illegalimigrants 808x454

کبھی سمندر میں کبھی صحرا میں کبھی ٹرک میں بہتر مستقبل کی تلاش میں مرتے بدقسمت کون ہیں

35 views

کبھی کسی تپتے صحرا میں  بھٹکتے کبھی سمندر کی بےرحم لہروں کی وجہ سے تو کبھی کسی ٹرک میں دم گھٹنے سے  تو کبھی گولیوں کا نشانہ بنتے آخر یہ بدقسمت  کون ہیں ۔ کیا ان بدقسمت تارکین وطن کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے ان کی قسمت میں ایسی ہی دردناک موت لکھی ہے ۔ 

جنگوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے یہ اپنا خراج انسانی جانوں کی صورت میں وصول کرتی ہیں .کروڑوں انسان جنگ سے متاثر ہوتے ہیں ان میں سے لاکھوں پناہ کی تلاش میں کہیں کسی بارڈر پر خیموں میں سسکتی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں تو کہیں کسی اجنبی زمین پر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ کہیں ہزاروں انسان بہتر مستقبل  اور پرامن فضا کی تلاش میں اپنی جانیں گنوادیتے ہیں ۔

ابھی لیبیا کے ریگستان میں سے 20 تارکین وطن کی لاشیں ملی ہیں، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ بھٹک جانے کے بعد شدید پیاس کے سبب جاں بحق ہو گئے۔ تو دوسری جانب امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر سان انتونیو میں ایک لاوارث ٹرک سے کم از کم 46 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ مہاجرین تھے۔ جبکہ بہتر مستقبل کی تلاش میں  یورپ جانے کی خواہش میں بحیرہ روم میں تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے کی خبریں تو معمول ہیں۔

بحیرہ روم میں ڈوبنے والے یا یورپ کی راہوں میں مرنے والے گمنام بدنصیب  مسافر وں کی داستانیں قدم قدم پر بکھری پڑی ہیں۔ ؟ کیا ان بدقسمت مسافروں  کو یہ معلوم نہیں کہ راستے میں قدم قدم پر موت کے  سائے ان پر منڈلاتے ہیں۔ یہ مسافر ان خطرنا ک حقائق سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ یورپ میں زندہ سلامت داخل ہونا نصیب کی بات ہے، جبکہ راستے کی مشکلات اٹل ہیں۔ لیکن  ان کی اپنی سرزمین آگ و خون کا  وحشت ناک کھیل ان کو نقل مکانی یاہجرت جیسے انتہائی اقدام پر مجبور کرتا ہے۔

مہاجرین کو پناہ دینے والے ممالک کی فہرست پر نظر دوڑائیں توافغان مہاجرین کا سب سے زیادہ بوجھ پاکستان  نے کھلے دل سے قبول کیا اور پاکستان ابھی تک یہ بوجھ سہہ رہا ہے۔ شامی پناہ گزینوں کا بڑا حصہ ترکی و لبنان میں موجود ہے۔ ایران، پاکستان، ترکی، لبنان پناہ گزینوں کو جگہ دینے میں سرفہرست ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے مرتب کردہ اس فہرست کے پہلے دس ممالک میں کوئی ایک بھی یورپی یامغربی ملک نہیں ہے۔ دوسری جانب جس سرزمین سے انسانی آبادی کے بڑے حصے نے نقل مکانی یا ہجرت کی، ان ممالک کے عدم استحکام میں مغربی قوتوں کا کلیدی کردار ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق اس وقت قریباً 10 کروڑافراد دنیا بھر میں بے گھر ہو چکے ہیں۔ یوکرین میں جنگ کے آغازکے بعد سے عالمی نقل مکانی کا بحران مزید ابتر ہوچکاہے۔ روس کے 24 فروری کو یوکرین پرحملے کے بعد بڑے پیمانے پرلوگ دربدر ہوئے ہیں اور عالمی بھوک اورغذائی سلامتی کا بحران بگڑ رہا تھا۔

قوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق تازہ ترین ڈیٹا ویژولائزیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال سمندر میں 3,231 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے تھے، جو کہ 2020 کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

یو این ایچ سی آر  کے مطابق  سمندر میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے علاوہ زمینی راستوں پر ہلاکتیں اور زیادتیاں بھی بڑے پیمانے پر رپورٹ ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ عام طور پر اصل اور ٹرانزٹ کے ممالک میں جن میں اریٹیریا، صومالیہ، جبوتی، ایتھوپیا، سوڈان اور لیبیا شامل ہیں  جہاں زیادہ تر اس قسم کے  واقعات کی اطلاع دی جاتی ہے

 یہاں یہ سوال بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا پناہ گزینوں کی مٹھی بھر تعداد کو اپنی سرزمین پر جگہ دینے سے مسائل حل ہوجائیں گے۔تو اس کا جواب نفی میں ہے ۔جب تک سامراجی طاقتوں کے مفادات کی تابع جنگی پالیسیاں خطے میں کارفرما رہیں گی ، اس وقت تک مختلف علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی یا ہجرت کا سلسلہ جاری رہے گ۔

جس کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ انسانی بنیادوں پر بحالی  امن کو ترجیح دے کر نان سٹیٹ ایکٹرز کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ان مفادات کے حصول کی جانب قدم بڑھانے سے اجتناب کیا جائے جن کی قیمت کروڑوں انسانوں کو اپنی جان، مال یا سرزمین کی صورت میں چکانی پڑے.

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *