Reporter Sadaf Naeem Lahore 720x454

سب سے آگے کی دوڑ میں صحافی خبر دیتے دیتے خود خبر بن جاتے ہیں

139 views

اس رپورٹر کو دیکھو اس نے کتنا خطرناک شاٹ دیا ہے ۔ کیا کمال ریٹنگ آئیگی اس کے چینل کی ۔ تم کیوں نہیں ایسا کرتے کرتی ہو؟۔ ارے وہ دیکھو کہاں لٹک گیا As Live  کے لیے۔ یہ نظر آرہا ہے تم کو دیکھو کیسے کنٹینر کے ساتھ دوڑ دوڑ کرآخر چڑھ کر دیکھو کر ہی لیا انٹرویو۔ اگر تم سے نہیں ہوتا تو جواب لکھ کرایمیل کردو۔ ہم کوئی دوسرا رپورٹر ڈھونڈ لینگے۔

فہمیدہ یوسفی

سب سے پہلے سب سے آگے کی دوڑ کا پریشر فیلڈ میں موجود رپورٹر پر کتنا  ہوتا ہے اس کا اندازہ صرف رپورٹرز ہی لگاسکتے ہیں ۔

اپنے نیوز روم کے لیے چینل کی ریٹنگ کے لیے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ چاہے کوئی جنگی محاذ ہو جہاں اندھی گولی کسی بھی سمت سے آجائے وہاں سے عین محاذ پر موجو د رپورٹنگ کی جائے ۔

اگر کہیں کوئی کرائم سین ہےجیسا کسی حساس مقام پر کوئی پولیس مقابلہ ہو تو بھی پریشر یہ ہوتا ہے کہ رپورٹر کسی طرح اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کوئی فوٹیج حاصل کرلو۔

اگر کہیں کوئی دھرنا ، جلسہ  یا احتجاجی مظاہرہ ہو تو رپورٹر کو اس بات  کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ہر ممکن حد تک گزر کر کسی نہ کسی طرح اس اہم شخصیت تک پہنچ کر چینل کے لیے اس کا انٹرویو نہیں تو کم از کم ساٹ (SOT) تو کر ہی لے  ۔

صحافی سعدیہ مظہر کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ہم صحافت کے ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں کہ سامنے آنے  کی جنگ، ریٹنگ کی جنگ، کوریج کی جنگ ان سب سے ایک ساتھ لڑنا پڑتا ہے۔

بد قسمتی سے ہمارے رپورٹرز کے پاس اپنی حفاظت کے لیے نہ ہی کوئی حفاظتی کٹ ہوتی ہے اور نہ ہی ان کو نیوز رومز کی جانب سے کسی قسم کی کوئی بھی تربیت فراہم کی جاتی ہے کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کو کیسے یقینی بنائیں ۔

اس ضمن میں کراچی پریس کلب کی جانب سے رواں سال فروری میں پاکستان پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ سے قبل رپورٹنگ کے لئے کچھ ایس او پیز جاری کی  تھیں

جو مندرجہ ذیل ہیں:

1- آپ کی جان سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ لہذا کسی بھی قسم کی بریکنگ نیوز حاصل کرنے کے لئے کسی بھی قسم کا خطرہ مول نہ کریں۔ نہ کوئی ایسا کام کریں جس سے جانی و مالی نقصان ہونے کا خدشہ ہو۔

2-کیمرہ مین دوست خاص طور پر ایکسکلوزر فوٹیج بنانے کے لئے کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ مول نہ لیں۔ کیونکہ آپ اپنی فیملی کے اہم ترین رکن ہیں۔

3-پی ٹی آئی کے جلسے میں پہلے ہی ایک رہنما کے کنٹینر سے گرنے کا واقعہ ہو چکا ہے اس لئے جب بھی کنٹینر پر چڑھیں تو احتیاط سے چڑھیں اور چلتے ہوئے کنٹینر پر چڑھنے سے گریز کریں۔

4-چلتے ہوئے کنٹینر پر کھڑے ہونے کے بجائے بیٹھ کر سفر کریں تاکہ بجلی کی تاروں اور درختوں سے بچ سکیں۔

5- چونکہ کراچی سے اسلام آباد جانے میں دس دن لگ سکتے ہیں۔ اپنے ساتھ فرسٹ ایڈ باکس لازمی رکھیں جس میں ابتدائی طبی امداد کے سامان بشمول پایوڈین، پینا ڈول ٹیبلیٹ ، ڈسپرین ٹیبلیٹ ، بینڈش ، روئی اور دیگر اشیاء لازمی ہوں۔

6-اگر آپ کو ادارے نے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی ہے تو کوشش کریں کہ اپنی سواری میں سوار رہیں اور کنٹینر سے فاصلہ رکھیں۔

7-کسی بھی حادثے کی صورت میں فوری طور پر اپنے ادارے کو مطلع کریں اور اپنے ساتھی کو اکیلا نہ چھوڑیں۔

8- کسی بھی حادثے کی صورت میں حادثے کے مقام سے دور ہٹ جائیں اور رضاکاروں کو امدادی سرگرمیاں کرنے دیں۔

9-سفر کے دوران اپنے اسٹاف کا خاص خیال رکھیں۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔

10-صحت خراب ہونے کی صورت میں دفتر رابطہ کر کے کسی اور کی زمیداری لگوا دیں۔

11- کرونا ایس او پیز کابھی خیال رکھیں۔

12- تمام صحافی دوست ایک ساتھ رہنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہیں۔

13- ایک واٹس اپ گروپ بنا لیں کسی سینیئر یا کلب یا یو جے کے ذمہ دار کر ٹیم لیڈر بنا لیں۔

اس وقت بھی ملک میں سیاسی گہماگہمی عروج پر پہنچی ہوئی ہے اور ہر نیوزچینل کی نظر خان صاحب کے لانگ مارچ پر ہے ۔

جس کی پل پل کی خبر دینا رپورٹرز کی ذمہ داری ہے اور اسی دوران رپورٹرز کی سر توڑ کوشش ہے کہ وہ کسی طرح اس کنٹینر تک رسائی حاصل کرلیں جس میں خان صاحب موجود ہیں اور ان سے انٹرویو کرسکیں۔

چاہے اس دھکم پیل اور افرا تفری میں ان کو کوئی نقصان پہنچ جائے یا ان کی جان ہی کیوں نا چلی جائے ۔

دنیا جہان میں اس طرح کی رپورٹنگ (جب آپ کوئی احتجاجی دھرنا، لانگ مارچ یا حساس جلسہ) کور کررہے ہوں اسے وار زون رپورٹنگ کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے ۔

جس کے لیے خاص قسم کی گائیڈ لائنز اور ایس او پیز جاری کی جاتی ہیں ۔ کوریج کی ٹیم کو حفاظتی کٹ جس میں ہیلمٹ اورلائف جیکٹ دیجاتی ہیں ۔

ایسا کہیں نہیں ہوتا کہ چلتے ہوئے کنٹینر پر چڑھ کر کوریج کے لیے کہاجائے ۔تاہم یہ پاکستان ہے یہاں کے رپورٹرز کو الٹا لٹک کر بھی نیوزروم کی فرمائش پورا کرنی ہوتی ہیں ۔ کیونکہ ان کے چینل کی ریٹنگ اور سب سے پہلے بریکنگ کا سوال ہوتا ہے۔

ایسا ہی ایک افسوسناک  حادثہ کل پیش آیا جب ٹی وی چینل فائیو کی سینیر رپورٹرصدف نعیم حادثاتی طور کنٹینر تلے آکر جان بحق ہوگئی جس پر عمران خان سمیت پی ٹی آئی کی سینیر سیاسی لیڈر شپ موجود تھی۔

ریسکیو 1122 کے مطابق یہ واقعہ سادہوکی کے قریب پیش آیا۔ صدف نعیم کے جان بحق ہونے کی خبر کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لانگ مارچ کے تیسرے روز کے سفر کے اختتام کا اعلان کیا۔

 چیئرمین عمران خان نے گھر جاکر صدف نعیم کے اہلخانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھی صدف نعیم کے اہل خانہ سے تعزیت کی گئی اور حکومت کی طرف سے پسماندگان کے لیے پچاس لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے ۔

دوسری جانب پنجاب کے وزیراعلی چوہدری پرویز الہی کی جانب سے بھی صدف نعیم کے اہل خانہ کی امداد کے لیے پچاس لاکھ کا اعلان کیا. جبکہ ڈی جی پی آر کی جانب سے دس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے ۔

پنجاب یونین آف جرنلسٹ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں چینل فائیو کی انتظامیہ سےاس حادثے پر  ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے  اور ان سے یہ سوال بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے خاتون صحافی رپورٹر کو بغیر کسی سہولیات اور ٹرانسپورٹ کے کس طرح اکیلے بھیج دیا۔

صدف نعیم شادی شدہ تھیں اور انہوں  نے پسماندگان میں ایک بیٹا اور بیٹی کو چھوڑا ہے ۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے رپورٹرز ان کی جی داری ، محنت  اور بہادری کے متعارف تھے۔

ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی صحافتی برادری پر برا وقت چل رہا ہے ایک کے بعد ایک بری خبر ہماری منتظر ہوتی ہے۔ صدف کی اچانک حادثاتی موت پر سب ہی اداس ہیں۔ ابھی تو ارشد شریف کو یاد کرکے صحافیوں کی آنکھیں نم تھیں صدف انہیں مزید نم کرگئی ہیں۔

اس افسوسناک واقعے پر رد عمل میں ہم سب کے ایڈیٹر عدنان خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ

صدف نعیم کی موت پر بہت افسوس ہوا۔ ان کے دو بچے ہیں جن کی روزی روٹی کی خاطر وہ یہ جاب کر رہی تھیں۔ اس مسئلے کو سیاسی نہ بنایا جائے تو بہتر ہے۔ یہی کنٹینر یا سٹیج عمران خان کی بجائے نواز شریف کا بھی ہو سکتا تھا۔

سوال یہ ہے کہ رپورٹرز، خاص طور پر خواتین کو اس طرح کے رسک لینے پر کیوں مجبور کیا جاتا ہے؟ کیا رپورٹرز کی کوئی انشورنس ہوتی ہے؟ کیا ان کے تحفظ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے یا ایکسکلوسیو نیوز ہی واحد ترجیح ہے؟

جبکہ حادثے پر سینیر صحافی اور ادیب اقبال خورشید کا کہنا تھا کہ اپنے پیشے کو اپنا عشق، اپنا جنون بنائیں، مگر اسے اپنی مجبوری مت بننے دیں۔ رپورٹنگ کرنے والے دوست کسی بھی مرحلے پر احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں۔

پاکستان میں صحافیوں کے لیے کوئی بھی دورہو چاہے آمریت کا ہو یا جمہوریت کا نہ مالی طورپر نہ ہی جانی طور پر محفوظ رہا ہے ۔ کہیں صحافی مالی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کی نوکریاں خطرے میں ہیں ۔ تو کہیں ان کے نظریات کے باعث ان کی جان ہی خطرے میں ہے اور وہ ملک چھوڑ کر کہیں اور جانے پر مجبور ہیں۔

ایسی صورتحال میں نیوز روم کے اسائمنٹ ڈیسک کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ڈی ایس این جی اسٹاف، کیمرہ میں اور رپورٹرکو خطرے والی جگہ سے خبر کے لیے اس حد تک مجبور نہ کیا جائے کہ وہ جان سے ہی چلا جائے۔

یہ یاد رکھا جانا ضروری ہے کہ رپورٹر کو صرف ریٹنگ کے لیے چینل کا پیٹ بھرنے کے لیے مشین نہ بنادیا جائے اس کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھا جائے۔

یہ احساس کرلیا جائے کہ روپرٹر بھی ایک انسانی جان ہے ۔

ورنہ صدف نعیم جیسے حادثے ہوتے ہی رہینگے اور ہم لکیر ہی پیٹتے رہینگے ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *