٹ کے مطابق چھ سال کے وقفے کے بعد پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ضلع قصور میں ایک مرتبہ پھر بچوں کے ساتھ ریپ کا نشانہ بننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں 298 بچے زیادتی کا نشانہ بنے۔ دوسرا نمبر ضلع راولپنڈی کا ہے، جہاں 292 کیسز سامنے آئے۔ تیسرا نمبر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا ہے جہاں 247 کیسز رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق 52 فیصد یعنی نصف سے زیادہ کیسز قصور، راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالا، سیالکوٹ، خیر پور، لاہور، اوکاڑہ اور مظفر گڑھ میں پیش آئے

ریپ کے کیسز کو دیکھیں تو بھی قصور کا نمبر پہلا ہے جہاں 179 کیسز سامنے آئے، فیصل آباد میں 173، گوجرانولا میں 141 اور راولپنڈی میں 138 کیسز سامنے آئے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں جنسی زیادتی کے کل 74 کیسز سامنے آئے لاہور میں تعداد 111 بتائی گئی۔

یہ تعداد دیکھ کر سوچ کر جھر جھری سی آجاتی ہے کہ ہمارا مستقبل ہمارے معصوم کس قدر غیر محفوظ ہیں بچوں سے زیادتی، تشدد، ریپ کیسز  کے بڑھتے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں ۔

ساتھ ہی یہ بڑھتی تعداد یہ زیادتی کے بعد کیے جانے والے بے رحمی  اور وحشیانہ قتل اس صورتحال کی طرف بھی اشارہ کررہے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کتنی تیزی سے کس قدر پستی کی طرف جارہا ہے ۔

آٹھ سالہ شاکر کے ساتھ زیادتی اور قتل کا مجرم خود بھی ابھی سترہ سال کا ہے اور بہت زیادہ بگڑا ہوا ہے جس کے والدین نے اسے ہر طرح کی عیاشی کی چھوٹ اورپیسے  دیکر  اپنا فرض پورا کرلیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے نشے میں دھت آٹھ سالہ معصوم کو نہ صرف اپنی  ہوس کا نشانہ بنا ڈالا بلکہ تیز دھار آلے سے اس کا گلا بھی کاٹ ڈالا ۔

اس جنسی درندے کو تو خیر اپنے کیے پر کسی قسم کی شرمندگی نہیں ہوگی کیونکہ اگر ہوتی تو ایسا سفاکی بھرا قدم اٹھاتا ہی کیوں ۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا اس جنسی درنندے کو قرار واقعی سزا ملیگی یا پھر اس کو کمر عمری ثبوت کی عدم موجودگی اور شک کے فائدے دیکر چھوڑ دیا جائیگا تاکہ یہ باہر آکر پھر کسی اور معصوم کو اپنی ہوس کا نشانہ بناسکے ۔

آٹھ سالہ معصوم شاکر کی یہ مسلی کچلی لاش ہم سے ارباب اختیار سے سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا میرے قاتلوں کو عبرتناک سزا ملیگی کیا ان کا انجام ایسا ہوگا کہ کوئی بھی کسی معصوم کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے سے پہلے سوچے ۔

یہ معصوم کچلی مسلی لاش ہم سے انصاف مانگ رہی ہے  کیا انصاف ملیگا ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *