thalassemia_ 808x454

لوگ تو کہتے ہی رہینگے مگر شادی سےپہلے تھیلیسمیا ٹیسٹ ضروری ہے

36 views

اگر تم اپنا ابارشن نہیں کروارہی ہو تو پھر میں تمہیں طلاق دیدونگا فیصلہ تمہارا ہے مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے۔ آپ بتائیں میں اپنا بچہ بچالوں یا گھر؟ہماری پہلے ایک بیٹی ہے جو  تھیمیسمیا مائنر ہے اور پھر بیٹا جو تھیلیسیمیا میجر ہے  اور اب میں پھر تیسری بار ماں بننے جارہی ہوں ۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ میں میرا بچہ تھیلیسیما پازیٹو ہے۔

فہمیدہ یوسفی

جب ان چونتیس سالہ خاتون (نام شایع نہیں کیا جارہا) نے میرے سامنے اپنا مسٔلہ رکھا تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ ان کو میں کیا مشورہ دوں ۔ کیا کہوں اس بچے کو بچالو جسے  دنیا میں آکر اپنی زندگی کے لیے ہر مہینے کبھی ہر پندرہ دن بعد کبھی ہر ہفتے خون کی بوتل چاہیے ہوگی اور اس کے بعد بھی اس کی زندگی عام بچوں جیسی نہیں ہوسکتی  نہ ہی یہ کہا جاسکتا کہ اس کی عمر کتنی ہوگی۔

آپ پلیز اس پر لکھیں کہ تھیلیسمیا ٹیسٹ کتنا اور کیوں ضرروی ہے ۔

تربت کی رہائشی خاتون(نام شایع نہیں کیا جارہا ہے)  نے  مجھے میسیج کرکے بتایا کہ  ان کی ایک ہی بیٹی ہے جب وہ چھ مہینے کی ہوئی تو انہیں پتہ چلا کہ وہ تھیلیسیمیا میجر ہے ۔

جب ڈاکٹر نے ان میاں بیوی کا ٹیسٹ کروایا تو پتہ چلا کہ وہ دونوں تھیلیسمیا مائنر ہیں جبکہ وہ دونوں کزنز بھی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹی ہمارے خاندان میں تھیلیسیمیا میجر کا پہلا کیس ہے  جس کی تشخیص ہوئی ہے ۔ لیکن ان کے شوہر کے خاندان میں کچھ بہت غریب لوگ ہیں جو یہ ٹیسٹ نہیں کرواسکتے نہ ان کو اس بارے میں علم ہے ۔

 آپ پلیز اس پر لکھیں کہ جو لوگ پڑھے لکھے نہیں یا وہ تھیلیسمیاٹیسٹ نہیں کرواسکتے ان کے لیے یہ ٹیسٹ فری کروادیں۔یہ بھی لکھیں ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں آگاہی دیں کہ شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کتنا ضروری ہے۔

 انہوں نے اپنی تکلیف کے بارے میں کہا کہ وہ ایک بار ابارشن سے بھی گزرچکی ہیں  کیونکہ ان کا ہونے والا بچہ تھیلسیمیا میجر تھا ۔ ایک طرف وہ  اپنی بچی کو تکلیف میں دیکھ کر اذیت میں ہیں  تو دوسری طرف ان کو یہ احساس گناہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے بچے کو ماردیا ۔

 کراچی کی رہائشی خاتون (نام شائع نہیں کیا جارہا) نے مجھے بتایا کہ وہ ایک بار نہیں دو بار نہیں  وہ تین بار ابارشن سے گزری ہیں ۔

کیونکہ تینوں بار ان کے آنے والے بچے میں تھیلیسیمیا میجر کی علامات تھیں  ٖڈاکٹرز کے منع کرنے باوجود  انہوں نے  اس امید پر ماں بننے کی کوشش کی کہ شاید کوئی معجزہ ہوجائے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے سسرال والے سمجھتے ہیں کہ وہ منحوس ہیں۔ جبکہ ان  کا دل چاہتا ہے کہ وہ خودکشی کرلیں۔

آپ پلیز اس پر لکھیں تھلیسمیا مائنر ہونا میری مرضی نہیں تھی یہ تو موروثی بیماری ہے ۔ میں ایسا بچہ پید انہیں کرنا چاہتی جسے میں اپنے سامنے پل پل مرتا دیکھوں ۔

تھلیسیمیا خون کی وہ خطرناک موروثی جینیاتی  بیماری ہے جو والدین سے بچے کو منتقل ہوتی ہے ۔ تھیلیسمیا کے مریض کا دارومدار خون کی بوتل پر ہوتا ہے اور یہ مریض کی حالت پر ہے کہ اس کو کتنی بوتلیں خون کی چاہیے ۔

تھیلیسمیا ٹیسٹ کیوں ضروری ہے 

تھیلیسمیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جینیاتی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر زوہیب کا کہنا ہے کہ

پاکستان میں تھیلیسیمیا مائنر  کل آبادی میں سات سے آٹھ فیصد ہیں یعنی سو میں سے سات یا آٹھ لوگ تھیلیسمیا مائنر ہیں اور ان کے علم میں یہ بات ہی نہیں کہ وہ تھیلیسمیا مائنر ہیں ۔کیونکہ پاکستان میں میاں بیوی کا تھیلسیمیا ٹیسٹ جب ہی ہوتا ہے جب ڈاکٹرز کو بچے میں تھیلیسیمیا کی علامات نظر آتی ہیں۔

 جب دو تھیلیسیما مائنر کی آپس میں شادی ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے ان کا جو بچہ ہوتا ہے وہ  زیادہ تر تھیلیسیمیا میجر ہوتا ہے ۔  تھیلیسمیا کی  ایک بڑی وجہ کزن میرج اور خاندان میں شادی ہے تاہم یہ ضروری بھی نہیں ہے۔

تھیلیسیمیا سے بچاؤ کیسے ممکن ہے

اس حوالے سے بات کرتے  ہوئے ڈاکٹر زوہیب  کا کہنا تھا کہ  شادی سے پہلے ہر شخص کا تھیلیسمیا ٹیسٹ ہونا چاہیے۔تھیلسیمیا  ٹیسٹ کے بعد  اگر لڑکا لڑکی دونوں کا ٹیسٹ مثبت ہو تو کوشش یہ کرنا چاہیے کہ اس شادی کو کینسل کیا جائے ۔

تاہم خاندانی وجوہات کی بنا پر جن میں بچپن کی منگنی اور بہت سے عوامل کے باعث شادی کو اگر ملتوی نہیں کیا جاسکتا تو پھر شادی کے بعد احتیاط کریں۔

ایسے  جوڑے کو  چاہیے جب بھی پریگننسی پلان کریں تو پریگننسی کے دس سے چودہ ہفتوں کے دوران پری نیٹل(سی وی ایس) ٹیسٹ جو آنے والے بچے کا تھیلسیمیا اسٹیٹس بتاتا ہے  لازمی کروالیں ۔

جبکہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر نوزائیدہ بچے کی اسکریننگ کی جائے تاکہ اسی وقت پتہ چل جائے کہ بچے کو کس علاج کی ضرورت ہے ۔

سندھ  بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی سیکریٹری ڈاکٹر در ناز جمال نے بھی اس بات پر زور دیا کہ شادی سے پہلے تھیلیسمیا ٹیسٹ لازمی ہونا چاہیے  تاہم ان کے مطابق اگر لڑکے کا ٹیسٹ نیگیٹو ہو تو پھر لڑکی کاٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

لیکن اگر لڑکے کو تھلیمیسما مائنر ہے تو پھر لڑکی کاٹیسٹ بھی کروانا پڑیگا اگر وہ نیگیٹو ہے تو پھر ٹھیک ہے  لیکن اگر بچی بھی پازیٹو آجاتی ہے تھیلیمیا مائنر تو پھر وہ شادی نہیں ہونی  چاہیے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ جن کی شادیاں ہوگئی اب ختم تو نہیں ہوسکتی تو اس کے لیے لازمی یہی ہے  کہ وہ احتیاط کریں کہ بچے نہ ہوں ۔

لیکن اگر conceive کرلیں بالکل فرسٹ اسٹیج میں  سی وی ایس ٹیسٹ کروالیں کیونکہ یہ ضروری  بھی نہیں ہوتا کہ ہر بار آنے والا بچہ تھیلیسمیا میجر ہو۔  تاہم  اگر  ٹیسٹ کے بعد آنے والا بچہ تھیلیسیما میجر ہے تو پھر ماں کی کاونسلنگ کی جاتی ہے کہ وہ ابارشن کروالیں۔تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہوتا ہے ۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ تھیلیسمیا ایک موروثی بیماری ہے جو ماں اور باپ دونوں سے ٹرانسفر ہوتی ہے اور اس کی ذمہ داری  کسی ایک پر نہیں ڈالی جاسکتی ہے

خاندان میں شادی یا کزن میرج کی وجہ سے نوزائیدہ میں تھیلیسمیا کے چانسز

اس حوالے سے ڈاکٹر زوہیب کا کہنا تھا  کہ طبی ماہرین  زیادہ تر خاندان میں شادی سے گریز کے لیے اس لیے کہتے ہیں کیونکہ کزن میرج میں ہر پریگننسی میں پچیس فیصد چانس ہوتا ہے کہ آنے والا بچہ تھیلیسمیا میجر ہوگا ۔جبکہ پچیس فیصد چانس ہوتا ہے کہ آنے والا بچہ نارمل ہوگا۔تاہم پچاس فیصد اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ بچہ تھیلیسیمیا مائنر ہوگا۔

 پاکستان میں  تھیلیسمیا کے مریضوں کی کیا تعداد ہے ؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سندھ  بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی سیکریٹری ڈاکٹر در ناز جمال نے بتایا کہ ا سوقت سندھ بھر میں پچیس  سینٹرز ہیں جو تھیلسیمیا کے مریض بچوں کو خون فراہم کررہے ہیں اور ان کی تعداد رجسٹریشن کے حساب سے آٹھ ہزار سے بھی زیادہ بچے رجسٹرڈ ہیں۔

تاہم تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ محتاط اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں اس وقت کم از کم چالیس ہزار سے زیادہ بچے تھیلیسیمیا میجر ہیں۔ جبکہ اندازے کے مطابق تھیلیسمیا مائنر کی تعداد نوے لاکھ تک جاپہنچی ہے۔

تشویش ناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے پانچ سے نوہزار تک بچے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔

 تھیلسیمیا ٹیسٹ کے حوالے سے قانون سازی

 پاکستان میں تھیلیسیما ٹیسٹ کے حوالے سے موثر قانون سازی موجود نہیں ہے ۔ سندھ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر در ناز جمال نے بتایا کہ 2013 میں تھیلیسیمیا ٹیسٹ کے حوالے سے سندھ اسمبلی سے ایکٹ پاس ہوا تھا لیکن اس کو نفاذ نہیں کیا جاسکا۔

تاہم کوشش ہے کہ اس کے نفاذ کے لیے کام کریں ۔ اس سلسلے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تھیلیسمیا بورڈ بن جائیگا  تو نکاح سے پہلے لڑکے لڑکی دونوں کا ٹیسٹ لازمی ہوگا۔

 ابارشن  یا اسقاط حمل کروانا ماں کے لیے کتنا خطرناک ہے ؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے مشہور گائنالوجسٹ ڈاکٹر تسنیم کوثر نے بتایا کہ پلان ابارشن  کی قانونی اور مذہبی طور پر کسی صورت بھی اجازت نہیں ہے۔

ابارشن یا  ا سقاط حمل کی صرف اور صرف اس صورت میں اجازت ہے جب ماں کی جان کو خطرہ ہو یا پھر اگر بچے میں ایسی کوئی  غیر معمولی جینیاتی نشونما نظر آتی ہے ۔جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے کے بقا کے امکانات  انتہائی معدوم یا خطرناک ہوں تو اس صورت میں بھی کیا جاسکتا ہے۔

 اسقاط حمل  میں ماں کے لیے شدید خطرات موجود ہوتے ہیں خاص طور میں اس صورت میں جب وہ کسی اناڑی ہاتھوں سے ہو۔

 ان میں  ہارمونل انفیکشن،کافی مقدار میں خون آنا، اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچنا جیسا کہ  بچّہ دانی کا پھٹ جانا یا اِس میں سوراخ پیدا ہوجانا جیسی طبی پیچیدگیاں شامل ہیں ۔نہ صرف یہ  بلکہ وہ اپنی حاملہ ہونے کی صلاحیت مستقل طور پر بھی کھوسکتی ہے جبکہ اسقاط حمل کے دوران  ماں کی جان بھی جاسکتی ہے۔

تاہم اگر یہ عمل کسی ماہر کے ہاتھوں ہو تو پیچیدگیاں کم سے کم ہوتی ہیں تاہم تب بھی جسمانی اثرات میں جسم میں شدید اینٹھن،سر درر ،متلی اور الٹی ہونا جبکہ کافی مقدار میں خون آنا شامل ہیں۔

 لیکن اسقاط حمل کے بعد ایک ماں جسمانی تکلیف سے تو گزرتی ہی ہے مگر اسکی ذہنی تکلیف کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے۔

 اسقاط حمل ماں کی ذہنی کییفیت پر کیسے نظر انداز ہوتا ہے۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے مینٹل ہیلتھ تھراپسٹ رابعہ خان کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر شادی کے بعد ایک عورت  کی شدید خواہش ماں بننے کی ہوتی ہے ۔ اپنے آنے  والے بچے کے ساتھ کتنی امیدیں کتنی خوشیاں جڑی ہوتی ہیں۔

 لیکن اگر اسے پتہ چلے کہ  اس کے  آنے والے بچے کی گروتھ نہیں ہورہی  یاپھر  اسی طرح کی پیچیدگی کی وجہ  سے ڈاکٹرز اسقاط حمل کی طرف جائیں۔  یا پھر اس نے کبھی تھیلیسیمیا  کا نام بھی نہ سنا ہو اور اس کو  معلوم ہو کہ وہ تھیلیسیمیا  مائنر ہے  اور اس وجہ سے آنے والا بچہ  بھی اس کا شکار ہوگا  ۔ تو ظاہر  ہے اس کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔وہ شدیدذہنی  دباؤ کا شکار بھی ہوتی ہے۔

خاص طور پر ایک ایسا جوڑا جن کو بچے کی شدید خواہش ہو اور ان کو پتہ چلے کہ ان کا بچہ کسی ابنارملیٹی کا شکار ہےجس کی وجہ وہ ہیں  تو  اس کی وجہ سے  بھی زیادہ  ذہنی دباؤ کا شکار  خاتون ہی ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس حوالے سے کوئی آگاہی نہیں ہے جس کا ابارشن ہوا ہے اس پر کیا گزرتی ہے ۔

ہمارے  معاشرتی رویے ایسے نہیں ہیں کہ ہم اس  تکلیف سے گزرنے والی عورت کو سپورٹ کریں ویسے بھی ہمارے ہاں خواتین کو چپ رہنے اور صبر کرنے  اور ہر حال  میں گزارا  کرنے  کی تلقین کی جاتی ہے۔

انہوں  نے  اس سلسلے میں مزید بتایا کہ   ڈپریشن  ،تناؤ،اور بے چینی خواتین میں مردوں کی نسبت زیادہ  ہوتی ہے۔ خاص طور پر پریگننسی کے دوران ویسے بھی ہارمونل تبدیلیاں ہورہی ہوتی ہیں اور بہت ساری خواتین کو ڈپریشن ہوتا ہے  لیکن  ان کو آگاہی نہیں ہوتی کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہیں ۔اسی دوران وہ

 بچہ پیدا کرنا چاہتی ہے لیکن پریشر ہے کہ ابارشن کرو الو  یا  بچے میں ابنارملیٹی ہے  تو  ایک  تو  خاتون ویسے ہی ڈپریشن کا شکار ہے  اور اس کے ساتھ اس طرح کی صورتحال ہو  تو بھی دماغی صحت متاثر ہوتی ہے

اگر  اس  دوران  خاتون  کو سپورٹ نہ ملے تو پھر ڈپریشن بہت شدید ہوتا ہے  کیونکہ بچہ ابھی دنیا میں آیا نہیں ہے  اسے کھودینا بھی  ایک عورت  کے لیے بہت بڑا  ٹراما ہے ۔

بہت سارے کیسز میں خاتون اسقاط حمل کے بعد اسٹریس سے گزرتی ہے اس پر  پریشر بہت ہوتا ہے۔ اسے  ندامت ہوتی ہے ،خاتون اپنے آپ کوذمہ دار ٹہراتی ہے اسے غصہ آتا ہے اسے شرمندگی  ہوتی ہے ۔ وہ ا حساس کمتری کا شکار ہوتی ہے نیند میں کمی اور چڑچڑاہٹ بھی ہوتی ہے .

اپنا  بچہ کھونے کا احساس اتنا شدید ہوتا ہے کہ اس وجہ سے  اس کے اندر خودکشی کا احساس بھی جاگ جاتا ہے ۔

رابعہ خان کا کہنا تھا ایسی  صورتحال میں   اس عورت کو زیادہ پیار اور توجہ  کی  ضرورت ہوتی ہے ۔ اس سے بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے  کیونکہ ایک عورت جسمانی اذیت سے گزری ہوتی ہے اور اس کو ذہنی اذیت سے بھی گزرنا ہوتا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اگر لگے کہ صورتحال زیادہ خراب ہے تو پھر کسی اچھے سائیکاٹرسٹ  سے رابطہ کریں تاکہ وہ اس کو اس کیفیت باہر نکالنے میں مددگار ثابت ہوں اور اس کے ڈر اورخوف سے اس کو باہر نکال سکے۔

ا ن کا کہنا تھا کہ اس  طرح کے حالات میں سائیکو ایجوکیشن بہت ضروری ہوتی ہے تاکہ جب وہ اپنی گائنالوجسٹ سے بات کرے تو اس سے اپنے سارے سوال پوچھ سکے۔

ہمارے ہاں توڈاکٹرز سے بات بھی نہیں کی جاتی کیونکہ کچھ ڈاکٹرز بھی ایسی ہوتی ہیں جو زیادہ بات نہیں سنتی ہیں۔ رویے بہت معنی رکھتے  ہیں. خواتین ڈر کے مارے شرمندگی کے مارے سوال بھی نہیں کرتی ہیں ۔جبکہ ساتھ میں اگر شوہر یا ساس ہوں تو بھی وہ بات کرنے میں شرماتی ہیں۔

جبکہ یہ  بتانا بہت ضروری ہے کہ اپنی صحت کا کیسے خیال رکھیں ایسی بھی   خواتین ہوتی ہیں جو اسقاط حمل کے اگلے دن ہی کچن میں جاتی ہیں یہ بہت غیر انسانی رویہ ہے ۔

اس کو مکمل آرام احتیاط کروائیں اس کو جسمانی آرام کے ساتھ ساتھ ذہنی آرام بھی دیں اور سپورٹ  اس کو گھر والو ں سے مل سکتی ہے ۔

ہمارے معاشرے میں خواتین ویسے بھی مخلتف قسم کے جسمانی ذہنی دباؤ سے گزرتی ہیں ۔ اس لیے شادی سے پہلے تھیلیسمیا ٹیسٹ ضرور کروالیں تاکہ شادی کے بعد ان کو جسمانی اور ذہنی اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *