NASTP Project 720x454

پراجیکٹ ٹیکنالوجی کا نیا دور آخر ہے کیا NASTP پاک فضائیہ کا

1057 views

 بین الاقوامی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022  کا گیارہواں ایڈیشن کراچی ایکسپو سینٹر میں  کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا ۔ اس بار پاک فضائیہ کے اسٹال  نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP)نےبہترین سٹال کا اعزازحاصل کیا آئیڈیاز 2022  کی نمائش کے دوران پاک فضائیہ کا سٹال نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) ملکی اور غیرملکی توجہ کا مرکز بننے والا یہ پراجیکٹ آخر ہے کیا ۔

فہمیدہ یوسفی

راوا نے ائیر وائس مارشل غلام عباس گھمن ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(NASTP) سے خصوصی بات چیت کی اور اس پراجیکٹ کے بارے میں ان سے تفصیلات حاصل کیں۔

  نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP)  ایک ایکو سسٹم ہے:

این اے ایس ٹی پی کا بنیادی مقصد ایوی ایشن،  ہوابازی  اور سائبر ڈومینز میں ڈیزائن، تحقیق، ترقی اور اختراعات کو فروغ دینے والے ضروری عناصر کے لیے انڈسٹری اور ایکڈمیا کے درمیان روابط کا قیام ہے۔

ائیر وائس مارشل غلام عباس گھمن نے اس پراجیکٹ  کی اہمیت کے بارے میں  راوا کو بتاتے ہوئے کہاکہ ایک جانب تو  ہمارے سامنے ابھرتی ہوئی اور خلل ٹیکنالوجیز آتی جارہی ہیں ۔ان ٹیکنالوجیز کو مقامی کوششوں کے بغیر حاصل کرنا  بہت مشکل ہے۔

مزید پڑھیں:

پاک فضائیہ کا پویلین آئیڈیاز 2022 کے آخری دن بھی حاضرین کا مرکز نگاہ

دوسری جانب ہماری  مالیاتی گنجاِئش کم ہوتی جارہی ہے  اسلیے یہ بہت ضروری ہے کہ بہت ہی منظم اپروچ اور مکمل توجہ کے ساتھ ہم نہ صرف اپنی نیشنل سیکورٹی کی ضروریات  بلکہ اپنی انڈسٹری کی ترقی کے لیے ایرو اسپیس، سائبر اور کمپیوٹنگ کلسٹرز بنائیں  اور ابھرتی ہوئی اور خلل ڈالنے والی ٹیکنالوجیز کے لیے ڈیزائن، آر اینڈ ڈی اور اختراعی مراکز قائم کریں .

جس کے لیے  پاک فضائیہ پاکستان بھر میں اپنے ستر سالہ تجربے کی بنیاد  پر حکومت پاکستان سے منظور اپنے پارٹنرز ، انڈسٹری اور اکیڈیمیا کے  تعاون کےساتھ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارکس (NASTP) کے قیام  کررہی ہے

مزید پڑھیں:

کیا پاک فضائیہ بھارتی فوج کی بڑھتی ہوئی طاقت اورجدیدیت کا جواب دیگی؟

یہ ایک پورا ایکو سسٹم ہے جہاں اکیڈیمیا اور  پرائیوٹ انڈسٹری ملکر کام کرینگے اور حکومت نہ صرف ان سیکٹرز کو بلکہ دوسرے سیکٹرز کو بھی ترغیب دے جیسا کہ ریگولٹری ڈیوٹیز  کسٹمز  ٹیکس  وغیرہ تاکہ بزنس آگے بڑھ سکے ۔

  نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) کا مرحلہ وار پلان  :

این اے  ایس ٹی پی کے مرحلہ وار پلان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ائیر وائس مارشل غلام عباس گھمن نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کے زیرانتظام  سب سے پہلے ٹیکنالوجی پارکس بنائے جارہے ہیں۔  یہ ٹیکنالوجی پارکس مرحلہ وار تشکیل کیے جائینگے  سب سے پہلے یہ  پاکستان کے بڑے شہروں میں بنائے جائینگے۔

مزید پڑھیں:

سربراہ پاک فضائیہ کی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 کی افتتاحی تقریب میں شرکت

اس کے بعد  ان کو  یونی ورسٹی کی سطح  پر پھر سب سے آخر میں ہم اس کوضلعی سطح پر سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارکس بنائےجائینگے

 اس پلان پر کتنا عمل در آمد ہوچکا ہے اسکی تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ  راولپنڈی میں ٹیکنالوجی  پارک بنادیا گیا ہے اور اسے آپریشنل کردیا گیا ہے ۔

مزید پڑھیں:

کیا بھارتی تیجس پاکستانی جے ایف 17ڈویل سیٹ تھنڈر کا مقابلہ کرسکتا ہے؟؟

راولپنڈی کے ٹیکنالوجی پارک میں تعلیمی انسٹی ٹیوشن  بنائے ہیں جو ریسرچ اینڈ ڈیولپمںٹ کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ جبکہ وہاں ہم ہیومن ریسورس  جو ہمارے پاس طالب علموں کی شکل میں موجود ہے کو بھی گروم کررہے ہیں اور ان سے ریسرچ اینڈ ڈیولپمںٹ کروارہے ہیں جو مستقبل میں انڈسٹری کے لیے معاون  ثابت ہونگے۔

ہم نے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کےسارے سیٹ اپ کو اپنے پارکس میں لے آئے ہیں تاکہ یہ پرائیوٹ انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کریں اور اپنے پراجیکٹس کو آگے لیکر جائیں۔

راولپنڈی کے بعد  دوسرا  ٹیکنالوجی پارک کراچی میں  اور تیسرا لاہور میں بنے گا جو  زیادہ سے زیادہ دو سے تیں مہینوں میں آپریشنل ہوجائیگا ۔

 ٹیکنالوجی  انکوبیٹر سے نیشنل انکیوبیٹر سینٹر تک :

این اے ایس ٹی پی کے ٹیکنو پارکس کے سب سے نمایاں اقدام  کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان ٹیکنو پارکس کے

ٹیکنالوجی انکیوبیٹرز جہاں ہم گورنمنٹ  کے تعاون  سے نیشنل انکیوبیشن سینٹر بنارہے ہیں۔ ان انکیوبیشن سینٹر میں  اسٹارٹ اپس جو ہمارے جوان اپنے پراجیکٹس کوآگے لانا چاہتے ہیں اور اپنی کمپنی کو بڑھانا چاہتے ہیں ہم ان کو لیکر آئینگے۔

ان کو ہم تعلیمی سیکٹر اور انڈسٹری سیکٹر سے تعاون  لیکر دینگے۔ بلکہ ان کو جو انویسمینٹ کی مدد چاہیے ہوگی وہ بھی دینگے تاکہ وہ اپنے پراجیکٹس کو بڑھاسکیں۔

جبکہ جو پراجیکٹس اچھے ہونگے ان کو مزید سپورٹ کرینگے تاکہ وہ انڈسٹری کی سطح  پر آجائیں۔

مزید پڑھیں:

میرے حصار میں یہ عشق دائرہ: JF17BLOCK111

اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے راولپنڈی والے پراجیکٹ میں پچاس سے ساٹھ کمپنیز آپریٹ کررہی ہیں اور ہمارا پلان ہے کہ دسمبر تک ہم اسے دوسو کمپنیز تک لے جائیں۔ یہ کمپنیز تعلیمی سیکٹر کے ساتھ بھی ضم  ہونگی اور یہ آپس میں بھی مل کر کام کرینگی اور باقی کمپنیز سے بھی تعاون  لینگی۔

یعنی یہ ایک پلیٹ فارم پر  باہمی تعاون کے ماحول میں کام کرینگی۔ یہ ایک  مکمل  ایکو سسٹم ہے جب یہ ترقی کریگا تو انڈسٹری بڑھیگی  جس کا براہ راست فائدہ ہماری معیشت کو ہوگا ۔

ایرو اسپیس ڈیزائن اینڈ انوویشن سینٹر:

 اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مقامی صنعت، اداروں، ٹیکنالوجی انکیوبیشن سینٹرز اور IT پارکس وغیرہ پر مشتمل راولپنڈی کا کلسٹر ، اسی طرح کراچی کا  کلسٹر لاہور کا  کلسٹر جاکر  کامرہ کے ساتھ جڑ جائیگا  جہاں پر پاک فضائیہ کی  چار فیکٹریز ہیں۔

وہاں پر ایرو اسپیس ڈیزائن اینڈ انوویشن سینٹر بنایا جارہا ہے جوState of The Art Building ہے  جس کے پاس multiple ڈیزائن سینٹر ہیں اور سہولیات موجود ہیں۔

 وہاں پر ہم اپنی ہیومین ریسورس کو تربیت  دینگے  وہاں پر ہم ڈیزائن اینڈ ڈیولپمنٹ والا کام کرینگے۔ یعنی آئیڈیا کو  ہم ڈیزائن میں ڈھالینگے  اور پھر اسےعملی تشکیل دیکر اس کی استعداد کار بڑھائینگے۔ ہم اپنی مصنوعات نہ صرف خود ڈیزائن کرین بلکہ ان کو ایسپورٹ بھی کرسکیں۔

پاکستان ائیرفورس کے ساتھ  ہم اس سسٹم کو اآگے لیکر جائینگے۔  ہم مختلف جگہوں پر silicon valley بنائینگے. ہمارا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ انڈسٹری کو بڑھائیں تاکہ جابز پیدا ہوں۔ ہم فریش گریجیوٹس کو لینگے اور ان کی تربیت کرینگے تاکہ وہ انڈسٹری میں آکر اپنا کردار ادا کرسکیں.

ہم ٹریننگ کا ایسا سیٹ اپ بنارہے ہیں جہاں ہم فریش گریجیٹس کو لینگے ان کی تربیت کرینگے پھر ان میں سے جو اچھے طالب علم ہونگے جو اپنی کمپنی یا پراجیکٹس کو اسٹارٹ اپ  کرنا چاہتے ہیں.ان کو ہم انکیوبیشن سینٹر میں لے کر جائینگے اور وہاں سے وہ آگے بڑھینگے اور پھر وہ اںڈسٹری کے لیول تک آئینگے۔  یہ پورا ایکو سسٹم ہے جب یہ ترقی کریگا  اس کی پیداواری صلاحیت بڑھیگی

اس میں جاب کے مواقع بڑھینگے  اور ہمیں اندازہ ہے ہماری قوت ہماری ہیومن ریسورس ہے۔ اور ہم اپنے ہیومن کیپٹل کو opportunities دینا چاہتے ہیں تاکہ انڈسٹری ترقی کرے۔ ویسے بھی  ایرو اسپیس انڈسٹری کی صرف ڈیفینس میں utilization  نہیں ہے

ان ٹیکنالوجیز کی  مخلتف usage ہیں۔ یہاں پر طالب علم  اآئینگے وہ innovate  کرینگے  اسی لیے ہم کہتے ہیں ڈیزائن اینڈ انوویٹ جیسا کہ سوشل سیکٹر میں  ہیلتھ سیٹر میں  زراعت میں  مخلتلف ڈومینز میں ٹیکنالوجی  کا استعمال ہے۔

یہ جوانوں کے لیے بہت بڑی opportunity  ہے آئیں آکر کام کریں ۔جیسے جیسے انڈسٹری بڑھیگی نوجوانوں کے لیے جاب  سے بڑھینگی

اس سے ہمیں فارن انویسٹمینٹ بھی حاصل ہوگی۔

جبکہ پوسٹ کووڈ انوائرمنٹ میں ایرو اسپیس انڈسٹری میں ہیومین ریسورس  کی کمی ہے  اور جو باہر کی ایجنسیز ہییں وہ ہمارے اچھے طالب علموں  کو لے جاتے ہیں اور ہمارا برین ڈرین ہورہا ہے۔تو جب ہماری اپنی انڈسٹری  ترقی کریگی تو پھر یہ برین اپنی انڈسٹری میں ہی کام کرینگے۔

جو پاکستان کی اکنامی کو بھی بڑھانے میں کام آئینگے۔جس تیزی  کے ساتھ ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے تو یہ وقت کی ضرورت ہے ۔

جہاں ہمیں  NASTAPاپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مدد کریگا وہیں یہ ہمارے مختلف ممالک دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر کرنے میں بھی مدد کریگا .

 اس پراجیکٹ کی اہمیت کے حوالے سے این ای ڈی یونی ورسٹی کے واِئس چانسلر ڈاکٹر سروش ایچ لودھی کا کہنا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری میں  ٹیکنالوجی پارک ہے یہ بہت اہم ہے اور ساری دنیا میں اس کے کامیاب تجربے ہورہے ہیں کوریا میں امریکہ میں  سنگاپور میں  دنیا بھر میں ٹیکناکوجی پارک کامیبا ب ہیں.

اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگوں کے پاس آئیڈیاز ہوتے ہیں  خصوصی طور پر آئی ٹی ٹیکنالوجی پر  ان کے پاس ریسورسز نہیں ہوتے اس کے لیے یہ ٹیکنالوجی پارک بہت معاون ثابت ہوتے ہیں.

NASTP  بہت اہم ہے کیونکہ یہ ایکو سسٹم ڈیولپ کریگا اور ایک ایسا موقع فراہم کریگا جس میں جو لوگ ہیں وہ آکر اپنے آئیڈیاز کو شئیر کرینگے اور اس کو انیکوبیٹ کرکے  ڈویلوپ  کرکے ایک ایسا سسٹم بنایا جائے جو نہ صرف لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ ملک کی معیشت کے لیے بھی بے تحاشہ فائدہ مند ہوگی.

انہوں نے این ڈی یونی ورسٹی  کے پلان کے بارے میں بھی بتایا  کہ وہاں بھی ٹیکنالوجی پارک بن رہا ہے  وہ بہت اہم ہے  اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس بے تحاشہ انٹلیکچویل پراپرٹی  ڈویلپ ہورہی ہے  جس کو ہم کمرشلائز نہیں کرسکتے  تو ہمارا  آئیڈیا یہ ہے کہ ہم  پرائیوٹ پبلک پارٹنر شپ  میں لانچ کرنے والے ہیں.

 اس کی فزیبلٹی اسٹڈی ہوچکی ہے  جس میں ہماری گورنمنٹ اآف سندھ سے معاونت تھی  اس کی ٹیکنکل   ایولیشن کمیٹی ہے اس نے بحی اس کو منظور کرلیا ہے  تو ہم بہت جلد اسے لیکر آئینگے.

ائیر اسپیس ٹیکنالوجی کے  حوالے سے انہوں نے بتایا کہ بہت سارے استعمال ہوتے ہیں ایک تو ظاہر ہے اس کا دفاعی مقصد کے لیے  ہے جس پر پاکستان میں بہت کام ہورہا ہے لیکن  اس کا سویلین استعمال بہت ہے .

چاہے وہ ڈرون ٹیکنالوجی ہو چاہے وہ ائیر ٹیکسی ہوں دنیا بھر میں اس پر تجربات ہورہے ہیں کہ دنیا بھر میں  مختصر فاصلے کے لیے آمد و رفت  کے لیے کس طرح اسے استعمال کیا جاسکے.

ڈرونز اور یو اے وی مختلف سرویز میں استعمال کیے جاسکتے ہیں چاہے زراعت کا سروے ہو  چاہے وہ  اآبادی کا سروے ہو چاہے وہ کسی عمارت کا سروے ہو  اسی لیے NASTAP اس کے اندر بےتحاشہ گنجائش موجود ہے اور جب  یہ سب چیزیں میچور ہوجائینگی تو ملک کی معیشت کو فائدہ ہوگا.

ہماری یونی ورسٹی میں بے تحا شہ ریسرچ ہورہی ہے  جس میں ہمارے اساتذہ اور طالب علم مل کر  نئی نئی چیزیں بنارہے ہیں۔

  ہماری پرابلم یہ ہے کہ ہم اس کو لائنسس کرکے کمرشلائز نہیں کرسکتے اور جو یہ NASTAP  ہے بنیادی طور پر آپ کو وہ پلیٹ فارم دیگا  جہاں پر آپ انڈسٹریز کے ساتھ ملکر  ایک آئیڈیا کو انکیوبیٹ کریں اس کو ڈویلپ کریں کمرشل کریں انویسٹرز کو لیکر آئِیں اور ان کے ساتھ مل کر کام کرکے ایک ایسی پراڈکٹ بنائِں  جس  کو ایکسپورٹ کیا جاسکے۔

جس کا ملک کو بھی  فائدہ ہوگا ائیر انڈسٹری کو بھی فائدہ ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *