AbdulqadirHall of Fame 808x454

دنیا کا عظیم لیگ اسپنر جس نے اپنے بیٹے کا نام عمران رکھا

48 views

جب وزیر اعظم پاکستان عمران خان پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیاں اور ڈپارٹمنٹ کرکٹ کو بند کرنے کے متعلق اپنی بات مکمل کر لیتے ہیں اور ان کی گفتگو کے بعد کمرے میں ہر طرف سناٹا چھایا ہوتا ہے تو اچانک کمرے میں ایک آواز گونجتی ہے”وزیر اعظم صاحب آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں” یہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ مشہور زمانہ لیگ اسپنر عبدالقادر کی تھی۔

محمد فیاض( ابو ظہبی )

وہی لیگ اسپنر عبدالقادر جہنوں نے عمران خان سے دوستی کی وجہ سے اپنے سب سے بڑے بیٹے کا نام عمران رکھا۔ جو انعام میں ملنے والی گاڑی خود رکھنے کی بجائے عمران خان کو دے دیتے ہیں۔ مگر جب بات اصول کی آتی ہے تو اپنے سب سے اچھے دوست اور اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہاں میں ہاں ملانے کی بجائے سچ کا ساتھ دیتے ہیں.

 جب باقی سب عمران خان کے ڈپارٹمنٹ کرکٹ اور دوسری کھیلوں کو بند کرنے کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھک رہے تھے تب عبدالقادر نے ان چیزوں کی طرف توجہ مبذول کروائی اور یہ بتایا کہ اس نظام کو تبدیل کرنے کے کیا نقصان ہوں گے۔

70  کی دہائی کے آخر  میں جب ہر طرف تیز گیند بازوں کا راج تھا تو دنیائے کرکٹ میں ایک ایسا گیند باز آتا ہے جو تیز گیند باز تو نہیں تھا مگر اپنے دوسرے ہی ٹیسٹ میچ میں ایک اننگز میں 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کے بعد سب کو اپنی طرف متوجہ کروا لیتا ہے۔

عبدالقادر کی گیند بازی اپنے آپ میں ایک آرٹ تھی۔ عبدالقادر سے پہلے کوئی بھی لیگ اسپن گیند بازی کو اتنا نہیں جانتا تھا مگر عبدالقادر نے اسپن گیند بازی میں ایک نئی روایت ڈالی اور اپنے آپ کو منوایا۔

عبدالقادر نے تقریبا 16 سال تک پاکستان  کی نمائندگی کی۔ اس دوران انہیں نے اپنی گیند بازی سے پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے کرکٹ دیکھنے والے ممالک کے لوگوں کو بھی اپنا مداح بنایا تھا۔ لوگوں کو انتظار رہتا تھا کہ کب گیند عبدالقادر کے ہاتھوں میں آئے اور وہ عبدالقادر کی انگلیوں کا جادو دیکھ سکیں۔

عبدالقادر کی گیند بازی کسی آرٹ سے کم نہیں تھی۔ گیند کرنے سے پہلے بھاگنے کا انداز بھی ان کو باقی اسپن گیند بازوں سے منفرد اور دیکھنے والوں کے دلوں کو چھونے والا تھا۔ عبدالقادر نے اپنے کیریئر میں ہمیشہ پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے 67 ٹیسٹ میچوں میں 236 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ  104 بین الاقوامی ایک روزہ میچوں میں 132 کھلاڑی ان کی گیند بازی کا شکار بنے۔

اپنے حلقہ احباب میں باؤ جی کے نام سے مشہور عبدالقادر پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر بھی رہے مگر سچ بولنے کی عادت کی وجہ سے زیادہ دیر اس عہدے پر کام نا کر سکے۔

عبدالقادر کے بیٹے عثمان قادر اس وقت پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا ایک اہم حصہ ہیں۔

دینا کے بہترین لیگ اسپنرز کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ عبدالقادر سے لیگ اسپن کا آرٹ سیکھیں۔ آسٹریلیا کے آنجہانی لیگ اسپنر شین وارن عبدالقادر سے لیگ اسپن کی ٹپس لیا کرتے تھے اور اس چیز کا شین وارن نے کافی مرتبہ تذکرہ بھی کیا۔

جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کی جانب سے اپنا لوہا منوانے والے پاکستانی نژاد عمران طاہر ہمیشہ سے عبدالقادر کو اپنا استاد مانتے ہیں۔

آئی سی سی نے عبدالقادر کو آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا ہے۔ یقینا یہ پاکستان کرکٹ اور عبدالقادر کے چاہنے والوں کے لیے ایک بہت اچھی خبر ہے۔دنیا میں جب بھی  لیگ اسپن گیند بازی کی بات ہو گی تو میرے خیال میں باؤ جی کا نام سرفہرست ہو گا۔

اللہ تعالٰی باؤ جی کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین ثم آمین

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *