smoking 808x454

ناک اور منہ سے نکلنے والا دھواں ہر سال کتنے پاکستانیوں کی جان لیتا ہے؟

49 views

کیا آپ کو اندازہ ہے کہ یہ ناک اور منہ سے نکلنے والا دھواں کتنا خطرناک ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں۔ جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکو نوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ تمباکو نوشی کرنے والے اپنے ساتھ اپنے ارد گرد کے ماحول اور اور انسانوں کو بھی شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

 کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی  قریباً 32 فیصد بالغ مردانہ آبادی سگریٹ نوشی کرتی ہے. جبکہ سگریٹ نوش بالغ خواتین، آبادی کا کُل آٹھ فیصد ہیں۔ اگر ہم تمباکو کے استعمال کو پان، چھالیہ، گٹکے یا نسوار کے ساتھ دیکھیں تو ملک کی تقریباﹰ 54 فیصد آبادی اس لت میں مبتلا ہے۔

دنیا  بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں جن میں سے اسی فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔

اگر اس کو مزید تفصیل سے دیکھا جائے تو اس وقت صورتحال کچھ یوں ہے

تو پاکستان میں اس وقت 19.1 فیصد  بالغ افراد  جن کی عمر 15 سال سے زیادہ ہے وہ  کسی بھی شکل میں تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جن میں مرد 31.8 فیصد اور خواتین 8.5 فیصد ہیں ۔

کم از کم پاکستان کی 12.4 فیصد بالغ آبادی سگریٹ نوشی میں مبتلا ہے ۔7.7 فیصد  بالغ افراد بغیر جلائے  تمباکو کااستعمال کرتے ہیں

3.0 فیصد آبادی حقہ یا شیشہ استعمال کرتی ہے ۔

پاکستان کی تیرہ سے پندرہ سال کی آبادی میں تمباکو نوشی کا استعمال تشویشناک بھی ہے اور سنگین بھی ہے جن میں لڑکوں کی تعداد 13.3 فیصد  جبکہ لڑکیوں کی 6.6 فیصد ہے ۔ اس آبادی کی 7.2 فیصد تمباکو نوشی کرتی ہے  اور 5.3 فیصد  بغیرجلائے تمباکو استعمال کررہی ہے

  ایسے نوجوان جنہوں نے زندگی میں کسی وقت تمباکو نوشی کی تھی، ان میں سے لگ بھگ 40 فیصد  نے پہلی بار سگر یٹ کو 10 سال کی عمر سے پہلے استعمال کیا تھا ۔

 تمباکو نوشی ارد گرد کے ماحول اور لوگوں کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے

69.1 فیصد بالغ افراد  یعنی 16.8 ملین افراد جو گھر کے اندر کام کرتے ہیں وہ تمباکو کے دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں
ریستورانوں میں جانے والے 86 فیصد بالغ افراد تمباکو کے دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں جبکہ  76.2 ملین سے بھی زیادہ افراد لوگ جو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے  تمباکو کے دھوئیں سے شدید متاثر ہیں ۔

تمباکو نوشی کی وجہ سے ہر سال پا کستان میں کتنے  لوگوں کی جان جاتی ہے

کیا آپ کو علم ہے کہ   تمباکو کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 163600 سے زیادہ لوگوں کی جان جاتی ہے،اور ان اموات میں سے لگ بھگ 31000  اموات  تمباکو نوشی کے ثانوی دھوئیں کی زد میں آنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
تمباکو کی وجہ سے 16.0 فیصد مردوں اور 4.9 فیصد  خواتین کی موت ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر10.9 فیصد اموات تمباکو کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
تمباکو ٹریکل ، برونکل اور پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونے والی تمام اموات کا 66.5 فیصددائمی رکاوٹ پلمونری بیماری سے 53.2فیصد اموات ، اسکیمک دل کی بیماری سے 21.9 فیصد ، ذیابیطس سے 15.2 فیصد اموات اور فالج سے 8.16 فیصد اموات کا ذمہ دار ہے

جبکہ  تمباکو نوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔

معاشرے پر اثرات

پاکستان میں تمباکو نوشی کی وجہ سے اقتصادی نقصان 615.07 بلین روپے 3.85$US بلین ہے، جو کہ پاکستان کے GDP کا 6.1 % ہے۔
تمباکو پر رقم خرچ کرنے کی وجہ سے گھرانے کی کھانے، صحت، تعلیم، اور پر خرچ کرنے والی رقم میں کٹوتی ہوتی ہے۔

پاکستان میں، تمباکو استعمال کرنے والے گھرانے تمباکو پر اپنی ماہانہ بجٹ کا اوسطا 2.7 فیصد خرچ کرتے ہیں۔

غریب گھرانے تمباکو پر اپنے بجٹ کا 3.0  فیصد خرچ کرتے ہیں۔ یہ ان کی جانب سے تعلیم پر کیے گئے خرچ 1.8 فیصد  ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریبا تمام سگریٹ نوشی کرنے والےافراد سگریٹ سے وابستہ خطرات کو سمجھتے ہیں لیکن ان کا استعمال اس وقت تک جاری رکھتے ہیں جب تک کہ وہ قلبی امراض، کینسر یا سگریٹ کے استعمال سے وابستہ دیگر بیماریوں کا شکار نہ ہو جائیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *