junglefire 808x454

جنگلات میں آگ لگاکر تماشہ دیکھنے والوں یہ آگ دامن جلادیتی ہے

40 views

بلوچستان میں شیرانی کے جنگلات میں نو مئی سے لگی آگ پر آخرکار قابو پالیا گیا ہے ۔تاہم یہ آگ کیسے لگی یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا ہے ۔ بارہ دن تک اس آگ نے زیتون چلغوزے اور دوسرے کئی درختوں کو نقصان پہنچایا بلکہ جنگلی حیات اور ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچایا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جنگلات میں آگ لگنے کی سب سے اہم وجہ انسانی کوتاہی ہے ۔ دوسری وجوہات میں سورج کی تمازت اور حدت جبکہ آسمانی بجلی کی وجہ سے بھی آگ لگ جاتی ہے ۔لیکن کبھی کھبار جنگلات میں ایڈونچر اور کچھ اور مقاصد کی وجہ سے بھی آگ لگائی جاتی ہے۔

وکی پیڈیا کے  مطابق اعداد و شمار پیش کرنے والی ویب سائٹ ‘سی ای او ڈاٹ بز’ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے صرف1.91. فیصد رقبے پر جنگلات پائے جاتے ہیں اور دنیا بھر میں ہمارا نمبر 173واں ہے۔ اس کے باوجود  کہیں جنگلات کو کاٹا جارہا ہے تو کہیں جنگلات کو آگ لگائی جارہی ہے۔ کہیں جنگلات میں پکنک کرتے ہوئے کھانا بنانے کی کوشش میں جنگلات میں آگ لگ جاتی ہے تو اب ایک اور نیا ٹرینڈ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ٹک ٹاک  وڈیوز بنانے کے لیے جنگلات کو آگ لگادو ۔

حالیہ دنوں میں ایک ٹک ٹاکر خاتون کو اسلام آباد مارگلہ ہلز میں آگ لگاکر  مشہور زمانہ گانے پسوڑی پر ماڈلنگ کی ان کی یہ وڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور عوام کی جانب سے اس حرکت کی شدید مذمت کی گئی اور یہ سوال رکھا گیا کہ اس طرح سے ایسے کسی کو بھی جنگل میں آگ لگانے کی اجازت کیسے دیجاسکتی ہے ۔

مذکورہ ٹک ٹاکر خاتون نے یہ وڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس سے ڈیلیٹ کردی  ہے تاہم ان کے خلاف تھانہ کوہسار میں درخواست جمع کی گئی اور اس کے بعد اس کیس میں عبوری ضمانت مل گئی ۔ اس سے  پہلے بھی ایک اور وڈیو سامنے آئی تھی جہاں چند نوعمر لڑکے مارگلہ ہلز میں آگ لگاکر انجوائے کررہے ہیں ۔

جنگلات میں آگ لگاکر ملک کی کونسی خدمت کی جارہی ہے یہ سمجھ سے بالاتر ہے اس آگ سے درختوں کو تو نقصان ہوتا ہے  جنگلی حیات کو خطرہ ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ماحول کو بھی اس قدر خطرہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ ذرا سی آگ جب پھیلتی ہے تو پھر اس کا روکنا ناممکن ہوجاتا ہے ۔

کل بھی اسلام آبا د میں احتجاجی مظاہرین کی جانب سے گرین بیلٹ میں درختوں کو آگ لگادی گئی اب درختوں کو آگ لگاکر کونسے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ۔

شیرانی کے جنگلات میں آگ کیسے لگی تاحال وجوہات سامنے نہیں آسکیں لیکن اس کے اثرات اب دہائیوں تک رہینگے ۔

جنگلات ماحول کو ٹھنڈا اور خوشگوار بنانے، آکسیجن کی زیادہ مقدار فراہم کرنے اور عمارتی لکڑی حاصل کرنے کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ یہاں انواع و اقسام کے پرندے، جانور اور حشرات الارض بھی پرورش پاتے ہیں۔

جنگلات میں پیدا ہونے والی جڑی بوٹیاں، پھل پھول، شہد اور دیگر اشیا انسان کی بہت سی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ ہر ملک کے کم از کم پچیس سے چالیس فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے۔جنگلات فضاءمیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو بڑھنے نہیں دیتے کیونکہ انھیں خود اس گیس کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ آکسیجن خارج کرتے ہیں جو انسانی زندگی کے لیے لازمی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی جس سے پوری دنیا متا ثر ہو رہی ہے۔ وہ خطے زیادہ اس کے لپیٹ میں ہے، جہا ں پر جنگلات کی کمی ہے اور مقررہ رقبے سے کم ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام میں جو واحد چیز اپنا موثر کردار ادا کرسکتی ہے وہ زیادہ مقدار میں جنگلات ہیں.

کئی عشروں سے قدرتی جنگلات کی” کٹائی “ہورہی ہے جس میں ”ٹمبر مافیا“ کے ساتھ ساتھ علاقے کے بااثر لوگ بھی ملوث ہے،۔ ٹمبر مافیا جنگلات کی کٹائی ایسے بے ددردی سے کر رہا ہے  ۔

تو وہیں دوسری جانب اب ٹمبر مافیا کے ساتھ ایڈونچر مافیا اور تشدد پسند مافیا ان جنگلوں میں آگ   لگارہی ہے ۔ اس صورتحال کو بہت سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے ورنہ  اگر جنگلات میں آگ  اسی طرح لگائی  جاتی  رہی تو بہت جلد یہ سارے جنگلات ختم ہو جائیں گے اور یہ سرسبز پہاڑ چٹیل اور خالی میدانوں کا نظارہ پیش کریگی۔

جنگلات میں اور درختوں کو  آگ لگانے والوں سے یہ کہنا ہے کہ یہ آگ جو آج تماشے کے لیے لگائی جارہی ہے کل یہ  تمہارا دامن بھی جلادیگی ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *