NationalT20 Final 808x454

قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کس کس نے دیکھا؟

24 views

ملتان میں سندھ کی ٹیم نے خیبر پختونخواہ کو قومی ٹی ٹوئنٹی کے یک طرفہ فائنل میں 8وکٹ سے شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا ۔ سندھ کے  نئےکوچ غلام علی اور نئے کپتان سعود شکیل کے لئے یہ کامیابی اور ڈومیسٹک کرکٹ کے لئے اس ٹورنامنٹ میں مقابلے کا رجحان اور صلاحیتوں کا مظاہرہ نہایت اہم تھے لیکن پتہ نہیں کیوں بڑے تناظر میں سوال یہی ذہن میں آتا ہے کہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟

تحریر: عدنان حسن سید

پی ٹی وی اسپورٹس پر لائیو کوریج کے باوجود ایشیاء کپ سے متصادم ہونے کے باعث قومی لیول کے اس اہم ٹورنامنٹ کو صحیح ناظر نہ مل سکے جو میچز کے دوران اشتہارات اور اسپانسرز کے نہ ہونے سے ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیڈیم کے تماشائی بھی ملتان والے حصے میں ہی نظر آسکے اور راولپنڈی میں غائب رہے۔کیا یہی قومی ٹورنامنٹس کی اہمیت ہے؟

ناظرین اور حاضرین کی بات تو بعد میں آتی ہے،  خود ہمارے چیف سلیکٹر محمد وسیم صاحب نے بھی غالباً ایک بھی میچ گراؤنڈمیں دیکھنا گورا نہیں کیا جبکہ راولپنڈی ان کا ہوم ٹا ؤن ہے۔ چلیں مان لیں کہ وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز اور ورلڈ کپ کے لئے سلیکشن کرنے کی بھاری اور مشکل ذمہ داری نبھانے میں مصروف ہوں گے

لیکن کم از کم سیمی فائنلز اور فائنل تو وہ دیکھنے آہی سکتے تھے۔ ان کا کام سلیکٹ کیے گئے کھلاڑیوں کے ساتھ رہنا نہیں بلکہ پول بڑھانے کے لئے دیگر میچز پر توجہ دینا ہے،پھر بھی وہ ملتان کے بجائے کراچی میں نظر آرہے ہیں جہاں پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز ہورہا ہے۔ہماری ناچیز رائے میں چیف سلیکٹر کا کام ہائی پروفائل میچز یا  ایوینٹس اٹینڈ کرنے کے بجائے گراس روٹ لیول پر زیادہ توجہ دینا ہے۔ تاہم کیا کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے کلچر میں فرائض منصبی سر انجام دینے کا مطلب  تعلقات اوردیگر عوامل پرانحصار کرنا زیادہ ہے۔

یہی معاملہ چئیر مین پی سی بی رمیز راجہ کا ہے کہ جو آج کل  میڈیا کے سامنے اپنے خراب رویے کی وجہ سے شہر ت کے دائرے میں ہیں۔پتہ نہیں کون سی فرسٹریشن ہے جو وہ قومی اور بین الاقوامی صحافیوں پر نکال رہے ہیں اور سیدھی بات کے الٹے جواب دے رہے ہیں۔

سلیکشن سمیت سارے معاملات وہ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں لیکن جوابدہ خود کو کسی بات کا نہیں سمجھتے۔ وہ پاکستان جونئیر لیگ اور پاکستان ویمن لیگ جیسے خواب دیکھ رہے ہیں جن کوکمرشل طور پردلکش مواقع کہا جارہا ہے لیکن حقیقت میں کوئی فنانسر ان پر توجہ نہیں دے رہا۔ اس کے باوجود قومی ٹی ٹوئنٹی ،  پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ اور قائد اعظم ٹرافی جیسے اہم ترین اور پریمئیر ڈومیسٹک مقابلوں پر ان کا کوئی دھیان نہیں۔ میچز اٹینڈ کرنا تو درکار وہ ان کا ذکر اپنےمشہور زمانہ یوٹیوب چینل یا کسی بیان میں بھی نہیں کرتے۔اگر بورڈ کے سربراہ کا قومی کرکٹ کے بارے میں یہ وطیرہ ہے تو ان کے مصاحب کی شکایت کیا کرنا۔

اب آجائیں کارکردگی پر۔ اس ٹورنامنٹ میں صاحبزادہ فرحان،  صائم ایوب اور طیب طاہر نے واضح طور پر دیگر بیٹرز سے اچھا پرفارم کیا اور 400 سے زائد رنز بنائے۔ صاحبزادہ فرحان کے علاوہ شرجیل خان نے بھی ایک سنچری اسکور کی۔ چلیں شرجیل کو تو فٹنس کے بہانے سلیکٹ نہیں کیا جاتا  لیکن قومی ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے صاحبزادہ فرحان قومی ٹیم کے راڈار سے کیوں باہر ہیں،  یہ سمجھ سے باہر ہے۔

یہی کھلاڑی جب اسلام آباد یونائیٹڈ سے کھیل رہا تھا تو ناتجربہ کاری کے باوجود اس کو قومی ٹیم میں ڈیبو کروادیا گیا۔ اس وقت کی ناکامیوں کا لیبل آج تک اس پر لگا ہوا ہے۔ من چاہے بیٹرز تو چار سال سے گھوم پھر کے آج بھی قومی ٹیم میں شامل ہیں لیکن وقت سے پہلے سلیکٹ ہونے والوں کو پالش شدہ شکل میں دوبارہ لانے کا رجحان  قومی سلیکٹرز کے پاس نہیں ہے۔

اسی طرح صائم ایوب کو اس ٹورنامنٹ کی دریافت کہا جارہا ہے اور لوگ ان کو سعید انور سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ وہ جس آسانی اور مہارت سے اسٹروک پلے کا مظاہرہ کررہے ہیں وہ ان کو جلد از جلد قومی ٹیم میں لانے کے لئے کافی ہے لیکن  کیا کریں کہ صائم اوپنر ہیں اور جب تک بابر اعظم اور محمد رضوان اس عہدے پر براجمان ہیں،  صائم یا صاحبزادہ فرحان کی انٹری نہیں ہوگی چاہے ان کی عمر نکل جائے۔ ہاں کس کی ہوگی ،  یہ بات بھی تفصیل طلب ہے۔اس کے لئے ہمیں وکٹ کیپنگ کے شعبے کی طرف جانا پڑے گا۔

ایسا لگتا ہےکہ پی سی بی مینجمنٹ نے وکٹ کیپنگ کا شعبہ محمد رضوان کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ یا تو وہ خود لنگڑا لنگڑا کے بھی الیون میں شامل رہیں گے یا جگہ چھوڑیں گے تو اپنے خیبر پختونخواہ کی ٹیم میٹ محمد حارث کے لئے۔ یہ امر کتنا دلچسپ ہے کہ سرفراز احمد دوسال تک بطور ریزرو کیپر ٹیم کے ساتھ شامل رہے لیکن رضوان نے کبھی خود آرام کرکے ان کو موقع نہ دیا۔ اگر موقع ملا بھی تو رضوان بطور بیٹر ضرور کھیل رہے ہوتے تھے۔

تاہم محمد حارث کے ٹیم میں آتے ہیں وہ ان کو اپنی جگہ عارضی طور پر دینے کو تیار ہیں تاکہ جب  چاہیں واپس بھی لے لیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرفراز کو قومی ٹی ٹوئنٹی کے بہترین وکٹ کیپر ہونے کے باوجود سلیکٹ نہیں کیا جارہا  جبکہ ورلڈ کپ اسکواڈ سلیکٹ ہونے کے وقت ان کی بیٹنگ اوسط حارث کی 18 کے مقابلے میں 40 تھی۔ حارث سے زیادہ رنز اور اوسط تو بلوچستان کے حسیب اللہ کے بھی ہیں لیکن وہ بھی شاید منظور شدہ ٹھیکیداروں میں شا مل نہیں ہیں۔

اس قومی ٹی ٹوئنٹی کے دوران زیادہ تر میچز میں جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ آل راؤنڈرز نے آخر ی اوورز میں کیا لیکن قومی ٹیم میں یہ ذمہ داری خوشدل شاہ اور آصف علی کو ہی دی جارہی ہے جو مستند بیٹرز ہو کے بھی ٹیل اینڈرز کی طرح ہی بیٹنگ کرتے ہیں۔

ایسے میں آل راؤنڈر عامر جمال کی شمولیت خوش آئند ہے۔سلیکٹرز کو یہ سوچنا پڑے گا کہ اگر فہیم اشرف پر اب نظر کرم نہیں ہے تو نام نہاد اسٹروک پلیئرزکو ساتویں آٹھویں نمبر پر کھلانے کے بجائے انور علی ،  عامر یامین، آصف محمود اور عماد بٹ جیسے آل راؤنڈرز پر غور کریں تاکہ ٹیم کے پاس بولنگ آپشن بھی زیادہ ہوں۔ اسی طرح مڈل آرڈر میں اگر شعیب ملک کا وقت پورا ہوگیا ہے تو قاسم اکرم کو گروم کیا جائے جن میں ذمہ داری سے بیٹنگ کرکے میچ فنش کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

بولنگ کے شعبے میں سہیل خان 21وکٹیں لے کر سرفہرست رہے لیکن فاسٹ بولرز میں مقابلہ سخت ہونے کے باعث شاید اب ان کی قومی ٹیم میں واپسی ممکن نہیں۔دوسرے اور تیسرےنمبر پر آنے والے محمد عمران جونئیر اور محمد الیاس کی باری بھی شاید دیر میں آئے۔ تاہم سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے اسپنر زاہد محمود کوشاید مستقبل میں چانس مل جائے۔

قومی ٹیم  میں خراب بولنگ اور فیلڈنگ اور قومی ٹی ٹوئنٹی میں دیر سے فارم میں آنا ان کو اس بار سلیکشن سے باہر کرگیا ہے۔ حیرت البتہ مسٹری اسپنر ابرار احمد کے سلیکشن پر ہوئی ہے جن سے بہتر کارکردگی تو بطور بیٹر ٹیسٹ ٹیم میں شاندار ڈیبو کرنے والے سلمان آغا نے بولنگ میں کی ہے۔ ابرار گیند کو اسپن ضرور کرلیتے ہیں لیکن ان کی آؤٹ کرکٹ یعنی فیلڈنگ،  کیچنگ اور رننگ بہت کمزور پہلو ہیں ۔ ابھی وہ انٹرنیشنل کرکٹ کے لئے تیار نہیں ہیں۔

خیر قصہ مختصر ایسے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کا کوئی فائدہ نہیں اگر ان کی کارکردگی منصفانہ طور پر قومی ٹیم کے لئے سلیکشن کا باعث نہ بنے۔ سنا ہے کہ محمد وسیم یو ٹیوب پر جھلکیاں دیکھ کے ٹیم سلیکٹ کرتے ہیں تو ایسے میں دو ہی امکانات ہیں۔ یا تو کسی نے ان کے لیپ ٹاپ میں صرف وہ جھلکیاں بھر دی ہیں جو خوشدل، افتخار ، حارث اور آصف علی  کے فینز نے ان کے تمام میچز کے چھکے چوکے ایک جگہ کرکے بنائی ہیں،  یا پھر ان کے لیپ ٹاپ پر کوئی ٹاپ کی شخصیت بنی بنائی ٹیم کی ہدایت ویڈیو میں کردیتی ہے اور وسیم صرف میڈیا میں اس کا اعلان کردیتے ہیں۔

چلیں انگلینڈ کےخلاف سیریز کے دوران دیکھتے ہیں کہ صورت حال کتنی تبدیل ہوتی ہے۔ لگتا تو یہی ہے کہ متبادل کے طور پر بھی اعظم خان اور امام الحق کو دیکھا جائے گا جو ڈومیسٹک کے بجائے کاؤنٹی اور فرنچائز کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *