corona virus 808x454

کورونا کی چھٹی لہربہت خطرناک احتیاط کریں کراچی حیدرآباد نشانے پر

43 views

پاکستان میں کورونا کی چھٹی لہر کے باعث کورونا کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جبکہ  کراچی میں کورونا کی شرح میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 2043  ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 390 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور شرح 19.09 فیصد رہی۔محکمہ صحت کےمطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں مجموعی طورپرکوروناکی شرح 7.29 فیصد ریکارڈ کی گئی جب کہ حیدرآباد میں یہ شرح 0.15 فیصد رہی۔

محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے شہر میں اسکریننگ کو دوگنا کرنے کے بعد منگل کو کووِڈ 19 مثبت کی شرح 22.65 فیصد سے کم ہو کر 9.21 فیصد ہو گئی.  ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے کووِڈ-19 ویکسین کی پہلی اور دوسری بوسٹر خوراک لی تھی اور وہ بھی  اومیکرون ویرینٹ کے نئے ‘سب ویریئنٹس’ سے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کووڈ کی چھٹی لہر کو بلکل ہلکا مت لیں اور احیتاطی تدابیر اختیار کریں چاہے آپ مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے لگوا چکے ہوں۔

کراچی میں اسپتالوں میں داخلے میں بتدریج اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد کے کووِڈ 19 کے ٹیسٹ مثبت آ رہے ہیں۔ ماہرین صحت  کے خیال میں اومیکرون ویریئنٹ کے BA.4 اور BA.5 سب ویریئنٹس  مکمل طور پر ویکسین شدہ لوگوں کو بھی متاثر کررہا ہے۔

معروف وبائی امراض اور متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر رانا جواد اصغرکا کہنا  ہے کہ کورونا کے خلاف ویکسین کام کررہی ہے اور جان بچانے میں مددگار ہیں ۔تاہم یہ کورونا کے خلاف  سوفیصد موثر نہیں ہے۔ ہمیں ویکسینیشن کو بہتر بنانے اور SOPs پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں میں قوت مدافعت کم ہو رہی ہے اور ویکسین کی افادیت، جو کبھی 95 فیصد تھی، تقریباً 80-85 فیصد تک گر گئی ہے کیونکہ وائرس مسلسل تبدیل ہو رہا تھا۔ جبکہ طبی ماہرین کو خدشہ ہے کہ  ویکسین اپنی افادیت کھو رہی ہیں حالانکہ یہ کوویڈ 19 وبائی امراض کے خلاف واحد تحفظ ہیں

دوسری جانب وزیر صحت و بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی زیر صدارت کرونا صورتحال پر اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ  سندھ کے بڑے ہسپتالوں میں قائم کرونا وارڈز کو ہر صورت فعال رکھا جائیگا۔ جبکہ  جناح، سول، ڈاؤ، لمس اور دیگر ہسپتالوں میں قائم کرونا واڈر میں وینٹیلیٹرز اور آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا۔

جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کورونا وائرس کی وباء کو قابو کرنے کے لیے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی اوسی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارتِ صحت اور این سی او سی کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اظہارِ تشویش کرتے ہوئے این سی او سی کو مکمل بحال کرنے کا فیصلہ کیا

کورونا وائرس سے اس وقت سب سے زیادہ کراچی اور حیدرآباد متاثر ہورہا ہے ، اس کے لیے ٹیسٹنگ کو مزید بڑھایا جانا چاہیے ۔ جبکہ ویکسینیشن کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

لیکن سب سے زیادہ ضروری ایک بار پھر ایس اوپیز پر عمل در آمد کروانا ہے تاکہ کورونا کی اس چھٹی لہر کا سامنا کیا جاسکے ۔

کورونا کا ایک ہی علاج ہے وہ ہے احتیاط ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *