floodspecial 720x454

سیلاب کی تباہ کاریاِں بچوں کا تعلیمی مستقبل کیا ہوگا؟؟

97 views

پاکستان میں  حالیہ غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے  سیلاب نے سب سے زیادہ متاثر سندھ کو کیا ہے ۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے سندھ کے 23 اضلاع  اور ایک  کروڑ 45لاکھ سے زیادہ آبادی  کو نقصان پہنچایا ہے ۔

فہمیدہ یوسفی

یونیسیف کے پاکستان میں نمائندے عبداللہ فادل کا سندھ کے دورےکے بعد کہنا ہے کہ سیلاب نے مجوعی طورپر 16ملین بچوں کو متاثرکیا ہے۔

 ان کا مزید کہنا  ہے کہ  بے گھر ہونے والے خاندانوں کے پاس نہ خوراک ہے اور نہ ہی صاف پانی ہے، اسکولوں، پانی کا نظام اور صحت کی سہولیات کا اہم بنیادی ڈھانچہ تباہی کا شکار ہے۔

ایک جانب سندھ کے سیلاب متاثرین  صحت اور غذا  کے بحران کا سامنا کررہے ہیں۔ تو وہیں دوسری جانب سیلاب تباہ کاریوں نے  بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

ریلیف کیمپوں میں موجود یہ  بچے شدید دکھ۔ خوف ،پریشانی  اور ذہنی اذیت کا سامناکررہے ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے نہ صرف اپنے گھر  کو ، اپنے پیاروں کو ،اپنے پسندیدہ کھلونوں اور ماحول کو تو کھویا ہی ہے بلکہ  اپنے اسکولوں کو بھی کھودیا ہے۔

سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے اپنے ایک بیان میں اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بیس سے بائیس لاکھ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

سندھ میں سرکاری اسکولز کی کل تعداد  44217 ہے جن میں سے  22291 اسکولز  کی عمارتوں کو  ریلیف کیپمپ میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔

جبکہ  5619 اسکولز کی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔ جبکہ 11922 اسکولز کی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔جس کا مطلب  17541 اسکولز کی عمارتیں متاثر ہیں ۔ یعنی کہ چالیس فیصد اسکولز تباہ ہوگئے ہیں۔

تو پھر اس ایمرجنسی صورتحال میں  بچوں کا تدریسی عمل کیسے بحال ہوگا ؟؟

 اس  حوالے سے محکمہ ایجوکیشن سندھ کا کہنا ہے کہ  ہماری اولین ترجیح تدریسی سلسلے کو بحال کرنا ہے ۔ تمام اضلاع میں ٹینٹ اسکول قائم کیے جارہے ہیں ۔

محکمہ ایجوکیشن سندھ کے ذرائع کے مطابق اب تک پرائمری سطح کے 1254 ٹینٹ اسکولز قائم کیے جاچکے ہیں ۔ جبکہ سیکنڈری اسکولز کی تعداد  146 ہے

جس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

علاقہ

ڈسٹرکٹ

پراِئمری لیول

سیکنڈری لیول

حیدرآباد

بدین

16

حیدرآباد

دادو

25

15

حیدرآباد

حیدرآباد

86

27

حیدرآباد

جام شورو

100

22

حیدرآباد

مٹیاری

100

30

حیدرآباد

سجاول

12

25

حیدرآباد

ٹنڈو الہ یار

15

8

حیدرآباد

ٹنڈو محمد خان

10

حیدرآباد

ٹھٹہ

30

13

کراچی

کراچی ایسٹ

کراچی

کراچی سینٹرل

کراچی

کراچی کورنگی

کراچی

کراچی ملیر

کراچی

کراچی ساوتھ

کراچی

کراچی ویسٹ

لاڑکانہ

جیکب آباد

8

لاڑکانہ

قمبر شہداد کوٹ

70

لاڑکانہ

کشمورکندھ کوٹ

24

لاڑکانہ

لاڑکانہ

8

لاڑکانہ

شکارپور

235

میرپورخاص

میرپورخاص

280

میرپورخاص

تھرپارکر مٹھی

10

میرپورخاص

عمرکوٹ

10

6

شہید بے نظیرآباد

نوشہرو فیروز

50

شہید بے نظیرآباد

سانگھڑ

50

شہید بے نظیرآباد

شہید بے نظیرآباد

50

سکھر

گھوٹکی

26

سکھر

خیرپور میرس

16

سکھر

سکھر

23

نور جونیجو اور ان کی اہلیہ اس وقت حیدرآباد کے مخلتف سیلابی کیمپس میں جاکر رضاکارانہ طور پر وہاں موجود  بچوں کو پڑھارہے ہیں ۔

 ان کا کہنا تھا کہ بچے پڑھنا چاہتے ہیں اور ان کا رسپانس بہت مثبت ہے وہ سیکھنا  اور پڑھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کو کاونسلنگ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان کا یہ ٹراما بہت بڑا ہے  اور ہم کوشش کررہے ہیں کہ ان  کی مدد کریں اور ان کو ان کے ایج گروپس کے حساب سے مختلف قسم کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے  ان کو مصروف رکھیں ۔

ریلیف کیمپس میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنا کتنا ضروری ہے؟؟

اس حوالے سے تبسم کوثر جو گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن میں ٹیچر ایجوکیٹر کے طور پر کام کرتی ہیں کا کہنا ہے کہ ریلیف کیمپس میں عارضی طور پر ہی سہی لیکن تعلیمی سرگرمیوں کامحدود پیمانے پر ہی بحال کیا جانا بہت ضروری ہے ۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا متاثرہ بچوں نے اپنے گھر ڈوبتے دیکھے ،اپنی چیزوں کو تباہ ہوتا دیکھا اور  لوگوں کو مرتے دیکھا ہے اس سانحے نے جو نفسیاتی دباو ڈالا ہے تو بچوں کو اس نفسیاتی دباو سے نکلنے میں مدد مل سکے گی ۔

انہوں نے سندھ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے اس ضمن میں کافی اچھے اقدامات کیے ہیں۔ کافی سارے ریلیف کیپمس میں ٹینٹ اسکولز قائم کیے ہیں ۔  جبکہ کچھ ٹیچرز رضاکارانہ طور پر بھی ریلیف کیمپس میں پڑھارہے ہیں۔ جیسا کہ  ہمارے کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں کچھ ٹیچرز جن  کے کالجز میں ریلیف کیمپ بن گئے ہیں وہاں وہ بچوں کو پڑھارہے ہیں اور یہ بہت اچھا اقدام ہے ۔

ماہر تعلیم احمد قادری کا کہنا ہے کہ  ناگہانی آفت کی وجہ سے پاکستان کے تعلیمی نظام کو  جو نقصان پہنچا ہے وہ ناقابل تلافی ہے ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قدرتی آفت پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے  ۔ اس وقت سیلاب متاثرین کے ریلیف کیمپوں  میں موجود بچوں کو پڑھانے کا انتظام کرنے والے رضاکار، فلاحی ادارے اور حکومت جو اپنی اپنی سطح پر کوشش کررہے ہیں کہ وہاں موجود بچوں کو تعلیمی طور پر انگیج کیا جائے  تاکہ تعلیم کا سلسلہ محدودسہی لیکن شروع کیا جاسکے۔

 تو ہم سب کو ان مشکل حالات میں کی جانے والی ان کوششوں کو سراہنا چاہیے ۔ان کے مطابق فلڈ ایمرجنسی کے ساتھ ساتھ تعلیمی ایمرجنسی بھی لگانا ہوگی ۔

سیلاب سے متاثرہ بچوں  کی ذہنی بحالی کے لیے کیا کیا جائے؟

اس حوالے سے کراچی کے معروف سائیکولوجسٹ خان حسن آفریدی کا کہنا ہے کہ  بین الاقوامی طور پر جب بھی کوئی ڈیزاسٹر جیسا کہ سیلاب  وغیرہ تو سب سے پہلے سائیکولوجسٹ اور سائیکارٹسٹ کی ٹیم بنائی جاتی ہے جو  ریلیف کیمپ میں موجود بچوں کا Assessment  کرتے ہیں۔

سب سے پہلے تو ماہرین کی یہ ٹیم دیکھتی ہے کہ یہ بچے کن کن ذہنی بیماریوں کا سامنا کررہے ہیں۔

 اس کے لیے باقاعدہ بچوں کے انٹرویو کیے جاتے ہیں تاکہ اندازہ کیا جاسکے کہ بچوں کو کس طرح کے ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے اور اسی کے مطابق بچوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

تاہم پاکستان کی بات کی جائے تو سیلاب کی تباہی بہت زیادہ ہے حکومت  متاثرین کی بنیادی ضروریات ہی پورا کرلیں وہی بہت ہے ۔

سیلاب متاثرین بچے Post-Traumatic Stress Disorder(PTSD)سےگزرتےہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنے والدین کو شدید خوف میں دیکھا ہے اور وہ ان کی پریشانی اور تکلیف کی وجہ سے پریشان ہوجاتے ہیں۔

سیلاب کے فلیش بیک ان کے دماغ میں چل رہے ہیں اس کی وجہ سے ان بچوں کو نیند میں ڈراونے خواب آتےہیں۔ یہ بچے اس وقت شدید خوف اور احساس کمتری کا بھی شکار ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ان  بچوں کے رویے میں افسردگی اور خاموشی بڑھتی جاتی ہے اور وہ ڈپریشن کی طرف بھی جاسکتےہیں۔

ایسے میں بچے اپنے آپ سے تعلق ختم کرتے ہیں اور ڈسکنیکٹ ہوجاتے ہیں بچے اپنے ماحول سے فرار چاہتے ہیں  کبھی روتے ہیں ، کبھی سر میں درد کی شکایت کرتے ہیں ۔

ان کامزیدکہنا تھا کہ اس  وقت ان بچوں کو سائیکولجکل کاونسلنگ کی ضرورت ہے تاکہ ان بچوں کی خوداعتمادی کو بحال کیا جاسکے ۔

انہوں نے  متاثرہ بچوں کی کاونسلنگ  پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب  کی تباہ کاریوں کے بچوں پر اثرات ہیں وہ تادیر رہینگے  اور اس کے لیے ان کی ذہنی تعلیم اور تربیت کی اشد ضرورت ہوگی ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *