Pak England Series 808x454

انگلینڈ کرکٹ ٹیم سترہ سال بعد پاکستان میں موجود

34 views

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم سترہ سال بعد دورہ پاکستان کے لیے ان دنوں پاکستان میں موجود ہے۔  پاکستان اور انگلینڈ کی کےمابین سات ٹی 20 میچ کراچی اور لاہور میں کھیلے جائیں گے۔

محمد فیاض( ابوظہبی )

سترہ سال بعد پاکستان آنے والی انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو اس کے کچھ اہم کھلاڑی دستیاب نہیں۔اس کے علاوہ انگلینڈ کی ٹیم کے کپتان جاس بٹلر اگرچہ ٹیم کے ساتھ موجود ہیں مگر وہ پہلے چار یا پانچ میچوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کی اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ انگلینڈ کی یہ بی کرکٹ ٹیم ہے اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کی اس کرکٹ ٹیم کو آسانی سے ہرا دے گی۔

مگر پہلے ٹی20 میچ میں سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔ گزشتہ شب کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پہلے ٹی 20 میچ میں انگلینڈ کے کپتان معین علی نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ایشیا کپ 2022 کا فائنل میچ کھیلنے والی پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں چار تبدیلیاں کی گئیں۔

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز شان مسعود نے پاکستان کی طرف سے ٹی 20 بین الاقوامی میں اپنا ڈیبیو کیا۔اس کے علاوہ عثمان قادر ، حیدر علی اور شاہنواز دہانی بھی پلینگ الیون کا حصہ بنے۔اگرچہ یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ شاید محمد رضوان کو آرام دیا جائے اور ان کی جگہ محمد حارث کو پلینگ الیون میں شامل کیا جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔

میچ کا آغاز ہوا تو محمد رضوان اور بابر اعظم نے اس بار  جارحانہ انداز  اپنایا۔محمد رضوان اور بابر اعظم کے اس جارحانہ انداز سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اپنے پر کی جانے والی تنقید کا جواب اپنے بلے سے دے رہے ہیں۔پاکستان کی پہلی وکٹ دسویں اوور میں پچاسی کے مجموعی اسکور پر جب کپتان بابر اعظم چوبیس گیندوں پر اکتیس رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی محمد رضوان کا ساتھ نا دے سکا اور پاکستان کی وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں۔پاکستان کی جانب سے محمد رضوان نے اڑسٹھ رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔اپنا پہلا بین الاقوامی ٹی 20 میچ کھیلنے والے شان مسعود سات گیندوں پر صرف سات رنز بناسکے۔ جواب انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے یہ ہدف آسانی سے چار کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے پر حاصل کر لیا۔ اس طرح انگلینڈ  نے سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی۔

پاکستان کی ٹیم کرکٹ ٹیم ایک اچھا آغاز کرنے کے باوجود بڑا اسکور بنانے میں ناکام رہی۔ایک وقت پر ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم اس میچ میں دو سو رنز بنانے میں کامیاب ہو گی مگر انگلینڈ کے گیند بازوں نے آخری دس اوورز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک سو اٹھاون رنز بنا سکی۔

اس میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا مڈل آرڈر ایک دفعہ پھر لڑکھڑایا اور ابتدائی بلے بازوں کی جانب سے ایک اچھا آغاز ملنے کے باوجود بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے۔اگرچہ آج کل چیف سلیکٹر محمد وسیم اپنی منتخب کردہ ٹیم کا ہر جگہ دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں مگر پاکستانی مڈل آرڈر کی کارکردگی کسی بھی صورت بہتری کی طرف گامزن نظر نہیں آ رہی۔ا

گرچہ آصف علی اس میچ میں پلینگ الیون کا حصہ نہیں پھر جبکہ افتخار احمد اور خوشدل شاہ ایک بار پھر کوئی خاص کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔خوشدل شاہ سات گیندوں پر صرف پانچ اسکور بنا سکے۔

میرے خیال میں محمد وسیم بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ پاکستان اس مڈل آرڈر کے ساتھ کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیت سکتا مگر وہ شاید اپنی ضد اور انا کی تسکین کے لیے اس کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے؟ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ ضد اور انا کب تک برقرار رہتی ہے ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *