heatwave Pakistan 1 808x454

ہیٹ ویو ملک بھر میں شدید گرمی احیتاط کریں جان بھی جاسکتی ہے

57 views

اس وقت ملک بھر میں ہیٹ ویو جاری ہے اور  شدید گرمی  کی لہر نے پورے ملک کو  پاکستان کے بیشتر علاقوں میں گرمی کی لہر مئی کے آخر تک شدت کے ساتھ برقرار رہ سکتی ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں شدید گرمی کی لہر رواں ماہ کے آخر تک برقرار رہ سکتی ہے جبکہ  کراچی میں رواں ہفتے، 18 مئی سے ہیٹ ویو دوبارہ شدید ہونے کا امکان ہے۔

انسانی جسم کا درجہ حرارت 41 ڈگری پر پہنچ جائے تو موت واقع ہونے کے امکانات 90 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ (موسمی درجہ حرارت نہیں انسانی جسم کا درجہ حرارت) اسی لئے شدید گرمی سے بزرگ لوگ بہت زیادہ متاثر ھوتے ھیں۔ لہذا بہتر ھے کے انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے ۔

اس شدید ترین موسم میں بے تحاشہ احیتاط  کی ضرورت ہے ورنہ لو لگنے یا ہیٹ اسٹروک سے   موت بھی  ہوسکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق لولگنے یا ہیٹ اسٹروک   سے انسانی جسم کے عضلات بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔ دل کے عضلات بھی کمزوری کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے ان کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔ سانس کے عمل میں دقت اور تکلیف ہو جاتی ہے۔ گردوں پر برا اثر پڑتا ہے جس سے پیشاب کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے یا گردے فیل ہو سکتے ہیں۔ جگر کے کام پر برا اثر پیدا ہوتا ہے جس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ خون کے انجماد میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس سے دل اور دماغ کی شریانوں میں خون جم جاتا ہے۔ اعصابی نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے جس سے انسان کومے میں چلا جاتا ہے۔

کیا  آپ جانتے ہیں لو یا شدیدگرمی لگنے کی علامات کون کون سی ہوتی ہیں؟

لو یا شدید گرمی کی علامات میں قے یا متلی بار ہوتی ہے جس سے نمکیات اور پانی کی مزید کمی واقع ہو جاتی ہے۔ زیادہ پسینہ آنے کی وجہ سے جسم میں نمکیات کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات بہت زیادہ ٹھنڈ لگنا شروع ہو جاتی ہے۔

مریض کو مرگی نما دورے بھی  پڑ سکتے ہیں جو کافی پریشان کن ہوتے ہیں۔ بلڈ پریشر بہت کم ہو جاتا ہے جس میں مریض SHOCK میں چلا جاتا ہے۔ پیشاب کم آنا شروع ہو جاتا ہے۔ ۔جلد پر دھوپ کے برے اثرات کی وجہ سے الرجی، جلد کا جل جانا اور خارش وغیرہ ہو سکتی ہے۔

لو یا شدیدگرمی کے اثرات سے کیسے بچاؤ کیسے ممکن ہے ؟

پاکستان  میں سال میں تقریباً 8ماہ گرمی کا زور ہوتا ہے اور بہت اہم ہے  کہ لوگوں  کو اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن چینلزکے ذریعے حفاظتی تدابیر کے بارے میں بتایا جائے  اوروہ  کس طرح اس شدید گرمی کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ شدید  گرمی یا لو سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔

1:۔ شدید گرمی میں خاص طور پر دوپہر کو گھر سے باہر غیرضروری طور پر مت جائیں۔انتہائی گرمی کے اوقات صبح 9 سے شام 6 بجے تک بلا ضروری سفر نا کریں

2:۔ زیادہ سے زیادہ وقت خاص طور پر دوپہر کے وقت گھر میں یا کسی ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پر گزاریں۔

3:۔ موسم کے لحاظ سے مناسب لباس تن زیب کیا جائے اس کے لئے کاٹن کے کپڑے جو کہ ہوا دار ہلکے اور اُجلے ہوں پہننے چاہئیں کیونکہ سفید یا اُجلی شے سے حرات منعکس ہوتی ہے جبکہ سیاہ لباس حرارت جذب کرتا ہے۔کالے رنگ کے اور مکمل بند جوتے کم سے کم پہنیں

4:۔ بچوں اور عمر رسیدہ حضرات کو باہر بالکل نہیں نکلنا چاہیے۔

5:۔ پانی اور نمکیات کا استعمال کرنا چاہیے بشرطیکہ اس کی کوئی ممانعت نہ کی گئی ہو۔پانی جس قدر ممکن ہو پئیں ۔ ٹھنڈے پانی سے بجائے گھڑے کا پانی استمعال کریں۔ پیاس کی شدت کنٹرول میں رہتی ہے

6:۔ مرچ، مصالحہ دار اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے۔ چائے اور کافی کا زیادہ استعمال بھی مضر صحت ہے ۔ نمک  کا کم سے کم استمعال کریں سونف اور الائچی کا قہوہ گرمی کا بہترین توڑ ھے املی اور آلو بخارے کا زلال پیاس کی شدت کو انتہائی کم کر دیتا ھے

7:۔گرمیوں میں روزانہ کم ازکم ایک یادو مرتبہ ضرور نہانا چاہیے تاکہ جلد پر پسینے اور دیگر مضر اثرات سے بچا جا سکے۔

8:۔ خوراک میں زیادہ تر سبزیاں استعمال کی جائیں۔ کدو ، ٹینڈے ، اروی ، گھیا توری ، پیٹھا ، مولی ، کھیرا ، دودھ ، دیسی گھی ، شربت بزوری ، بلنگو اور شربت بادام پھلوں میں تربوز ، کیلا , خوبانی اور خربوزے کا استمعال کریں ۔

9:۔گوشت ، انڈہ ، اچار ، کوک ، پیسی ، تیز مرچ مصالحے ، پالک ، میتھی وغیرہ کھانے سے اجتناب کریں

10:۔ اگر باہر نکلنا ضروری ہو تب چھتری یا سر کو ڈھانپ کر اور سائے میں چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ گھر سے نکلتے وقت گیلا تولیہ ضرور ساتھ رکھیں ۔ ممکن ہو تو سر اور گردن کسی کپڑے سے ضرور ڈھانپیں اور عینک کا استمعال بھی کریں

11:۔۔دن کے اوقات میں اگر باہر جانا ہو تو بند گاڑی میں کبھی بھی بچوں یا جانوروں کو نہ چھوڑیں۔ یہ عمل ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

  12 :۔   پرندوں کے لئیے دانہ پانی چھت پر رکھیں

 اگر لو یا شدید گرمی کا اثر ہو جاتا ہے تو مریض کو کیا کرنا چاہیے؟

1:۔ مریض کو فوراً گرمی یا زیادہ درجہ حرارت والی جگہ سے ہٹایا جائے۔

2:۔مریض کو ٹھنڈی، سایہ دار جگہ پر رکھا جائے اور پنکھا چلا دیا جائے۔

3:۔مریض کے کپڑے اتار کر اسے پنکھے کے نیچے رکھا جائے اور عام پانی سے اس کے اوپر سپرے کیا جائے تاکہ عملِ تنجیر سے حرارت خارج ہو جائے اور جسم کا درجہ حرارت کم ہو جائے۔

4:۔ مریض کی گردن، بغلوں اور ٹانگوں کے درمیان برف کے ٹکڑے رکھنے چاہیں۔

5:۔ یہ عمل کرتے جائیں جب تک مریض کا درجہ حرارت تقریباً 102oF(39oC) ہو جائے پھر اس عمل کوآہستہ آہستہ بند کردیں۔

6:۔ مریض کو بعض اوقات ٹھنڈے پانی کا ENEMA بھی دے سکتے ہیں۔

7:۔ مریض کو ایئر کنڈیشنرمیں رکھنا چاہیے۔

8:۔ نمکیات اور پانی کی کمی کیلئے N.SALINE کی ڈرپ یا پھر نمکول کا استعمال کرنا چاہیے۔

9:۔ بلڈ پریشر اور نبض اور سانس کی رفتار کی مسلسل نگہداشت کرنی چاہیے۔

ہیٹ اسٹروک یا لولگنے کے بعد مریض کا علاج ایک یا دو گھنٹے کے دوران کرنا چاہیے ورنہ موت ہو سکتی ہے۔

اس شدید موسم میں جس قدر احیتاط کرسکتے ہیں کریں تاکہ کسی قسم کے جانی نقصان سے بچا جاسکے ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *