sarainam murder 720x454

سارہ انعام گھر بسانے کی خواہش اس کی جان لے گئی

193 views

ہر عورت کو تحفظ کی محبت کی فظری خواہش ہوتی ہے ، وہ چاہے کتنی پڑھی لکھی ہو، خودمختار ہو اور امیر ہو ایک پرسکون سے گھر کا خواب دیکھنا نہیں بھولتی۔ اس کا خواب تو یہی ہوتا ہے کہ اس کا جیون ساتھی اس سے محبت  کرتا ہو اور اس کے آشیانے میں ننھے منے پھول کھلکھلاتے رہیں۔ تو کیا اس معصوم سی خواہش کا انجام اس عورت کا قتل ہونا چاہیے۔

ہنستی مسکراتی زندگی سے بھرپور خوب صورت عورت جو سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوئی ہو۔ جس کو نہ کبھی یہ سوچنا کہ گھر چلانے ک ے لیے بجٹ کیسے بنایا جائے۔ جس کو نہ یہ خبر اس کی یہ پریوں جیسی داستان میں ہی تو ایسے دیو پوتے ہیں جو اس پری کو اٹھاکر لے جاتے ہیں ۔

جب بھی کسی عورت پر تشدد کا واقعہ سنتی ہوں دیکھتی ہوں تو بس یہ سوچتی ہوں کہ اس میں کچھ نیا ہوا کیا ؟ ایک  واقعے کی آگ  ٹھنڈی نہیں ہوتی کہ دوسرا سامنے آجاتا ہے ابھی تو نور مقدم  کے قتل کے مقدمے کے مجرم کے بارے میں سب کچھ  طاقت اور پیسوں کی دھند میں چھپ گیا ہے

تو سارہ انعام کے قتل نے  سانسیں روک لیں ہیں ۔  یقین تو نور مقدم  کی بار بھی نہیں آرہا  تھا کہ اس کو اس بے دردی سے قتل کیا گیا ۔ تو یقین اس پر بھی کرنا مشکل ہے  کہ تین مہینے کی  نئی نویلی دلہن  جو شوہر سے ملنے کی خاطر پاکستان آئی تھی  اس کو اس کا شوہر اس کو تشدد کر کر کے ڈمبل مارکر قتل کردیگا

لیکن یہاں محفوظ ہے کون  چاہے  بُرقعے میں ملبوس سر تا پا ڈھکی عورت ہو تو کبھی اپنے حقوق مانگتی عورت مارچ میں احتجاجی کارڈ اٹھائے نوجوان لڑکیاں۔

نہ تین  ماہ کی بچی محفوظ  نہ ہی بڑی عمر کی عورت کو تحفظ ۔ اور اب ایک بار پھر  ایک  آزاد سوچ کی پڑھی لکھی محبت کرنے والی عورت سارہ انعام  کو  دن دھاڑے وحشیانہ  طریقے سےقتل کر دیا گیا۔

سارہ انعام یا نور مقدم کے واقعات  محض قتل کی واردات نہیں ہیں ، اسلام آباد  ایک بار پھر لرز گیا ہے تشدد کی ایک اور نئی مثال قائم ہوگئی ہے ۔ آج بھی ایک دوسرے کے واقف نکل آتے ہیں۔

سارہ انعام  کے قتل  نے اس پرسکون شہر میں تلاطم بپا کردیا ہے  شہرایک بار پھر خاموشاں میں بدل دیا ہے۔ یہاں رہنے والی  نہ صرف عورتیں  بلکہ شہر کے باسی  عجیب سے دکھ اور خوف میں ُمبتلا ہوگئے ہیں ۔

خوف سارہ انعام  کی باتھ ٹب میں پڑی لہولہان لاش کا ہے  ، دکھ  پڑھے لکھے گھرانے کے پُر تشدد رویے کا ہے، سالوں سے جاننے کے باوجود نہ جاننے کا ہے، عدم اعتماد اور نفسیاتی الجھنوں کا ہے یا اس بات کا کہ اب کون کہاں محفوظ رہ گیا ہے؟

شاہ نواز  کوئی معمولی قاتل نہیں، ایک جیتی جاگتی گُڑیا کو ہاتھوں سے مروڑ کر توڑنے والا خونخوار جس کی آنکھوں کے اطمینان سے خوف آتا ہے۔ اُس کے چہرے پر احساس جُرم کی عدم موجودگی جُھرجھری پیدا کر رہی ہے؟

خُدا جانے اُس کے اندر کے حیوان کو والدین کیوں نہ پہچان سکے، کیوں سارہ  اس درندے  کو جان نہ سکی، کیوں محلے دار، رشتہ دار، دوست احباب، ساتھی اُس کے اندر کا حیوان دیکھ نہ سکے یا دیکھا تو آنکھیں بند کر لیں۔

نہ جانے کب کب اس شخص کے جنونی رویے کو درگزر کیا گیا ہو گا جبھی تو غصے اور تشدد کا جن دیو بنتا گیا۔ نہ جانے کتنی پریاں اس جنوں کی بھینٹ چڑھی ہوں گی؟

اس واقعے کا تعلق ہر گزرے واقعے کے ساتھ جڑا ہے۔ اگر وقت پر انصاف ملا ہوتا، اگر تشدد اور گھریلو تشدد کو ایک قابل سزا جُرم کے طور پر تسلیم کیا جاتا، اگر صرف ایک سال میں تشدد اور زیادتی کے ڈھائی ہزار کیسز کو سنجیدگی سے لیا جاتا، اگر عورتوں پر تشدد اور زیادتی کے واقعات کی بیخ کنی کی جاتی تو شاید ایسے حالات نہ ہوتے۔ کوئی صائمہ، کوئی قرۃ العین اور کوئی نور اپنی جان نہ گنوا بیٹھتیں۔

شکوہ کس سے کریں اُن ارباب اختیار سے جو کبھی خواتین کے لباس کو جُرم کی وجہ قرار دیتے ہیں تو کبھی اُن کے گھر سے نکلنے کو نشانہ بناتے ہیں؟ جب صاحب اقتدار ظلم کا شکار عورتوں کو کبھی پناہ لینے کا بہانہ سمجھیں اور کبھی ملک کی بدنامی کا سببب۔۔۔ تو پھر گلہ کیسا؟

بس دکھ اس بات کا ہے کہ گھر بسانے کی خواہش سارہ کی جان لے گئی ۔

 

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *