Pakistan Journalist 808x454

قلم بمقابلہ بلٹ :پاکستانی صحافی غیر محفوظ ماحول میں  فرائض کی انجام دہی میں مصروف

70 views

اقوام متحدہ کی جانب سے سن  2013  میں  ہر برس  نومبر  کی  2  تاریخ  کو  صحافی  و  میڈیا  کارکنان  کے  خلاف  تشدد  و  حملوں  کی  خاتمے  کی  آگہی  کا  عالمی  دن  منانے  کا  اعلان  کیا  گیا  تھا۔ 

صحافت  ایک  مقدس  پیشہ  ہے۔  عوام  تک  سچائی  پہنچانے  اور  انہیں  حقائق  سے  آگاہ  کرنے  کے  لئے  صحافی  اپنی  جان  تک  داؤ  پر  لگا  دیتے  ہیں۔  دنیا  بھر  میں  صحافیوں  کے  خلاف  تشدد  اور  انکے  قتل  کے  واقعات  میں  اضافہ  دیکھنے  میں  آ  رہا  ہے۔

سب سے آگے کی دوڑ میں صحافی خبر دیتے دیتے خود خبر بن جاتے ہیں

ایسے  میں دنیا  بھر  میں  صحافیوں  کے  حقوق  کی  تنظیمیں  ان  کے  حقوق  کے  لیے  آواز  بلند  کر  رہی  ہیں  اور  عالمی  سطح  پر  صحافیوں  کے  تحفظ  اور  انکے  خلاف  جرائم  پر  باضابطہ  کاروائی  اور  سزاؤں  سے  متعلق  قوانین  بنائے  جا  رہے  ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کا شمار بھی صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ترین ملک میں ہوتا ہے۔

کمیٹی فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹ کے مطابق سنہ 1992 سے 2019 تک پاکستان میں 61 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔

پاکستان میں صحافیوں کے قاتل کھل کر کارروائیاں کرتے ہیں۔ جاں بحق صحافیوں میں سے صرف 2کیسز میں مجرموں کو سزا ہوئی۔ سندھ اور بلوچستان میں صحافیوں کے قاتلوں کو سزاہوئی ہے ۔

سب سے زیادہ صحافی سندھ میں قتل ہوئے ہر تیسرے قتل ہونے والے صحافی کاتعلق سندھ سے ہے ،  2012 کے بعد ایک بھی سال ایسا نہیں گزرا جب کوئی صحافی ہلاک نہ ہوا ہو۔

پرسرار حالات میں پاکستان کے معروف صحافی سینیراینکر پرسن ارشد شریف کا کینیا میں قتل، لاہور کی سینیر رپورٹر صدف نعیم کی لانگ مارچ کوریج کے دوران کنٹینر سے گر کر حادثاتی موت اور نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر ملک چھوڑ کر جانے والے صحافیوں کی بڑھتی تعداد نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھادیا ہے کہ کیا پاکستان صحافت کے لیے محفوظ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافت کا پیشہ اس لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ صحافیوں کے خلاف تشدد کرنے والوں کو سزائیں نہیں دی جاتیں اور ایسے مقدمات پر کوئی فیصلہ نہیں ہو پاتا۔

آہوں سسکیوں دعاؤں محبتوں کے ساتھ الوداع ارشد شریف

انٹرنشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 30 سالوں میں دنیا بھر میں جو صحافی قتل ہوئے ان میں پاکستان، عراق، میکسیکو اور فلپائن کے بعد چوتھے نمبر پر ہے جہاں اس عرصے میں 138 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی صحافیوں کو ملک کی خفیہ ایجنسیوں، دہشتگرد تنظیموں اور عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے ہراساں کیا جاتا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

آن لائن ٹرولنگ اور ہراسمنٹ خواتین صحافی سوشل میڈیا پر غیر محفوظ

پی پی ایف کے مطابق جنوری 2020 سے اپریل 2021 کے دوران اپنے کام کی وجہ سے ایک صحافی کا قتل، گرفتاریوں اور نظربندی کے 10 واقعات، جبری طور پر اٹھائے جانے اور اغوا کے 4 واقعات، براہ راست حملوں کے 16 واقعات، دھمکیوں کے 13 واقعات، چھاپوں اور حملوں کے 4 واقعات، انٹرنیٹ پر بڑی پابندی یا بلیک آؤٹ کے 5 واقعات، پیمرا کی 22 ہدایات جو آزادی اظہار رائے میں قدغن لگنے کاباعث بن جاتی ہیں۔

صحافیوں اور سوشل میڈیا کی یہ جنگ آخر کب تک

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے، جہاں صحافیوں کے خلاف تشدد کے مقدمات کی سب سے زیادہ تعداد غیر حل شدہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “پاکستان دنیا میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے اور صحافیوں کے لیے مشکل ہے کہ وہ ایک آزاد فضا ء میں کام کر سکیں۔

فریڈم نیٹ ورک پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی جانچ کرتا ہے، اس کے مطابق مئی 2020 سے اپریل 2021 کے دوران صحافیوں کو درپیش خطرات اور حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور صرف ایک سا ل کے دوران 148 ایسے واقعات ہوئے ہیں۔

اب صحافیوں کے لیے خطرناک ترین جگہ بلوچستان یا قبائلی علاقے نہیں بلکہ اسلام آباد ان کے لیے خطرناک ترین شہر بن چکاہے۔ کیونکہ صحافیوں کے خلاف 148 واقعات میں سے 51 اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس دوران سات صحافی قتل ہوئے سات پر قاتلانہ حملے ہوئے، پانچ کو اغوا کیا گیا اور 25 گرفتار ہوئے، 15 کو زدو کوب کیا گیا جبکہ 27 پر مقدمات درج کئے گئے۔

 دوسری جانب چاہے سابقہ حکومت ہو یا حالیہ حکومت ہو ان کا دعوی یہی ہے  کہ انہوں  نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں صحافیوں کی ضلعی سطح پر پولیس کے ساتھ مل کر کمیٹیوں کی تشکیل بھی شامل ہے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *