filmjoyland 808x454

آسکر کے لیے نامزد فلم جوائے لینڈ میں کیا بے حیائی دکھائی گئی ہے

162 views

اس  سال پاکستانی فلم  ڈائریکٹراوررائٹر صائم صادق اوراورپرڈیوسر سرمد سلطان کھوسٹ کی جانب سے ایک آرٹ فلم بنائی گئی جس کا نام  جوائے لینڈ ہے۔  فلم جوائے لینڈ کو سرکاری طور پر آسکر کے لیے نامزد کیا گیا تھا ۔ لیکن اچانک ایسا کیا ہوا کہ اس فلم کو سنسر سرٹیفیکٹ ملنے کے باوجود پاکستان میں نمائش کے لیے نہیں پیش کیا جارہا تھا ۔ تاہم اب فلم کے کچھ حصے حذف کرکے اسے نمائش کی اجازت دیدی ہے۔

پاکستانی شہرلاہور میں رہنے والے کرداروں کے گرد گھومتی یہ غیر معمولی فلم جوائے لینڈ جس کو مکمل ہونے میں  سینکڑوں لوگوں کی  چھ سال اور سینکڑوں لوگوں کی محنت لگی ۔  اس فلم کی خاص اور منفرد بات اس کاغیر روایتی موضوع ،ایک منفرد کہانی، حقیقت  سے قریب کردار  اور  اس کی کوالٹی ڈائریکشن اور پروڈکشن ہے ۔

شاید یہی وجہ بنی کہ  فلم جوائے لینڈ  نے  پاکستان میں اپنی  ریلیز سے پہلے دنیا بھر کے فلم فیسٹیولز اور مقابلوں میں نمائش  میں دھوم مچادی دنیا بھر کے سب سے بڑے فلم فیسٹیول  کانز فلم فیسٹیول میں اس  فلم  نے نہ صرف جیوری ایوارڈ جیتا بلکہ فلم کو کانز میں  standing ovation  بھی ملا ۔

جبکہ  فلم جوائے لینڈ   کو دنیا بھر کے جانے مانے  فلمی  ناقدین نے سراہا ۔

 کانز میں ہی نہیں بلکہ فلم  جوائے لینڈ نے  ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں بھرپور پذیرائی  حاصل کی جس کے  بعد اس فلم کو پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے  اگلے سال ہونے والے آسکر ایوارڈ میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجنے کے لیے نامزد کیا۔

 جبکہ بتاتے چلیں  کہ آسکر کے قوانین کے مطابق ایوارڈز میں نامزدگی کے لیے بھیجی گئی کسی بھی فلم  کے لیے ضروری ہے کہ وہ فلم جس ملک کی ہے وہاں تیس نومبر سے پہلے کم از کم سات دنوں کے لیے نمائش کے لیے پیش کی جائے۔

جس کے بعد ہی وہ فلم آسکر میں نامزدگی کے لیے اہل ہوسکتی ہے ۔

اس کے پیش نظر فلم جوائے لینڈ کو اس ہفتے پاکستانی سنیما میں ریلیز ہونا تھا۔

جس کے لیے کئی ماہ سے اس کی تشہیر اور ریلیز کی تیاریاں کی جارہی تھیں اور اس کی ریلیز کے لیے ملک تین بڑے سنسر بورڈز نے  منظوری بھی دیدی تھی۔ مرکزی سنسسر بورڈ اسلام آباد نے سترہ اگست کو اس کی ریلیز کی منظوری دیدی تھی

پنجاب سنسر بورڈ نے گیارہ اکتوبر اور سندھ کے سنسر بورڈ نے فلم کی ریلیز سے سولہ دن پہلے دو نومبر کو اس کی ریلیز کی منظوری دیدی تھی۔

لیکن ریلیز سے صرف ایک ہفتہ پہلے وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک نوٹی فیکشن کے ذریعے اس فلم کی ریلیز  کی اجازت واپس لے لی

وزارت اطلاعات و نشریات کے نوٹی فیکشن کے مطابق فلم جوائے لینڈ نامی فیچر فلم مرکزی سنسر بورڈ کو پیش کی گئی جس نے اس فلم کو سترہ اگست کو سنسر سرٹیفیکٹ جاری کیا۔

لیکن اس فلم کی ریلیز کے بعد اس میں انتہائی قابل اعتراض مواد کی تحریری درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔

جو ہمارے سماجی اقدار اور اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی اور موشن پکچرزآرڈیننس  1979  کے  سیکشن    9تحت شائستگی اور اخلاقایت کے اصولوں کے ٘خلاف ہیں۔ اس لیے سیکشن نو کے تحت جامع انکوائری کے تحت اور اس حوالے سے جامع انکوائری  کرنے کے بعد وفاقی حکومت جوائے لینڈ کو  CBFCکے ماتحت  پورے پاکستانی سنیماز کے لیے  uncertified قرار دیتی  ہے۔

اس نوٹی فیکشن کے بعد  اب ملک بھر کے سنیماز میں اس فلم کی ریلیز اور نمائش رک گئی ہے۔

اس نوٹی فیکشن کے بعد فلم کے ڈائریکٹر پرڈیوسر کاسٹ کی طرف سے ہی نہیں بلکہ اداکاروں اور سیاستدانوں کی طرف سے بھی  مذمت سامنے آئی۔

 سوال اٹھا کہ  آخر اس فلم کی ریلیز سے پہلے ہی سنسر بورڈ کو  کس کی اور  کیسی شکایات موصول ہوئی ہیں۔جس کی بنیاد پر  اس پوری فلم کو دکھانے پر پابندی لگادی گئی۔

 جبکہ یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ تین مہینے پہلے این او سی ملنے کے بعد  اب ایسا کیا ہوا ہے کہ وزارت اطلاعات و نشریات کو  اس کا این او سی واپس لیناپڑگیا۔

 جب فلم ریلیز ہونے سے پہلے شکایات اور اعتراضات اتنے بڑے تھے کہ فلم کے کچھ حصوں کو سنسسر کرنے یا ایڈٹ کرنے کے بجائے پوری فلم کو ہی ان سرٹیفائیڈ کردیا گیا۔

سمجھ سے بالاتر ہے ایسی فلم  جس کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی  ایوارڈ ملے ہیں فلم ناقدین اس کی تعریف کررہے ہیں۔  پاکستان میں اس کی نمائش کی بات آئی تو محض ایک نوٹی فیکشن  کے ذریعے   اس کی ریلیز کو  کیوں روکا گیا ۔

 لیکن جوائے لینڈ وہ پہلی فلم نہیں ہے جس کی نمائش کو پاکستان میں ریلیزسے پہلےروکا گیا ۔ زندگی تماشہ  جاوید اقبال  بھی اس کی مثالیں ہیں۔اور ان سب فلموں کی نمائش ٹریلر کی بنیاد پر بننے والے مفروضوں پر روکی گئی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  سنسر بورڈ کو اس فلم کے موضوع یا مواد سے یا کسی حصے یا ڈائیلاگ  پر اعتراض تھا  یا سنسر بورڈ یہ سمجھتا ہے کی یہ فلم بچوں کے دیکھنے کی نہیں ہے۔اس میں تشدد یا کچھ ایسے سینز ہیں جو کسی مخصوص طبقے کو قابل قبول نہیں  ہیں

تو ایسی صورت میں اس فلم پر لیبل لگایا جاسکتا تھا  جیسا کہ جوائے لینڈ کو این او سی  دیتے ہوئے دو سنسر بورڈز نے اسے اے کیٹیگری میں رکھا  یعنی صرف بالغان کے لیے۔ ساری دنیا میں ایسے ہی ہوتا ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر صائم صادق کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ اس فلم میں ایسا کچھ ہے جو ہمارے معاشرتی اقدار کے خلاف ہے۔ یہ ایک خاندان کی کہانی ہے جو پاکستان کا کوئی بھی خاندان ہوسکتا ہے ۔اس فلم میں تو ہم نے خاندانی سسٹم کی عکاسی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  فلم میں جہاں بہت سے کردار ہیں وہاں اس میں ایک خواجہ سرا کا بھی کردار ہے جو فلم میں بھی ایک خواجہ سرا نے ہی ادا کیا ہے ۔

 ان کا مزید کہنا تھا شاید ہمارا ایک مخصوص طبقہ خواجہ سرا کو اس معاشرے کا عام فرد نہیں سمجھتا نہ ہی وہ یہ تسلیم کرنے کوتیار ہے کہ خواجہ سرا بھی انسان ہیں اور ان کے بھی  جذبات ہوتے ہیں ۔

اس فلم میں جو کچھ معاشرے میں ہورہا ہے اس کی ایک جھلک ہے ۔ ہماری فلم  کوئی بے حیائی  پرموٹ نہیں کررہی ہے ۔ ایک حقیقت ہے جس کو کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔

انہوں نے فلم کے موضوع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک لڑکے کی ایک خواجہ سرا سے دوستی ہوجاتی ہے حالانکہ وہ شادی شدہ ہوتا ہے .

ہمارے آس پاس ایسی بہت سی کہانیاں ہیں شاید ہمارے اقدار کے حساب سے ٹھیک نہیں ہیں.لیکن لوگ ہمیشہ اقدار کے حساب سے کام نہیں کرتے اس فلم کے کردار بھی معاشرے کے اقدار اور اپنے جذبات کے درمیان کی جنگ لڑررہے ہیں.

اس فلم میں ایسا کچھ نہیں ہے جس کا الزام لگایا جارہا ہے ۔ ہمیں سندھ پنجاب اور اسلام آباد بورڈ نے کچھ چیزیں کرنے کا کہا تھا وہ ہم نے کردی تھیں.اور ہماری فلم تو اٹھارہ کو تیار تھی ریلیز کے لیے  اور سنسسر بورڈ کے کافی سارے لوگوں نے تو اس فلم کو سراہا تھا

انہوں نے کہا کہ  حیرانی ہے کہ وزارت اطلاعت و نشریات نے ہم سے اس سلسلے میں بات تک نہیں کی خود ہی فیصلہ کردیا  اور ہمیں تو سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ ہماری فلم کو بین کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت  کم فلموں کو ایسا موقع ملتا ہے کہ انہیں انٹرنیشنل طور پر سراہا جائے۔ چاہتا ہوں کہ اس فلم کو ہمارے لوگ بھی دیکھیں

یہ فلم کانز میں گئی ٹورنٹو میں بھی گئی اتنی تعریف ہوئی اور یہ پاکستان کی پہلی فلم ہوسکتی ہے جس کو آسکر مل سکتا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ   امید ہے کہ ہماری فلم کو ریلیز کیا جائیگا۔

جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے نے فلم جوائے لینڈ کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ فلم معاشرتی اور اخلاقی اقدار کے خلاف تو نہیں۔

فلم

بہرحال اچھی خبر یہ ہے کہ فلم جوائے لینڈ کے معاملے پر مرکزی فلم سنسر بورڈ کے فل بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں  فلم کو دیکھا گیا اور اس کے کچھ حصے حذف کر دیے گئے۔

فل بورڈ نے فلم کے بعض حصے حذف کر نے کے بعد نمائش کی اجازت دے دی ہے۔

 حقیقت ہے کہ ہم  نے یہ روایت بنالی ہے کہ اگر معاشرے میں کوئی بے ہودگی  موجود ہے تواس پر بات کرنا بے ہودگی بنادیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب تک بات نہیں ہوگی تو بے ہودگی ختم کیسے ہوگی۔ مگر یہ بھی تو سچ ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بے ہودگی ہے

انسانوں کو حقوق نہ ملنا بے ہودگی ہے۔ انسانوں کا آئین اور قانون سے ملنے والے حقوق کو سلب کرنا بےہودگی ہے

اس پر بات کرینگے تو یہ بے ہودگی ختم ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *