Kashmir 5thAug 808x454

پانچ اگست یوم استحصال کشمیر بھارتی بربریت کے تین سال مکمل

75 views

وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے تین سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان میں 5 اگست کو یوم استحصال کشمیرمنایا جارہا ہے۔

 کوئی ایک دو دن کی بات نہیں یہ ظلم کی داستان تو صدیوں سے چلی آرہی ہے مگر کشمریوں کے لیے بلند ہوتی  آوازیں اور جنگ آزادی بھی جاری رہیگی  ۔

پانچ اگست کو پاکستان میں اپنے کشمیری بھائیوں سے  اظہاریکجہتی کے لیے یوم استحصال منایا جاتا ہے ۔ یہ دن دشمن کو یاد دلاتا ہے کہ چاہے کیسے بھی ہوں حالات پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا تھا، کھڑا ہے اور کھڑا رہیگا۔

کشمیر اور کشمیریوں کی قید وبند کو تین سال مکمل ہوگئے ہیں مکار اوربے حس مودی سرکار نے کشمیریوں کوتو جسیے زندہ لاشیں، سمجھ لیا ہے۔

غیور، بہادر، نہتے کشمیری بھارتی جبرو تشدد  کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان مظلوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ اور  ان کے حق خودارادیت کا حامی ہے۔

خیال رہے کہ5 اگست2019 کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر اور مظلوم کشمیریوں کو ملکی آئین و قانون کے تحت حاصل خصوصی ’نیم خود مختاری‘ ختم کر دی تھی۔

بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خود ارادیت پر حملہ کیا۔ بھارت کے ایون بالا ’راجیہ سبھا‘ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کیا تھا۔

بل کے مطابق ریاست لداخ اور جموں اینڈ سرینگر پر مشتمل ہوگی۔ دونوں علاقے مرکزی حکومت کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت ہونگے

آرٹیکل 370 کا خاتمہ صدارتی حکم نامے کے تحت کیا گیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اب مقبوضہ جموں و کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم ہو گئی ہے۔

اس آرٹیکل کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی حاصل تھی۔ اسی شق کے تحت بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے تھے

آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے بھارت نے ہر حربہ آزمایا لیکن کشمیری عوام کی حریت کا جذبہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔

ہمیں ہر محاذ پر موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر مسلم دنیا کو اس سلسلے میں پوری طرح متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کی مدد دہشت گردی نہیں بلکہ بین الاقوامی بھائی چارہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔

ان لوگوں کے لیے جو جنگ کو مسئلہ کشمیر کا واحد حل سمجھتے ہیں ، وہ دھوکے کی حالت میں رہ رہے ہیں۔ جدید ریاستیں ایسے تجربات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا مطلب پورے خطے کو آگ اور گولہ بارود کا ذریعہ بنانا ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان جنگ سے گریز کر رہا ہے ، بلکہ یہ کہ پاکستان کسی غیر ذمہ دار ریاست کی طرح غصے میں جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا۔

پاکستان میں حکومتی سطح پر اس دن کو یوم استحصال کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عالمی برادری کو انڈیا پر زور دینا چاہیے کہ وہ جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مہم کو ختم کرے اور اپنے تمام غیرقانونی اقدامات کو واپس لے‘۔

پاکستان  نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کیا جائے، بھارت تمام کشمیری سیاسی قائدین کو رہا کرے.

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *