monkeypox Pakistan 808x454

کیا پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا ہے؟

112 views

کیا پاکستان بھی منکی پاکس کی زد میں آگیا ہے یہ وہ سوال ہے جس نے ایک بار پھر سب کو خوف میں مبتلا کردیا ہے ۔ ابھی تو دنیا کووڈ وائرس کی وبا سے پوری طرح نجات حاصل نہیں کرسکی ہے کہ دوسری وبا منکی پاکس  سامنے آگئی ہے اور یہ وبا دنیا بھر میں تیزی سے اپنے پنجے گاڑ رہی ہے ۔  منکی پاکس کی سنگینی دیکھتے ہوئے پاکستان کے قومی ادارہ صحت نے وفاقی اور صوبائی حکام صحت کو منکی پاکس کے مشتبہ کیسز سے متعلق ہائی الرٹ جاری کیا ہے۔

اس وقت تشویش کی بات یہ ہے کہ وفاقی حکام اور  ماہرین  کے مطابق اس  وقت پاکستان کی کسی بھی لیبارٹری میں منکی پوکس وائرس ٹیسٹ سہولت موجود نہیں ہے۔ ۔قومی ادارہ برائے صحت  منکی وائرس ٹیسٹ کٹس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جبکہ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اسلام آباد  کے مطابق کسی  ایمرجنسی کی صورت میں وائرس سمپل ملک سے باہر ٹیسٹ کے لیے بھی بھجوائے جا سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق  منکی پاکس ایک ایسا وائر س ہے جو  جنگلی جانوروں خصوصاً زمین کھودنے والے چوہوں اور بندروں میں پایا جاتا ہے اور اکثر ان سے انسانوں کو بھی لگ جاتا ہے۔اس وائرس کے زیادہ تر کیسز ماضی میں افریقا کے وسطی اور مشرقی ممالک میں پائے جاتے تھے جہاں یہ بہت تیزی سے پھیلتا تھا۔

پہلی مرتبہ  1958 میں یہ  وائرس  اس وقت سامنے آیا جب  ایک تحقیق کے دوران کچھ سائنس دانوں کو بندروں کے جسم پر ’پاکس‘ یعنی دانے نظر آئے تھے، اسی لیے اس بیماری کا نام ’منکی پاکس‘ رکھ دیا گیا تھا۔انسانوں میں اس وائرس کے پہلے کیس کی شناخت 1970 میں افریقی ملک کانگو میں ایک 9 سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

اس وائرس کے زیادہ تر کیسز ماضی میں افریقا کے وسطی اور مشرقی ممالک میں پائے جاتے تھے جہاں یہ بہت تیزی سے پھیلتا تھا۔

ماضی میں صرف افریقہ میں پائی جانے والی اس بیماری کے امریکا اور یورپ میں کیسز رپور ٹ ہونے پر عالمی ادارہ صحت اور وبائی امراض پر نظر رکھنے والے ماہرین نے خدشات کا اظہارکیاہے کہ نئے کیسز میں کچھ تبدیلیاں نوٹ کی گئی ہیںاور 21مئی تک منکی پاکس کے کیسز کی تعداد بھی بڑھ کر 100تک جا پہنچی تھی،جن میں امریکا، برطانیہ، جرمنی، اسپین، اٹلی، کینیڈا، فرانس، بیلجیم، سویڈن، نیدرلینڈز، پرتگال، آسٹریلیا اور کینیڈا شامل ہیں۔سب سے زیادہ کیسز اسپین میں24 سامنے آئے ہیں.

چیچک اور جسم پر شدید خارش کے دانوں کی بیماری سے ملتی جلتی اس بیماری کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم مغربی افریقی کلیڈ ہے اور دوسری قسم کانگو بیسن (وسطی افریقی) کلیڈ ہے، مغربی افریقی کلیڈ سے متاثرہ افراد میں موت کا تناسب تقریباً ایک فیصد ہے جبکہ کانگو بیسن کلیڈ سے متاثر ہونیوالے مریضوں میں ہلاکتوں کا تناسب 10فیصد تک ریکارڈ کیا گیا ہے.

ادارہ قومی صحت نے وفاقی اور صوبائی حکام کو منکی پاکس کے مشتبہ کیسز سے متعلق ہائی الرٹ جاری کیا ہے اور ملک کے تمام داخلی راستوں اور ائیر پورٹس پر مسافروں کی سخت نگرانی کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

 آج کچھ اس طرح کی خبریں زیر گردش تھیں کہ شاید پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ ہوگیا ہے ۔ جب دو بچوں کو این آئی سی ایچ لایا گیا اور ان میں بخار اور جسم پر نشانا ت کی علامات تھیں ۔ تاہم این آئی سی ایچ نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے ۔

 ان کا کہنا ہے کہ  این آئی سی ایچ میں منکی پاکس کے کوئی دو کیسز رپورٹ نہیں ہوئےدونوں بچوں کو ہسبتال لایا گیا ہے مگر ان کو میسلز کا خدشہ معلوم ہوتا ہےدونوں بچوں کو آیسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے۔ جبکہ اس خبر کی تردید نیشنل انسی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ )نے بھی اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ  سے کی ہے اور کہا ہے کہ

پاکستان میں منکی پاکس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے اور سوشل میڈیا پر چلنے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ پاکستان کی ہیلتھ اتھارٹیز صورتحال کا بہت احتیاط کے ساتھ معائنہ کررہی ہیں۔

شکر کہ پاکستان میں ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیاتاہم جس تیزی سے یہ پھیل رہا ہےاس سے بچاؤکے پیشگی اقدامات ضروری ہیں ضروری ہےکہ ہمارا محکمہ صحت مکمل معلومات حاصل کر کے اس مرض سے نمٹنے کیلئے مستعد رہے ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *