ben stokes English Captain 808x454

بے خوف کرکٹ جراتمندانہ فیصلے بین اسٹوکس بہادر کپتان ہیں

35 views

پاکستان اور انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کا اختتام انگلینڈ کی فتح کی صورت میں ہوا تو دل سے بے اختیار آواز  آئی بین اسٹوکس کیا ہی بہادر کپتان ہے۔ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیت پاکستان سے چھینی ہے جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔ انگلینڈ کی جیت کا سہرا میرے خیال میں ان کے کپتان کے سر زیادہ جاتا ہے جنہوں نے بروقت فیصلے کیے۔

محمد فیاض(ابوظہبی)

اگر پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان راولپنڈی میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کی بات کی جائے تو ہمیں دونوں ٹیموں کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق نظر آیا۔ ایک طرف انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ میچ میچ جارحانہ انداز اپنایا تو دوسری طرف پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے حسب معمول دفاعی حکمت عملی اختیار کی۔

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس نے راولپنڈی میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز جب 7 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد 264 رنز کے مجموعی اسکور پر انگلینڈ کی اننگز ختم کرنے کا اعلان کیا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو یہ ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے 343 رنز کا ہدف دیا تو ایسا محسوس ہوا پاکستان کی کرکٹ ٹیم یہ ٹیسٹ میچ جیت جائے گی۔

کچھ لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ انگلینڈ کے کپتان نے یہ میچ پلیٹ میں رکھ کر پاکستان کی ٹیم کو دیا ہےمگر ایسا نہیں ہو سکا

پاکستان نے راولپنڈی میں ہونے والے ٹیسٹ میچ کے لیے جو وکٹ تیار کی وہ اس قابل نہیں تھی کہ اس پر کوئی نتیجہ آ سکتا۔ پاکستان نے ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کی بجائے ایک ایسی وکٹ بنانے کو ترجیح دی جس پر گھاس یا نمی نام کی کوئی چیز نہیں تھی جو صرف اور صرف بلے بازوں کے لیے ساز گار تھی۔

اس وکٹ نے پاکستان کے دفاعی حکمت عملی کو واضح کر دیا تھا ۔ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اس بے جان وکٹ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور 112 سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے ایک دن میں 506 اسکور کیے۔

انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم جب سے پاکستان پہنچی ہے وہ بار بار جارحانہ کرکٹ کھیلنے کی بات کر رہے ہیں۔ راولپنڈی میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران بھی جب انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے میڈیا سے بات کی تو وہ صرف اور صرف جیتنےکی بات کر رہے تھے۔

دوسری طرف پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی وہ ہی پرانی حکمت عملی دیکھنے کو ملی کہ کسی طرح سے اس میچ کو بچایا جائے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم 80 کی دہائی کی کرکٹ سے ابھی بھی باہر نہیں نکل پائی۔ جو ٹیم ٹی 20 میچ کو ٹیسٹ میچ کی طرح کھیلتی ہو اس سے ٹیسٹ میچ میں جارحانہ انداز کی توقع رکھنا میرے خیال میں بے وقوفی ہی ہو سکتی ہے۔

کھیل کے پانچویں اور آخری دن پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو جیت کے لیے مزید 263 رنز درکار تھے اور اس کی 8 وکٹیں باقی تھیں۔ پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی اس وکٹ پر یہ ہدف بہت آسان لگ رہا تھا۔ پاکستان نے جب پانچویں دن کا آغاز کیا تو پاکستان کی حکمت عملی ٹیسٹ میچ جیتنے کی بجائے بچانے کی تھی۔

پہلے دس اوورز میں پاکستان نے بہت زیادہ دفاعی انداز اپنایا۔ دوسری طرف انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اپنا  جارحانہ انداز جاری رکھا اور اس جارحانہ کھیل کی وجہ سے میچ پر گرفت مضبوط کرتے گئے۔

دونوں کپتانوں کی کپتانی اس میچ میں واضح فرق نظر آئی۔ بابر اعظم اگرچہ بلے باز بہت اچھے ہیں مگر لازمی نہیں ایک اچھا بلےباز اچھا کپتان بھی ہو۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے اندر  جو ہارنے کا خوف ہے وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی سب سے بڑی کمزوری بنتا جا رہا ہے۔

جب آپ کے اندر ایک ہار کا خوف ہو تو آپ درست وقت پر درست فیصلے کرنے سے کتراتے ہیں۔ پاکستان کی جب نویں وکٹ گری تو پاکستان تو 79 رنز مزید چاہیے تھے۔

پاکستان کے آخری دونوں بلے بازوں نے تقریبا دس اوورز تک بلےبازی کی اور 4 رنز کا اضافہ کیا۔اس موقع پر انگلینڈ کے کپتان نے ان دس اوورز میں اپنے تمام فیلڈرز کو بلے بازوں کے اردگرد فیلڈنگ کے لیے رکھا مگر پاکستانی بلے بازوں نے پھر بھی جارحانہ انداز نہیں اپنایا۔

اگر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کرکٹ ٹیم کی جگہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا کپتان ہوتا تو وہ لازم یہ پیغام پہنچاتا کہ یہ ٹیسٹ میچ بچانا مشکل ہے لہٰذا جارحانہ انداز اپناؤ۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے ہر ممکن کوشش کی کہ انگلینڈ یہ ٹیسٹ میچ نا جیت سکے مگر اس کے ساتھ ساتھ خود یہ ٹیسٹ میچ جیتنے کی کوشش بھی نہیں کی۔

کوئی بھی کھیل ہو جیت صرف اور صرف بہادروں کے نصیب میں آتی ہے اور میرے خیال میں اس وقت انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان ایک بہادر کپتان ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *