Pakistan Miracles 808x454

معجزات اور قدرت کی مددسے پاکستان سیمی فائنل میں

41 views

پاکستانی ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کو چاہے ہم کچھ بھی کہیں، ایک بات تو طے ہے کہ قدرت واقعی ان کے ساتھ ہے۔ اب قدرت جس کے ساتھ ہو،  اس پر تنقید کیسے کریں۔ ورنہ ان کی ٹیم زمبابوے سے ہار کے اگر ہالینڈ کے جنوبی افریقہ کو ہرانے پر انحصار کرے تو سیمی فائنل میں پہنچ جانے میں کم از کم ان کا کوئی کمال نہیں سمجھنا چاہئے۔

عدنان حسن سید

بہر طور،  ثقلین کا بغیر کوشش کرے قدرت پر یقین سہی اور قوم کی قسمت سہی،  پاکستان کا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے سیمی فائنل میں پہنچ جانا ایک خوش آئند بات ہے اور ایک ایسا اسٹیج ہے جہاں تک رسائی اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل سب یقینی قرار دے رہے تھے۔تاہم اس رسائی میں قسمت کا کتنا عمل دخل رہا،  آئیں دیکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں:

پاکستان کرکٹ ٹیم اور ڈیزل سے چلنے والا انجن

ہالینڈ کی جنوبی افریقہ کے مخالف معجزاتی فتح کے باوجودکپتان بابر اعظم کے کچھ فیصلے پوری کوشش کررہے تھے کہ ٹیم اتنا آگے تک نہ پہنچ پائے۔ مثلاً بری طرح آؤٹ آف فارم ہونے کے باوجوداوپننگ پوزیشن سے نیچے نہ آنا اور پاور پلے ضائع کرنا ان کی انا کا ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو قومی نقصان سے بس ذرا سا دور رہ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:

کیا ورلڈکپ ٹی ٹوئنٹی کے لیے ٹیم پاکستان کی سلیکشن فلم لگان سے متاثر ہے

جنوبی افریقہ کے خلاف چار وکٹوں کے جلدی گرجانے کے باعث ٹورنامنٹ سے ہمارا چل چلاؤ ہی تھا کہ افتخار احمد اور شاداب خان نے بازی پلٹ دی اوراسکور غیر معمولی ہوگیا۔یہ بابر کی قسمت ہی تھی کہ بارش نے ٹارگٹ جنوبی افریقہ کے لئے مزید مشکل کردیا اور پاکستان جیت گیا۔

مزید پڑھیں:

روک سکو تو روک لو یہی لڑکے ہیں یہی کھیلیں گے

اسی طرح بنگلہ دیش کے خلاف دل بھر کے گیندیں ضائع کرنے کے بعد یہ بابر کی قسمت تھی کہ وہ اور ان کے دست راست رضوان جلد آؤٹ ہوگئے ورنہ آنے والوں کے لئے مطلوبہ رن ریٹ اور مشکل ہوجاتا اور ایسی صورت حال میں شکست کی ذمہ داری بھی مڈل آرڈر پر ہوتی۔

بابر کے عجیب و غریب فیصلوں میں ایک یہ بھی ہے کہ محمد نواز کو بولنگ نہ دی جائے اور بدلے میں ان کو ون ڈاؤن بھیجا جائے جبکہ ان فارم بیٹرز کی ایک لائن پیچھے بیٹھی ہو۔ یہ کسی گلی کے میچ کی حکمت عملی ہے کہ لے بھائی اوور نہیں کیا تو ون ڈاؤن چلا جا۔یہ بھی بابر کی قسمت تھی کہ نواز نے آؤٹ ہونے میں زیادہ وقت نہیں لیا۔

مزید پڑھیں:

پاکستانی کوچ کی ٹیم قدرت کے حوالے

ایسے ہی محمد رضوان کی قسمت نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ہالینڈ کے خلاف میچ میں پاکستان کو رن ریٹ تیز کرنے کی ضرورت تھی لیکن ان کے سست 49رنز زبردستی کھیل کو 14ویں اوور تک لے آئے۔ رضوان کی قسمت کہ سیمی فائنل تک رسائی کے لئے رن ریٹ تک نوبت نہیں آئی ورنہ ان پر بہت لے دے ہوتی۔

مزید پڑھیں:

ایشیاء کپ کے مجاہد ہی اب ورلڈ کپ کے محاذ پر

ایسے ہی جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش دونوں کے خلاف پاور پلے ضائع کرنے کے بعد بھی پاکستان جیت گیا،  یہ رضوان کی خوش قسمتی تھی ورنہ ان کی یہ کمزوری اب ناسور بنتی جارہی ہے۔ ادھر رضوان کی سفارش پر ٹیم میں شامل ہونے والے محمد حارث نے دونوں میچز میں پرفارم کردیا ہے،  اس لحاظ سے بھی فی الحال رضوان خوش قسمت ہیں۔ آگے حارث ہی ان کی جگہ ٹیم میں لیتے ہیں یا نہیں،  یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔

قسمت تو چیف سلیکٹر محمد وسیم کی بھی اچھی رہی کہ اتنے سارے ان فٹ کھلاڑی سلیکٹ کرکے بھی ان کی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ گئی اور اب کم از کم یہ تمغہ وہ سینے پر سجا کے گھوم سکیں گے۔ فخر زمان کو پوری طرح فٹ نہ ہونے پر ٹیم کے ساتھ گھسیٹنا اور عثمان قادر کو ٹریولنگ ریزرو بنا کے رکھنا کہیں سے بھی دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا

شاہین آفریدی بے شک فیصلہ کن کارکردگی پیش کررہے ہیں لیکن نیم صحت مندی کے ساتھ ان کو اتنے بڑے ایونٹ میں بھیجنا بھی ان کے کیرئیر پر ایک رسک تھا۔شاہین اور وسیم کی قسمت کہ شاہین ابھی تک خود کو بچا نے میں کامیاب رہے ہیں۔ تاہم دوسری جانب آصف علی،  خوشدل شاہ اور حید علی جیسے مڈل آرڈر کو تبدیل نہ کرنا بھی ایک رسک تھا۔ خوش قسمتی سے ان تینوں کے بنچ پر بیٹھے بیٹھے ہی پاکستان آگے بڑھ گیا، اور اس خوش قسمتی میں محمد حارث کی سرپرائز پرفارمنس کا بھی ہاتھ ہے۔

مجموعی طور پر قسمت کے ساتھ ساتھ قدرت نے بھی ابھی تک ٹورنامنٹ میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں اگر بارش نہ ہوتی تو صورت حال مختلف ہوسکتی تھی کیونکہ جنوبی افریقہ کا ٹارگٹ بارش کے بعد کافی مشکل ہوگیا تھا۔

اسی طرح ہالینڈ کا جنوبی افریقہ کو شکست دینا تو بالکل پاکستان کی قسمت کا چھکا لگنے والی بات تھی۔ ایک خوش قسمتی تو ٹورنامنٹ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں ہی پاکستان کے حق میں چلی گئی تھی۔ ابتدائی رزلٹس سے لگ رہا تھا کہ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز میں سے کوئی یا دونوں پاکستان کے گروپ میں آسکتے ہیں اور ظاہرہے کہ ایسے میں ہالینڈ کے خلاف ملنے والے دو یقینی پوائنٹس کے لئے بھی کوشش کرنی پڑتی۔

اب یہ ہالینڈ کی بھی خوش قسمتی تھی کہ وہ اس گروپ میں آیا اور دو میچز جیت کر اسے اگلے ورلڈ کپ کے لئے براہ راست کوالیفائی کرنے کا موقع مل گیا۔ دو فل ممبرز کو ایک ہی ٹورنامنٹ میں شکست دینے کا مطلب ویسے صرف خوش قسمتی نہیں ہوسکتا بلکہ اس کو ہالینڈ کی ٹیم کا اگلی سطح پر پہنچنا سمجھنا چاہئے۔

چلیں خیر،  معجزات اور قسمت سے ہی سہی،  پاکستان سیمی فائنل تک پہنچ گیا ہے۔ اب مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہے اور اس کا نتیجہ کہیں بھی جاسکتا ہے۔ جب بھی کسی عالمی ایونٹ میں خوش قسمتی کی بات آتی ہے تو شائقین موازنہ فوراً1992 کے عالمی کپ سے کرتے ہیں لیکن یہ صورت حال تھوڑی سی مختلف ہے۔

تب کپتان اور دوسرے کھلاڑی قربانیاں دے رہے تھے اور بدقسمتی پر قابو پانے کی کوشش کررہے تھے۔ اگر انگلینڈ کے خلاف میچ میں بارش سے ہمیں ایک پوائنٹ اضافی ملا تھا تو اسی بارش نے ہمیں جنوبی افریقہ کے خلاف دو یقینی پوائنٹس سے محروم بھی کیا تھا۔

وسیم حیدر اور اقبال سکندرکے آسٹریلین کنڈیشنز میں سیٹ نہ ہونے کے باعث کپتان عمران خان کو کندھے میں تکلیف کے باعث ہر میچ میں بولنگ کرنی پڑرہی تھی۔اسی تکلیف کے ساتھ وہ تیسرے نمبر پر بیٹنگ بھی کرنے آتے تھے کیونکہ باؤنسی وکٹوں پر سب کو مشکلات پیش آرہی تھیں۔

عامر سہیل اور اعجاز احمد بولرز کی کمی کے باعث ہر میچ میں پانچویں اور چھٹے بولر کا کردار نبھا رہے تھے۔ تب قسمت ان لوگوں کا ساتھ دے رہی تھی جو خود غرضانہ کرکٹ نہیں کھیل رہے تھے۔آج کے کپتان اگر ٹیم کی خاطر اوپننگ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہورہے توان فتوحات کو ان کی نہیں کسی اور کی قسمت سے تعبیر کیا جائے

اسی طرح محمد رضوان کہتے تھے کہ جو اپنے لئے کھیلے گا،  اس کے ساتھ اللہ سب کے سامنے برا کرے گا۔ اب ان کا کیا خیال ہے، یہ کوئی ان سے پوچھے۔قصہ مختصر یہ کہ قسمت بھی انہی کا ساتھ دیتی ہے جن کی نیت اچھی ہو۔ انا پرستی اور خود غرضی کا قسمت لمبا ساتھ نہیں دیتی۔

سیمی فائنل اور فائنل میں فتح کا دارومدار سو فیصد کوشش پر ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ ہماری کوشش پوری اور نیت صاف ہوگی تو قسمت بھی ساتھ دے گی اور قدرت بھی۔اگر انشاء اللہ ٹائٹل جیت گئے تو یقین آجائے گا کہ طاقت ور کھلاڑیوں اور ارباب اختیار کی نیت ٹھیک ہے،  ورنہ اب شاید تاویلیں پیش کرنے کی بھی مہلت نہ مل سکے۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *