Lahore Smog Pakistan 720x454

لاہور کی ہوا پھر زہریلی فضائی آلودگی کے لیے عملی اقدامات کب ہونگے

173 views

سردیوں کی آمد آمد ہے اور  پاکستان کے میدانی علاقے سموگ کی زد میں ہیں  جس کے ہمیں نتائج بھگتنا پڑینگے ۔سموگ کی وجہ سے سردیوں کے موسم میں پاکستان کے کئی شہروں میں  ہر سال زندگی مفلوج  ہوجاتی ہے.  جس میں لاہور سرفہرست ہے ۔پاکستان کے صوبہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار پایا  ہے۔

فہمیدہ یوسفی

دنیا بھر میں آلودہ ترین شہروں میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت  لاہور کا پہلا نمبر برقرار۔ائیر کوالٹی انڈیکس پر  پرٹیکیولیٹ میٹرز کی تعداد 331 ریکارڈ کی گئی۔

سموگ کے مسئلے نے 2015 میں اس وقت شدت اختیار کی جب موسم سرما کے آغاز سے پہلے لاہور اور پنجاب کے بیشتر حصوں کو شدید دھند نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

پاکستان میں سموگ اکتوبر سے جنوری تک کسی بھی وقت وارد ہوتی ہے اور اس کی شدت 10 سے 25 دن تک طویل ہوتی ہے اور فوری ریلیف صرف بارش سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

یہ پڑھیں:

فضائی آلودگی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج

 پاکستان میں گزشتہ سال سموگ کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک میں کمی ہوئی بلکہ کئی پروازیں بھی منسوخ ہوئیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے شمال میں پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ یہ ایک دیوار کا کام کرتے ہیں۔ چاول کے منڈھ جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں فضا میں اٹھتا ہے، معلق رہتا ہے اور جب ادھر کی ہوا چلتی ہے تو یہ پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔

صورتحال  کی سنگینی  کو دیکھتے ہوئے جنوبی ایشیا کوآپریٹو انوائرمنٹ پروگرام (SACEP) کی گورننگ کونسل نے ‘Male Declaration’ کو اپنانے پر اتفاق کیا۔

جس  کا مقصد جنوبی ایشیا ممالک کی  سرحد پار فضائی آلودگی  کے لیے روک تھام  کرنا ہے۔ اس اعلامیے کے تحت جنوبی ایشیائی ممالک موثر نگرانی کے لیے ہوا کے معیار کا ڈیٹا اکٹھا کریں گے اور دوسرے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کریں گے۔ یہ کام رکن ممالک کی سرحدوں پر قائم فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے اسٹیشنوں کے ذریعے کیا جائے گا۔ پاکستان نے ایسے دو اسٹیشن قائم کیے ہیں، جو اب بھی پنجاب میں بہاولپور اور سندھ میں تھرپارکر کے قریب پاک بھارت سرحد کے ساتھ موجود ہیں۔

یہ  جاننا  ضروری  ہے  کہ  فضائی  آلودگی  ہے  کیا؟  فضائی آلودگی ہوا میں موجود وہ  نقصان  دہ مادے یا ذرات ہوتے ہیں جو کہ انسانی سرگرمیوں کی بدولت فضا کا حصہ بنتے ہیں۔

فضائی آلودگی گیسوں کی زیادتی، زہریلی گیسوں، تابکاری شعاعوں، کیمیائی مادوں، ٹھوس ذرات، مائع قطرات، گرد و غبار اور دھویں وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور یہ انسانی صحت اور ماحول دونوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے

فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں صنعتی اخراج، گاڑیوں کا اخراج، گھریلو اخراج، تعمیرات سے متعلق دھول کا اخراج، اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والا دھواں اور زرعی فضلہ کو جلانے سے نکلنے والا  دھواں بھی  شامل ہیں۔

تشویش کی بات ہے کہ تجارتی، صنعتی اور گاڑیوں کی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے فضائی آلودگی کی شدت اور شدت ہر سال بڑھ رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے نتیجے میں، ہوا سے پیدا ہونے والے ذرات سموگ کی تشکیل کے لیے ایک پلیٹ فارم بناتے ہیں، خاص طور پر سردیوں کے مہینوں میں جب ہوا پرسکون اور خشک ہوتی ہے۔

سموگ کے نتیجے میں بھاری معاشی نقصان بھی ہوتا ہے کیونکہ یہ مواصلاتی سگنلز میں خلل ڈالتا ہے، صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور بہت سے حادثات کی وجہ ہے۔

عالمی ادارہِ صحت کے مطابق دنیا میں سالانہ 70 لاکھ افراد کی اموات فضائی آلودگی کے باعث ہوتی ہیں۔ دنیا کی 91 فیصد آبادی ان جگہوں پر قیام  پذیر  ہے جہاں ہوا کا معیار عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کی حدوں سے تجاوز کرتا ہے۔

پچھلے  سال ایئر کوالٹی اور آلودگی کے لحاظ سے پاکستان کے شہر لاہور اور کراچی دنیا کے 25 آلودہ ترین شہروں میں شامل رہے۔

جبکہ صورتحال اس سال بھی کچھ مختلف اور بہتر نظر نہیں آرہی ہے۔

سال  2019  میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ایک غیرمعمولی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہر لاہور کے ہر شہری کی صحت کو سموگ یا گرد آلود زہریلی دھند سے خطرہ لاحق ہے۔

یہ پڑھیں:

لاہور میں شدید اسموگ، فضائی آلودگی میں پہلے نمبر پر

لاہور کی موجودہ آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے اور یہ پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور میں سموگ کی وجہ سے ماضی میں بھی تعلیمی ادارے بند کیے جا  چکے  ہیں۔

واضح  رہے  کہ  ایئر کوالٹی انڈیکس فضائی آلودگی میں موجود کیمائی گیسز، کیمائی اجزا، مٹی کے ذرات اور نہ نظر آنے والے وہ ان کیمائی ذرات کی مقدار ناپنے کا معیار ہے جنھیں پارٹیکولیٹ میٹر (particulate matter) کہا جاتا ہے۔ ان ذرات کو ان کے حجم کی بنیاد پر دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی پی ایم 2.5 اور پی ایم 10۔

یہ پڑھیں:

لاہور میں اسموگ: رات ایئر کوالٹی انڈیکس 580 تک پہنچ گیا، شہر میں اسکول بند

ماہرین  کا  کہنا  یہ  ہے  کہ  یہ چھوٹے کیمائی اجزا سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر صحت کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ پی ایم 2.5 کے ذرات اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ نہ صرف سانس کے ذریعے آپ کے جسم یں داخل ہو جاتے ہیں بلکہ آپ کی رگوں میں دوڑتے خون میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

ایئر کوالٹی انڈیکس کا تعین فضا میں مختلف گیسوں اور پی ایم 2.5 (فضا میں موجود ذرات) کے تناسب کو جانچ کر کیا جاتا ہے۔ ایک خاص حد سے تجاوز کرنے پر یہ گیسز ہوا کو آلودہ کر دیتی ہیں۔

یہ پڑھیں:

یوم ارض کیا پاکستان موسمی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟

فضائی آلودگی کے اثرات امراض قلب اور تنفسی بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ اس کا ہماری زندگی اور صحت پر مختلف طریقوں سے اثر ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کی ایک ٹیم کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں سے دو اعشاریہ نو برس کم ہو رہے ہیں۔ یہ شرح پہلے کی نسبت دو گنا ہے اور تمباکو نوشی کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔

کارڈیو وسکیولر ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ عمر میں اوسط کمی ہر قسم کے تشدد اور جنگوں کی وجہ سے متوقع عمر میں کمی سے 10 گنا زیادہ ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے اموات سگریٹ نوشی سے منسلک بیماریوں سے ہونے والی اموات سے بڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان میں سنہ 2017 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں حاملہ خواتین اور بچوں کے خون میں سیسے کی بڑی مقدار کے بارے میں اعداد و شمار سامنے آئے تھے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خوراک، گھروں میں موجود گرد اور سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والی گرد حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کے خون میں سیسے کی بڑھی ہوئی سطح کی بڑی وجوہات ہیں۔

کیا صاف ہوا پر بھی کراچی والوں کا حق نہیں

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ سیسے کے زہریلے اثرات کا شکار ہے جس سے ان کی صحت کو ناقابلِ علاج نقصان پہنچ سکتا ہے۔سیسے سے متاثر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر جبکہ انڈیا پہلے نمبر پر ہے۔

ماہرین کے مطابق جس قدر یہ زیادہ ہو گا، اتنا دور تک پاکستان کے اندر تک سفر کرے گا۔ اس طرح زیادہ شہر متاثر ہوں گے۔عام طور پر سموگ کے باعث آنکھوں ناک اور گلے میں جلن کی شکایت کی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ سانس کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کے لیے بھی انتہائی مضر سمجھی جاتی ہے۔

 سابقہ حکومتِ  پاکستان  کی  جانب  سے  آلودگی  کو  کم  کرنے  کی  اقدامات  کیے  گئے تھے۔  تحریک  انصاف  کا  بلین  ٹری  سونامی  پراجیکٹ  بھی  اسی  سلسلے  کی  ایک  کڑی  تھا۔

ایک ارب درختوں کی شجرکاری کا آغاز خیبر پختونخوا حکومت نے سنہ 2014 میں کیا تھا۔ یہ ایک ارب درخت محکمہ جنگلات اور بنجر زمینوں کے 35,000 ہیکٹرز پر لگائے گئے۔

شجرکاری کے علاوہ بھی سابقہ حکومت پاکستان نے دیگر ماحول دوست اقدامات کیے جن میں سر فہرست محفوظ علاقوں میں اضافہ تھے۔

اس وقت پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے 398 علاقے موجود ہیں۔ ان میں سے 31 کو نیشنل پارک کا درجہ حاصل ہے جبکہ مزید 15 نیشنل پارک بنائے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرویز نعیم کے مطابق ملک میں اب بجلی کے ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جن میں تیل یا کوئلہ نہ جلتا ہو۔

ماحولیاتی  تبدیلیوں  اور  آلودگی  نے  اس  خطہ  زمین  پر  بسنے  والے  ہر  ذی  روح  کی  زندگی  کو  خطرے  سے  دوچار  کر  رکھا  ہے۔ اس  وقت  اس  امر  کی  ضرورت  ہے  کہ  ہم  سب  اپنے  ماحول  کو  صاف  رکھنے  اور  اس  آلودگی  کا  سبب  بنننے  والے  عوامل کے  استعمال  کو  کم  کرنے  میں  اپنا  کردار  ادا  کریں  تاکہ  یہ زمین  ہمارے  اور  آنے  والی  نسلوں  کے  لئے  زندگی  سے  بھرپور  رہے  نہ  کہ  اس  میں  لیا  ایک  ایک  سانس  موت  بانٹنے  کا  سبب بن  جائے۔

اگرچہ فضائی آلودگی میں حصہ ڈالنے والے زیادہ ترعوامل  مقامی ہیں۔ تاہم  سرحد پار فضائی آلودگی بھی سموگ میں حصہ ڈال رہی  ہےبدقسمتی سے مقامی اور قومی ہوا کے معیار کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے قوانین اور ضوابط بہت کمزور ہیں اور مناسب طریقے سے نافذ نہیں ہوتے۔

نتیجتاً، ہوا کے معیار کی نہ تو مناسب نگرانی کی جاتی ہے اور نہ ہی اسے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ان قوانین کاازسر نو  جائزہ لینے اور وقت کی مناسبت سے  نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *