144 in Pakistan 808x454

پاکستان میں دفعہ 144 کانفاذ لیکن آخر یہ دفعہ کیوں ضروری ہے

85 views

پاکستان میں اس وقت سیاسی محاذ آرائی عروج پر ہے ایک طرف پاکستان کی معیشت بحران کا شکار ہے تو دوسری طرف سیاسی کشمکش تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی قیادت کے لیے صرف اور صرف  ایکدوسرے کو پاورکاریڈور سے باہر نکالنا ہی رہ گیا ہے ۔ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے 26مئی کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کررکھا ہے اور وہ کسی صورت اپنے اس موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ تو دوسری جانب حکومت نے اس لانگ مارچ کو روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور حکومت نے پنجاب اور اسلام آباد میں دفعہ 144 بھی نافذ کر دی ہے۔

لگتا یوں ہے کہ ہمارے سینیر سیاسی لیڈرشپ اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کے لیے تیار نہیں ہے اور نہ ہی یہ آثار نظر آتے ہیں کہ اپنی اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹ کر وسیع تر ملکی مفاد میں مناسب فیصلے کرلے ۔ اس وقت حکومت نے لانگ مارج کو روکنے کے لیے پنجاب اور اسلام آباد میں  دفعہ 144 نافذ کردی ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اب پنجاب اور وفاق میں کسی قسم کے بھی جلسے جلوس اور لوگوں کے اجتماع پر پابندی عائد ہوگی .

واضح رہے کہ دفعہ 144 ایک خاص قسم کا قانون ہے جو ایمرجنسی ماحول میں کسی خاص علاقے شہر یا جگہ پر نافذ کیا جاسکتا ہے۔ اس قانون کو انگریز دور میں آزادی کی تحریک روکنے کے لئے انگریز سرکار نے بنایا تھا۔ اس قانون کے تحت آزادی کی جدوجہد کرنے والی تحریکوں کو کچلا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے ہماری  حکومتیں دفعہ 144 کا نفاذ احتجاج کو روکنے کے لئے اب بھی کرتی ہیں چار اور اس سے زائد افراد کے اکٹھا ہونا، ہر  قسم کے اجتماعات ،جلسے،جلوس کے انعقاد اور مظاہرے، ریلیاں نکالنے پر پابندی لگادی جاتی ہے اس کے باوجود پاکستانی آئین کے مطابق ہر شخص کو، گروہ کو حق حاصل ہے کے وہ پر امن احتجاج کر سکتے ہیں

ملک کو درپیش صورتحال میں لگتا نہیں کہ حکومت کسی واضح فیصلہ لینے کی پوزیشن میں ہے اور لگتا ہے کہ اب انتقامی کاروائیوں کے ذریعے اس بحران کو مزید بڑھانا ہی چاہتی ہے ۔ حکومتی اتحادیوں نے یہ مشکل فیصلہ کر تو لیا ہے کہ وہ اپنی مدت پوری کرینگے  لیکن یہ فیصلہ ابھی تک نہیں کیا کہ ملک میں بڑھتی بے چینی اور انتشار کو کیسے روک سکیں گے ۔ طاقت اور جبر سے تو یہ بحران  ہر گز بھی حل نہیں ہوگا۔

حکومت کی جانب سے  دفعہ 144  لگانے کا فیصلہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور گھروں پر چھاپے مارنے کا فیصلہ کسی صورت بھی دانشمندانہ نہیں ہے جب عوام کی زیادہ تر سپورٹ عمران خان کے ساتھ ہے ۔ اس صورت میں دفعہ 144 جو کسی شہر یا علاقے میں نقص عام فساد کے  خطرے سے بچنے کے لیے لگائی جاتی ہے ۔ اب اس وقت ایک پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے حکومتی مشینری کے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

پاکستان نے کبھی اس طرح کا شدید بحران نہیں دیکھا جب سیاسی اور معاشی عدم استحکام ایک ساتھ  درپیش ہے جبکہ ملکی سلامتی کے اندرونی بیرونی چیلینجز بھی منہ پھاڑے سامنے ہیں ۔ اس حکومت کے پاس تو ایک سال سے بھی کم آئینی مدت ہے کہ وہ ان تمام چیلینجز سے نمٹ سکے ۔

 پچھلے چالیس دن میں معاشی گراوٹ غیر معمولی ہے تو دوسری طرف پنجاب میں عملی طور پر کوئی حکومت نہیں ہے اور وفاق میں موجود حکمران شاید سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم نظر آرہے ہیں۔

دفعہ  144  جس کے  نفاذ  کے بعد پولیس رینجرز ایف سی اور فوج کو  امن قائم رکھنے کے لیے بلایا جاتا ہے جب ڈبل سواری پر پابندی ہوسکتی ہے،  جب دوکانیں کھولنے پر پابندی ہوسکتی ہے اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی صورت میں 1 مہینے سے لیکر 6 مہینے تک قید کی سزا اور جرمانہ بھی ہوسکتا ہے ۔

تو کیا یہ اس حکومت کی جانب سے روایتی سینہ زوری نہیں ہے جہاں اس قدر شدید  تناو بھرے سیاسی ماحول کو سیاسی سمجھ بوجھ سے حل کیا جانا چاہیے تھا وہاں یہ دفعہ  144 کے اطلاق سے سیاسی حدت کو بڑھاوا ہی ملیگا ۔ اگر اب بھی کسی کو یہ لگتا ہے کہ اگلے کچھ مہینوں میں سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔

 حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ طاقت کے زور پر حکومتیں نہیں چلتیں ہیں اور مسلم لیگ ن کے دامن پر تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے چھینٹے ہیں خدا نہ کرے کہ ایک بار اس طرح کے حالات ہوں ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *