ElectricCar World 720x454

کیا آپ جانتے ہیں الیکٹرک کار ایک چارج پر کتنا فاصلہ طے کرسکتی ہے

60 views

 اس اگست پاکستان نے اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کرتے ہوئے ایک اور اہم سنگ میل کی جانب قدم بڑھایا ہے۔  پاکستان نے قومی سطح پر تیار کی جانے والی اپنی  پہلی الیکٹرک کار لانچ کردی ہے۔ الیکٹرک کار جس کا آج کل بڑا چرچا ہورہا ہے آخر ہوتی کیا ہیں اور یہ ایک چارج پر کتنا فاصلہ طے کرتی ہیں۔

اس سے پہلے ہم یہ دیکھیں کہ پاکستان کی پہلی الیکٹرک کار میں کیا خصوصیات ہیں ۔ یہ جان لیتے ہیں کہ الیکٹرک کار کیا ہوتی ہے ۔اور اس کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے

الیکٹرک کار بجلی سے چارج ہوتی ہیں ۔ الیکٹرک کار صرف بیٹریز میں موجود توانائی سے چلتی ہے اور جب یہ توانائی ختم ہو جاتی ہے تو یہ  کار رک جاتی ہے۔یہ ری جنریٹیو بریکنگ کے ذریعے اپنی بیٹریوں کو ’ٹاپ-اَپ‘ کرسکتی ہیں۔ چلاتے وقت ان سے کسی آلودہ اور زہریلی گیس کا اخراج نہیں ہوتا۔

الیکٹرک کار سے متعلق موجود معلومات کے مطابق ایک جدید الیکٹرک کار ایک بار چارج کرنے کے بعد محتاط اندازے کے مطابق 200 سے 250 میل (400 کلومیٹر) کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ اس حوالے سے معروف ترین ماڈل جن میں ٹیسلا کی گاڑیاں شامل ہیں وہ 400 میل (650 کلومیٹر)تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہیں۔ شہری علاقوں کی ضرورت کے حساب سے بنائی جانے والی سمارٹ الیکٹرک گاڑیاں 100 میل تک کا فاصلے طے کر سکتی ہیں۔

تاہم الیکٹرک کار کو چارج کرنا ایک چیلینج ہے ایک ریگولر چارجر سے نو گھنٹے میں گاڑی کو چارج کیا جاسکتا ہے گھر پر چارجنگ کے لیے آپ کو شاید 24 گھنٹے بھی درکار ہوں کیونکہ بیٹریز بڑی ہونے کی وجہ سے گھریلو بجلی کی سہولیات شاید اسے جلد چارج کرنے کے لیے کافی نہ ہوں ۔

جبکہ ایک بڑا چیلینج  بیٹریاں گرم ہونے کی صورت میں وینٹلیشن اور واٹر کولنگ کا نظام بھی ہے۔

اب ذرا بات کرتے ہیں  پاکستان میں ملکی سطح پر  تیار کی گئی الیکٹرک کار کی اس کو  NUR-E 75کا نام دیا گیا ہے جس کی عوامی فروخت کے لیے بکنگ کا آغاز 2024کے آخر میں کیا جائے گا۔

کار کا بیٹری پیک این ای ڈی یونیورسٹی میں تیار کیا گیا ہے، جدید فیچرز پر مشتمل الیکٹرک کار ایکسپورٹ بھی کی جائیگی۔ الیکٹرک کار 220وولٹ بجلی کے کنکشن سے 8گھنٹے میں چارج ہوکر 120کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار سے 210کلو میٹر کا فاصلہ طے کرسکے گی۔

پاکستان کی پہلی الیکٹرک کار اوورسیز پاکستانیوں کی تنظیم ڈائس فاؤنڈیشن اور پاکستانی جامعات و نجی شعبہ کے تعاون سے تیار کی گئی ہے

ڈیزل پٹرول کے مہنگے ہونے اور غیر ملکوں سے بر آمدگی پر انحصار کی وجہ سے الیکٹرک اور بیٹری والی گاڑیوں کو تیزی سے رواج مل رہا ہے، گیس سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جیسے جیسے  ماحولیاتی تبدیلیاں بڑھ رہی ہیں دنیا بھرمیں اس حوالے سےخدشات بھی بڑھ  رہے ہیں۔ دنیا  آلودگی سے پاک متباد ل کی جانب دیکھ رہی ہے۔

اسی لیے ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

امید کی جارہی ہے کہ رواں دہائی کے آخر تک، روڈ ٹرانسپورٹیشن میں الیکٹرک کاروں، بسوں، ٹرکوں، وین کا حصہ سات فی صد تک پہنچ جائے گا۔

لیکن یہ تب ہی ممکن ہوگا جب دنیا بھر کی حکومتیں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کی موجودہ سہولت کار پالیسیاں جاری رکھیں

امید ہے کہ پاکستان میں بھی الیکٹرک کار کی بڑے پیمانے پر پیداوار سے ماحول کے تحفظ، ایندھن کی درآمد پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔

پاکستان الیکٹرک کاروں کی ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ملکوں کے ہم پلہ ہوگا اور الیکٹرک کاروں کی ٹیکنالوجی پر دسترس سے پاکستان کے معاشی استحکام کی منزل آسان ہوگی۔

Source: Social Media

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *