texasschool firing 808x454

ٹیکساس اسکول میں قیامت اٹھارہ بچوں کا قاتل آخرکون ہے

59 views

امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک ایلیمنٹری اسکول میں قیامت کا سماں ہے  جہاں ایک اٹھارہ سالہ نوجوان نے وحشیانہ فائرنگ کرکے اٹھارہ بچوں سمیت ایک ٹیچر کو ہلاک کردیا ہے۔ ان معصوم بچوں نے ایسا کیا جرم کیا تھا کہ ان کو قتل کرنا پڑگیا آخر یہ اٹھارہ بچوں کا قاتل ہے کون۔

 غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سلواڈور رولانڈو راموس، 18 سالہ بندوق بردار جس نے ٹیکساس کے ایک سکول میں 19 بچوں سمیت 21 کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا. Uvalde نامی ایک چھوٹی، ورکنگ کلاس کمیونٹی میں وینڈیز میں نائٹ مینیجر کے طور پر کام کرتا تھا.

اطلاعات کے مطابق باڈی آرمر پہنے، وہ ایک ہینڈگن اور سیمی آٹومیٹک رائفل لے کر راب ایلیمنٹری اسکول میں داخل ہوا اور بچوں پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کرنے کا مقصد ابھی تک واضح نہیں ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس میں ان لوگوں کے حوالے سے بتایا گیا جو اسے جانتے تھے کہ وہ “مذاق کرنا پسند کرتا تھا”۔ نیو یارک ٹائمز نے سلواڈور رولانڈو راموس  کے ساتھیوں  سے بات کی جنہوں نے کہا کہ وہ “خود میں گم رہنے والا تھا” اور کوئی بھی اسے واقعتا نہیں جانتا تھا۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق، دو والدین جنہوں نے کہا کہ وہ سلواڈور رولانڈو راموس کے خاندان کے دوست ہیں، بتایا کہ  وہ  غصے کا تیز تھا۔ ایک کو یاد ہے کہ وہ اکثر اپنی کم عمری  میں اپنی ماں سے بات کرتا تھا۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ  حیران ہیں  کہ وہ کس  طرح ایسے  تشدد کے قابل ہو سکتا ہے۔

 ریاستی پولیس نے  اپنے بیان میں کہا کہ راموس نے اسکول جانے سے پہلے اپنی دادی کو اس کے گھر پر گولی مار کر شدید زخمی کر دیا،اور اسی گھر کا  پتہ راموس  کے اپنے ڈرائیونگ لائسنس پر درج ہے واشنگٹن پوسٹ نے اس کے دوستوں اور رشتہ داروں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک تنہا 18 سالہ نوجوان کے طور پر بیان کیا جسے “بچپن میں ہکلاہٹ کی وجہ  پر مذاق  کا نشانہ بنایا گیا۔

راموس کی نجی  زندگی بہت پیچیدہ تھی  اور حال ہی میں اس نے اپنے  ساتھیوں کی جانب سے تشدد کا سامنا بھی کیا راموس کو اسکول میں مبینہ طور پر بار بار غنڈہ گردی تشدد اور مذاق کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کے بعد اس نے اسکول چھوڑ دیا۔

ایک رپورٹ  کے مطابق  “اس نے ہائی اسکول چھوڑدیا تھا ،  جبکہ اس کے ہم جماعتوں کا کہنا ہے کہ  وہ اس سال ان کے ساتھ گریجویشن  کلاس میں  نہیں تھا۔”

کئی رپورٹس میں  یہ بھی بتایا گیا ہے کہ راموس کی اپنی ماں کے ساتھ اکثر جھگڑے ہونے کی وجہ سے گھریلو زندگی پریشان کن تھی، اور مبینہ طور پر منشیات کا عادی تھا ۔اطلاعات کے مطابق راموس کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

امریکہ میں اسکول میں فائرنگ کے واقعات اتنے عام ہیں کہ صرف سال2022 اس حادثے سے قبل انیس ایسے حادثے رپورٹ ہوئے ہیں جہاں  اسکول کے طلبہ کو نشانہ بنایا گیا۔

سپر پاور امریکہ  دنیا بھر میں امن کے نام پر مسلم  ممالک پر چڑھائی کرکے قیامت مچادیتا ہے لیکن اپنے گھر میں اسکولوں میں دن دیہاڑے بچے قتل ہورہے ہیں اس پر صرف نظر کرلیتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اگر یہ اٹھارہ سالہ قاتل سلواڈور رولانڈو راموس مسلمان ہوتا تو کیا مغربی میڈیا اس کو یہی ہیڈلائن دیتا کہ اٹھارہ سالہ سلواڈور رولانڈو راموس جس کا بچپن گھریلو ناچاقیوں کا شکار رہا۔

 

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *