Pak England FifthMatch 808x454

کمزور دل افرادپاکستانی ٹیم کی بیٹنگ ،باؤلنگ اور فیلڈنگ دیکھنے سے پرہیز کریں

37 views

“کمزور دل حضرات اس فلم کو دیکھنے سے پرہیز کریں” اکثر اس طرح کے جملے ہمیں کسی بھی ڈراؤنی فلم دیکھنے سے پہلے پڑھنے کو ملتے ہیں۔مگر میرے خیال میں اب یہ بات پرانی ہو چکی ہے۔اس کی وجہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہے۔ میرے خیال میں پاکستان کی کرکٹ کے میچ دکھانے والے تمام ٹی وی چینلز کو یہ جملہ بار بار چلانا چاہے کہ” کمزور دل حضرات پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا میچ دیکھنے سے پرہیز کریں”۔

محمد فیاض (ابو ظہبی )

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے میچز دیکھ کر لگتا ہے انہوں نے اپنے چاہنے والوں کو دل کے دورے اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کاعادی بنانا ہے۔پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے ہمیشہ لوگوں کی امیدوں کے خلاف کھیلنا ہے

پاکستان اور انگلستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان پانچواں ٹی 20 میچ شست شب لاہور میں کھیلا گیا۔ یہ لاہور میں کھیلا جانے والا اس سیریز کا پہلا میچ تھا پاکستان کی جانب سے عامر جمال نے اس میچ میں بین الاقوامی ٹی میچ میں اپنا ڈیبیو کیا وہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی ٹی میچ کھیلنے والے اٹھانوے کھلاڑی بنے۔

عامر جمال نے اپنے بین الاقوامی ٹی 20 کیرئیر کا آغاز جس انداز سے کیا ہے وہ بہت سے کھلاڑیوں کا خواب ہوتا ہے۔ اپنے پہلے ہی میچ میں اپنی زبردست کارکردگی سے وہ ہیرو بن گئے۔جس طرح سے انہوں نے انگلستان کے خلاف آخری اوور کیا وہ یقینا قابل تحسین ہے۔

جب عامر جمال کو آخری اوور کرنے کے لیے بلایا گیا تب ایسا محسوس ہوا کہ انگلستان یہ میچ جیت جائے گا مگر اپنا پہلا میچ کھیلنے والے عامر جمال اس موقع پر بالکل گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوئے۔معین علی نے جب انہیں ایک لمبا چھکا لگایا تو ایسے لگا کہ اب گھبراہٹ کا شکار ہو کر کوئی گندا گیند کروا دیں گے.

مگر انہوں نے اپنے اعصاب کو قابو میں رکھا اور اس چیز کو محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیل رہے ہیں۔عامر جمال کی اس شاندار کارکردگی سے یقینا آنے والے دنوں میں پاکستان کے گیند بازوں میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں جگہ پانے کے لئے مقابلہ سخت ہو۔

دوسری طرف پاکستان کی بیٹنگ لائن نے ایک بار پھر پاکستان کو اس میچ دھوکہ دیا اور پاکستانی مڈل آرڈر ایک بار پھر چلا ہوا کارتوس ثابت ہوا۔پاکستان کی بیٹنگ دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ پاکستان بمقابلہ انگلینڈ نا ہو بلکہ محمد رضوان بمقابلہ انگلینڈ ہے۔

محمد رضوان کی اننگز کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے مگر اب پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی انتظامیہ کو اپنی ضد کو چھوڑ کر اس بات پر سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کو اوپنر بھیجا جائے یا نہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بابر اعظم اور محمد رضوان اس وقت پاکستان کے بہترین بلے باز ہیں۔

مگر کیا ان دونوں کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کے موجودہ مڈل آرڈر میں اتنی بھی ہمت نہیں کہ وہ پورے بیس اوور کھیل سکیں۔ یہ بات اب ایک عام آدمی بھی سمجھتا ہے۔مگر شاید یہ ضد اور انا ہے یا کچھ اور کہ بابر اعظم اور محمد رضوان دونوں نے اوپنر لازمی آنا ہے.

محمد رضوان کی گزشتہ روز کی اننگز نے اس بات کو ثابت کیا کہ جب تک محمد رضوان یا بابر اعظم میں سے کوئی ایک پورے بیس اوور نہیں کھیلتا پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک بڑا اسکور نہیں بنا سکتی۔

آصف علی، افتخار احمد اور حیدر علی کی بیٹنگ دیکھ کر چائینہ کی بنی ہوئی چیزیں یاد آ جاتی ہیں۔ جو اگر چلنے پر آئیں تو چاند تک چلیں اگر نا چلیں تو شام تک بھی نا چلیں۔ لگتا ہے چیف سلیکٹر اور کپتان کو شعیب ملک جیسے کھلاڑی کی یا تو شکل پسند نہیں یا نام جس وجہ سے وہ پرفارمنس کے باوجود ٹیم کا حصہ نہیں بن رہے۔

میرا شعیب ملک کو مشورہ ہے کہ اپنا نام شعیب ملک کی بجائے افتخار احمد یا آصف علی رکھ لیں اور چہرے پر آصف علی یا افتخار احمد کا ماسک لگا لیں ہو سکتا ہے تب چیف سلیکٹر ان کو ٹیم میں شامل کر لیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *