fuelcharges Pakistan 808x454

اگر فیول ایڈجسٹمنٹ وصول ہی کرنا تھا تو اسے مؤخر کرنے کی کیا ضرورت تھی

40 views

سیلاب ، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام  کے لیے  وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین فیول ایڈجسٹمنٹ کے چارجز سے مستثنیٰ ہونگے۔ مگر وہ ہمارے حکمران ہی کیا جو اپنی بات پر قائم رہ جائیں۔ 

ایسا لگتا ہے کہ عوام کے لیے  کسی طرف بھی کوئی سکھ کی خبر ہے نہیں ۔ ایک طرف ملک میں جاری سیاسی بے چینی جو کسی صورت ختم نہیں ہورہی  تو دوسری طرف معاشی بے یقینی ہے جس کے ختم ہونے  کا نام نہیں لے رہی ۔

مون سون سے پہلے ملک بھر میں شدید  گرمی میں ملک بھر میں بجلی کا بحران جاری رہا نا حرام رہا اور اس کے بعد رہی  سہی کسر سیلاب نے پوری کردی ۔  ملک کے بیشتر علاقوں میں بجلی غائب ہے یا تو پھر طویل دورانیے  کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہورہی ہے ۔

 مہنگائی کی ستائی عوام کی جیب پر ڈاکہ مارنے کا سلسلہ رکا نہیں گذشتہ  چند ماہ تو بجلی صارفین پر جیسے بجلی بن کر گرے ہیں ۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر بھاری بھرکم سرچارج وصول کئے گئے ۔ عوام بیچاری حکومت کو جھولیاں بھر بھر کر بددعائیں دیکر خاموش ہوگئی۔

عوام پر یہ بجلی بم  یعنی  بجلی کے نرخوں میں اضافہ  تبدیلی سرکار کی مہربانی تھا جس کی وجہ سے  وہ صارفین جن کا بجلی کا بل کبھی پانچ سات ہزار روپے ماہانہ آتا تھا، وہ بھی اب 30 سے 40 ہزار روپے ماہانہ بل اداکرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔اسی مہربانی کو موجودہ حکومت نے بھی برقرا رکھا اور بجلی کے صارفین کو مجبور کردیا  کہ وہ  بجلی کا استعمال غیرمعمولی طور پر محدود کردیں ۔ کیونکہ لگتا یوں ہے اس حکومت کے پاس عوام کو دینے کے لیے تسلی بھی باقی نہیں رہی۔

ایک طرف  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روزغیرمعمولی اضافہ ہے جس نےعوام  کو چکراکر رکھ  دیا ہے  تو دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے باعث بجلی کا مہنگا ہونا بھی لازمی  ہو گیا تھا۔

سیلاب ، مہنگائی کے ان  حالات میں  شہباز حکومت نے پچھلی حکومت کی روایت برقرار رکھتے ہوئے عوام  پر ایک اور بجلی بم گرادیا  ہے ۔

وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ 300 یونٹ تک کے بجلی صارفین کا فیول ایڈجسٹمنٹ معاف نہیں بلکہ مؤخر کیا ہے جسے اکتوبر سے مارچ کے درمیان وصول کیا جائیگا

بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ سمیت تمام ناروا ٹیکسز کا نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ حکم صادر کر چکی ہے کہ حکومت ایسے تمام ٹیکسز فوری ختم کرے جو صارفین پر بلاوجہ بوجھ ہیں۔ اس حکم کے باوجود بلوں سے ان ٹیکسز کا خاتمہ نہیں کیا گیا۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین فیول ایڈجسٹمنٹ کے چارجز سے مستثنیٰ ہونگے‘

لیکن ایک  اور بری خبر عوام کی منتظر ہے بجلی کے بلوں پر دیا جانے والا ون سلیب بینیفٹ بھی ختم کر دیا گیا ہے  جس کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں گھریلو صارفین کو بجلی کے بل بھیجتی رہی ہیں۔ خیال رہے کہ ون سلیب بینیفٹ نظام کے تحت 300 یونٹ سےکچھ زیادہ یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا۔

صارفین کے لیے پریشانی کی خبر یہ ہے کہ ان کو اب 350 یونٹ کے استعمال پر 301 سے 400 یونٹ تک کے سلیب کے مطابق بل بھیجا جائے گا۔ ان میں پروٹیکٹڈ صارفین شامل نہیں ہے، یہ وہ صارفین ہیں جنہوں نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران 200 سے کم یونٹ بجلی استعمال کی ہے۔

 وزیر توانائی کا یہ  بیان  کہ فیول ایڈجسٹمنٹ معاف نہیں کیا بلکہ مؤخر کیا گیا ہے جو اکتوبر سے مارچ کے درمیان وصول کیا جائیگا عوام کے ہوش اڑاگیا ہے ۔  سوال یہ  ہے کہ اگر فیول ایڈجسٹمنٹ  وصول ہی کرنا تھا تو اسے مؤخر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

حکومت کے حالیہ فیصلے سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑے گا جو پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے باعث مہنگائی کی پریشان کن لہر کا سامنا کر رہے ہیں۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے عوام کو ریلیف دینے کے اب تک جو بھی اعلانات کئے گئے ہیں‘ ان میں سے کسی  پر بھی عمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا ۔

لگتا ہے اس حکومت کو کسی بات کی پرواہ نہیں ہے۔ عوام جائے بھاڑ میں بس ان کا اقتدار سلامت رہے  مگر کیا اس حکومت کو احساس ہے کل  ان کو  اسی عوام سے ووٹ مانگنے جانا ہے ۔

 اگر اسی طرح عوام کے اوپر ٹکیسوں کے بوجھ لادے جاتے رہینگے  اور اگر ریلیف کے نام پر دھوکے بازی کی جاتی رہیگی تو ہھر اس کیخلاف شدید عوامی ردعمل سامنے آنے کا قوی امکان ہے ۔  جس کا خمیازہ مسلم لیگ ن کو آئندہ آنے والے  عام انتخابات میں بھگتنا پڑیگا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *