ArshadNadeem 808x454

وہ لمحہ جب ٹوٹے بازو اور زخمی پیر کے ساتھ پاکستان کا پرچم بلند کیا

37 views

اکثر ٹی وی اسکرینز کے سامنے بیٹھ کر آپ نے بھی پاکستان کے کرکٹ میچ کے دوران کبھی بابر اعظم کی سنچری مکمل ہونے کی دعا کی ہوگی ، کبھی شاہین شاہ آفریدی کی آنکھوں آنکھوں سے نظر اتاری ہوگی ، کبھی رضوان کو کریز پر دیکھ کر بار بار کہا ہوگا بس اللہ کریم کریز پر ٹکا رہے۔ بھارت کے ساتھ میچ کے دوران ہاتھ میں تسبیح لیکر پاکستان کی جیت کی دعائیں مانگی ہونگی ۔

لیکن ایک لمحہ ایسا بھی تھا پاکستان ٹی وی اسکرینز پر نظرجمائے بیٹھے سانس روکے ٹوٹے بازو اور زخمی پیر والے ارشد ندیم کو نیزہ پھنیکتے دیکھ رہا تھا ۔ ذہن میں فیلش بیک میں اس کی ٹوکیو اولپمکس کی پرفارمنس گھوم رہی تھی ۔اس ایونٹ میں  ارشد ندیم پاکستان کے لیے میڈل نہیں جیتا تھا ۔

مگر اس کی کارکردگی کے بعد ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی اس نے ہار کر بھی سب کو جیت لیا تھا حتی کہ اس کے سب سے بڑے حریف اور ٹوکیو اولپمکس میں سونے کا تمغہ جیتنے والے اور ورلڈ ایتھلیٹک چیمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے بھارت کے ٹاپ ایتھلیٹ  نیرج چوپڑا  سمیت بھارتی میڈیا بھی ارشد ندیم کے حوصلے اور جذبے  کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔

ہماری بدقسمتی تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں صرف کرکٹ کو ہی حکومتی سطح پر پذیرائی حاصل ہے۔ ہر گلی محلے میں بچے کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ شاذ و نادر ہی کہیں کہیں کبھی کبھی فٹبال کھیلتے نظر آجاتے ہیں۔

باقی کھیلوں کا تو خدا ہی حافظ ہے قومی کھیل ہاکی کا زوال ہم سب کے سامنے ہے ۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ  میں سیاست کی وجہ سے ملک کے  ایتھلیٹس رل کر رہ گئے ہیں۔ کبھی  کوئی فیڈریشن معطل تو کبھی دوسری فیڈریشن معطل۔ کبھی عہدیدار آپس میں لڑرہے ہیں  جس کے نتیجے میں یتھلیٹکس، بیڈمنٹن، باسکٹ بال، باکسنگ، سائیکلنگ، جمناسٹک، ٹیبل ٹینس، تائیکوانڈو، والی بال، ویٹ لفٹنگ، بیس بال، کراٹے، ووشو اور رسہ کشی کی دو دو اسپورٹس فیڈریشنز سامنے آگئی ہیں۔

تو کبھی کھلاڑیوں  کے پاس نہ کوچ نہ سہولیات نہ ہی فنڈز اور ایسے میں بھی اگر کوئی کھلاڑی ایسی پرفارمنس دیدے جس کرکٹ کی شوقین قوم کی توجہ اپنی جانب کھینچ لے تو اس کھلاڑی کو داد دینا تو بنتا ہے ۔

میاں چنوں کے  ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والے ارشد ندیم نے کرکٹ کے عشق میں مبتلا قوم کو اپنی کارکردگی سے بتایا کہ جیولن تھرو بھی ایک کھیل ہے۔

ارشد ندیم  کے کیرئیر میں تو کامیابیاں ہی کامیابیاں ہیں  انہوں نے پنجاب یوتھ فیسٹول میں کئی گولڈ میڈلز حاصل کئے۔ انھوں نے انٹربورڈ ایونٹ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کےبعد قومی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی۔

جون 2016 میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے ویتنام میں ہونے والی ایشین جونیئر ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں جیولن تھرو ایونٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 73.40 میٹر تھرو پھینک کر ملک کیلئے کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

مئی 2017 میں ارشد ندیم نے باکو میں ہونے والےاسلامک سالیڈیریٹی گیمز میں 76.33 میٹر دور جیولن پھینک کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

اپریل 2018 میں گولڈ کوسٹ آسٹریلیا میں ارشد ندیم نے کوالی فائنگ راؤنڈ میں 80.45 میٹر دور جیولن پھینک کر اپنا ریکارڈ بہتر کیا۔

سال 2019 میں دوحہ میں ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپین شپ میں ارشد ندیم نے 81.52 میٹر کے فاصلے پر جیولن پھینک کر اپنا اور قومی ریکارڈ قائم کرڈالا۔

اس ہی سال نومبر میں پشاور میں ہونے والے 33ویں نیشنل گیمز میں واپڈا کی جانب سے ارشد ندیم نے 83.65 میٹر دور جیولن پھینک کر سونے کا تمغہ حاصل کیا اور قومی ریکارڈ قائم کردیا۔

دسمبر 2019 میں، نیپال میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں ارشد ندیم نے 86.29 میٹر دور جیولن پھینک کر سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

مگر وہ اس وقت قومی اور عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ پچھلے برس ٹوکیو اولمپکس میں جیولین تھرو کے لیے  ایونٹ میں گولڈ ميڈل  کے لیے 12 ايتھليٹس میں  مقابلہ تھا۔ اس ایونٹ میں ارشد ندیم  پاکستان کے میڈل  کی واحد امید تھے۔

انھوں نے پہلی کوشش میں 82.40 میٹر تک جیولین تھرو کی۔ دوسری کوشش میں ارشد کی جیولین مطلوبہ لائن سے آگے نہ جاسکی اور فاؤل ہوگیا تھا۔ ارشد ندیم نے تیسری کوشش میں 84.62 میٹر تک جیولین تھرو کی تھی۔ پہلے 12 ایتھلیٹس کےمقابلے میں ارشد چوتھے نمبر پر آئے اور انھوں نے ٹاپ8 کھلاڑیوں میں جگہ بنائی تھی۔

جیولین تھرو ایونٹ میں ٹاپ 8 ایتھلیٹس کے مقابلے میں پہلی کوشش میں ارشد ندیم نے 82.91 میٹر تک جیولین تھرو کی۔ دوسری کوشش میں انھوں نے 81.98 میٹرتک جیولین تھرو کی۔ تیسری کوشش میں ارشد ندیم ڈس کوالی فائی ہوگئے تھے۔

 ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں جیولن تھرو کے فائنل مقابلے میں ارشد ندیم  پانچویں پوزیشن حاصل کرسکے تھے۔ ارشد ندیم نے 86.16 میٹر کی تھرو کی، تاہم یہ تھرو ارشد ندیم کی اس سیزن میں بہترین تھرو بھی تھی۔

حیرت کا لمحہ تھا بغیر سہولیا ت کے ایک کھلاڑی کا جذبہ تھا جس نے سب کو اس کا گرویدہ بنادیا تھا  ۔ جب وہ واپس  آیا تو کچھ دن تو میڈیا  کا توجہ کا مرکز بنا رہا ۔ لیکن حکومتی سطح پر وہی روایتی بےحسی چھائی رہی ۔

ایک سال بیت گیا، اور یہ کھلاڑی کہاں تھا کس حال میں تھا  کسی کو یاد نہ آیا کہ  ارشد ندیم بھی کوئی ہے۔

لیکن برطانیہ میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں توجیسے پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کردیا ۔

 کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان  نے 8 میڈلز جیتے جس میں نوح دستگیر بٹ نے ویٹ لفٹنگ اور ارشد ندیم نے ایتھلیٹکس میں گولڈ میڈل جیتا۔

ریسلرز شریف طاہر، انعام بٹ اور زمان انور نے سلور میڈلز حاصل کیے  جبکہ جوڈوکا  شاہ حسین شاہ کے علاوہ ریسلرز عنایت اللہ اور علی اسد نے برانز میڈل اپنے نام کیا۔

 کامن ویلتھ گیمز میں جیولین تھرو کے فائنل سے پہلے ارشد ندیم کی کہنی اور گھٹنے میں تکلیف تھی ۔ ناکافی سہولیات ، بغیر کوچ ،ٹوٹے بازو اور زخمی پیر کے ساتھ  اس کھلاڑی نے وہ کردکھایا جو کسی بھی کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے۔

 ارشد ندیم نےاپنی پانچویں کوشش میں  سب سے لمبی نوے اعشاریہ ایک آٹھ میٹر کی تھرو کی جو  اس سال کی تیسری بہترین تھرو ہے بلکہ  ارشد ندیم سب سے بڑی تھرو کرنے والے جنوبی ایشیا کے پہلے جبکہ دوسرے ایشین بن گئے ہیں۔

جس وقت ارشد ندیم نے اپنی پانچویں تھرو کی اس وقت پورا پاکستان نظر جمائے حوصلے اور ہمت کی اس مثال کو ٹی وی اسکرینز پر دیکھ رہا تھا۔ اس کھلاڑی کے پاس اس کا جنون تھا جس نے اس کو وکٹری اسٹینڈ پر لا کھڑا کیا تھا۔

نم آنکھوں سے یہ منظر دیکھنے والے سب پاکستانیوں کے لیے سیاسی گھٹن کے ماحول میں یہ لائیو مناظر کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں تھے ۔

ارشد ندیم نے تو عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ جن کے جذبے سچے ہوں ان کو منزل مل ہی جاتی ہے ۔

امید رکھی جاسکتی ہے کہ شاید ہمارے بے حس  ارباب اختیار اس کھلاڑی کو جو ہمارا قومی ہیرو ہے اس کو کوچ اور سہولیات فراہم کرینگے تاکہ نہ صرف ارشد ندیم بلکہ ہمارے دوسرے کھلاڑی بھی پاکستان کا نام روشن کرسکیں ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *