haris mother 808x454

قیامت ہے جب مائیں نہیں رہتیں تو پیروں کے نیچے زمین نہیں رہتی

155 views

وہ رور رو کر بے چین ہو ہو کر زمین پر گری زخموں میں لت پت ماں کو گھبرا گھبرا کر پکاررہا تھا  پریشان آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا کہہ رہا تھا  کہ ’ماں اُٹھو، مما جلدی اُٹھو‘ اور اس کی ماں نہیں اٹھ  رہی تھی  کیونکہ اس کی ماں تو اب دنیا میں نہیں رہی ۔ حارث جیسے تڑپ تڑپ کر رورہا تھا اس منظر نے ہر صاحب دل کو رلادیا ۔  اب تو اسے ساری زندگی ہی رونا ہے اسے ہر قدم پر ماں یاد آئیگی کیونکہ اب اس کے قدموں کے نیچے زمین نہیں رہی کیونکہ اس کی ماں نہیں رہی۔

کبھی کبھی سوچتی ہوں کیا یہ دہشت گرد حملہ کرنے سے پہلے سوچتے ہیں یہ کتنے بچوں کو بن ماں کا بن باپ کا کردیتے ہیں۔ کیا کبھی ان کو خیال آتا ہوگا کہ یہ بچے جو ابھی  انگلی پکڑ کر اپنے ماں باپ کے ساتھ چلنا سیکھ رہے ہیں  جب ان کو سنبھالنے والے ہاتھ نہیں رہتے  تو وہ لڑکھڑا کر گرتے ہی ہیں نا۔ کیا کبھی یہ دہشت گرد اپنے بچوں کے بارے میں بھی فکرمند ہوتے ہونگے۔

لیکن پھر اپنی سوچ کی خود نفی کرکے سوچتی ہوں کہ اگر ان دہشت گردوں کو یہ سوچنا ہی ہو اگر ان کے دل میں خیال آتا تو کیا وہ ایسے  کسی کی دنیا کیسے اجاڑدیں ۔ ان دہشت گردوں کو تو یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ کس کو اور کیوں ماررہے ہیں ان کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا ۔ ان کا نظریہ بس یہ ہوتا ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچادیں اور اس کے بدلے اگر چند پیسوں کے لیے اپنی جان بھی دینا پڑجائے  تو کوئی برائی نہیں ہے۔

 کراچی ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے پہلے کراچی یونی ورسٹی میں ایک خاتون خودکش بمبار نے دھماکہ کیا ۔ اس کے بعد صدر میں دھماکہ ہوا اور اب  کھارادر مارکیٹ میں دھماکہ ہوا۔

کراچی یونی ورسٹی میں ہونے والے کی ذمہ دار خاتون خود کش بمبار شاری بلوچ کے دو معصوم سے بچے ہیں جو اب زندگی بھی اپنی ماں کا لمس کی ممی محسو کرینگے  لیکن ساتھ ساتھ جب اپنی ماں کے بارے میں جتنا جانتے جائینگے تو کیا خبر اپنے قدموں پر کیسے کھڑے رہ پائینگے  کیونکہ ان کے پیروں سے تو زمین سرک گئی ہے یہ زمین تو ماں کا وجود دیتا ہے نا۔

ادھر کھارادر میں ماں کی لاش کو جھنجھوڑتے حارث کی آہیں عرش کو ہلارہی تھیں  یہ آہیں یہ سسکیاں پوچھ رہی ہیں اسکی ماں کا کیا کیا قصور تھا جو وہ نشانہ بن گئی۔ اب وہ کس سے ضد کریگا ۔ اب کون اس کے بال سنواریگا ۔ کون اس کو صبح اسکول کے لیے تیار کرکے بھیجے گا ۔جب اسے درد ہوگا

رب نے تو ماں کو اپنی تخلیق کا وصف عطا کیا ہے ماں تو اپنی جان پر کھیل کر ایک جان کو زندگی عطا کرتی ہے ۔ اپنے بچے کی ضرورت پوری کرنے کے کیے بھکاری بن جاتی ہے اس کی سلامتی کے لیے خدا سے لڑجاتی ہے۔ اپنے بچے کے مستقبل کے لیے بڑے بڑے سمجھوتے کرلیتی ہے ۔  یہ ماں اپنے بچے کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیتی  دن رات رات دن  اپنے بچے کے لاڈ اٹھاتی ہے ۔ اپنے کلیجے سے لگائے لگائے اپنے آنچل میں چھپائے دنیا کے سرد گرم سے بچاتی ہے۔

یہ ماں جب اس کا بچہ زمین پر پہلی بار پیر رکھ کر چلنے کی کوشش کرتا ہے نا تو یہ جلدی سے اس کے ڈولتے قدموں کو سہارا دیتی ہے ۔ بچہ  ڈر کے مارے زمین پر قدم نہیں جماتا یہ ماں اس کو مسکراکر اپنا ہاتھ تھمادیتی ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے قدم لینا  شروع کردے ۔

یہ ماں ہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے قدم زمین پر جمے رہتے ہیں  اور جب یہ مائیں نہیں رہتیں ہیں نا تو سچ میں پیروں کے نیچے زمین بھی نہیں رہتی ۔ ہائے یہ مائیں خود زمین کے نیچے چلی جاتی ہیں اور بچوں کے لیے قدم جمانے کے لیے زمین چھوڑ کر نہیں جاتیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *