EnglandTeam 720x454

راولپنڈی میں بہتر ٹیم جیت گئی

23 views

جس حساب سے ثقلین مشتاق قدرت کویاد کرتے ہیں اور حکمت عملی،  تدبیر اور کوشش کا ذکر کرنے کے بجائے قدرتی مراحل اورفطری عوامل پر انحصار کرتے ہیں،  ان کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ نہیں بلکہ کوئی روحانی لیڈر ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہنا اور دعا مانگتے رہنا اچھی بات ہے لیکن محنت قسم کی کسی کاوش کا نہ ہونا یا ذکر نہ کرنابالکل پریکٹیکل بات نہیں ہے۔

عدنان حسن سید

یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ بھی کوشش کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے،  صرف دعا کرنے والوں کا نہیں۔کامیابی بھی اسی کے نصیب میں ڈالتا ہے جو اس کوحاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرے۔ ثقلین کے کیس میں یہ اکثر سامنے والی ٹیم ہوتی ہے۔

بقول قمر جلالوی:

  وہ یقینا سنے گا صدائیں مری کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں

راولپنڈی ٹیسٹ میں انگلینڈ کی فتح نہ صرف 22سال بعد پاکستانی سرزمین پر ان کی تاریخی جیت تھی بلکہ ان کے کوچ برینڈن میکولم کی  جارحانہ اور مثبت حکمت عملی کی ایک اور کامیابی بھی تھی۔

بالکل فلیٹ وکٹ پر بھی اتنی تیز رفتاری سے رنز بنانا کوئی آسان کام نہیں۔ مانا کہ پاکستان کے چھ رکنی بولنگ اٹیک میں چار کھلاڑی ڈیبو کررہے تھے اور کم از کم اس پچ پر وہ بالکل بے بس نظر آئے.

لیکن پھر بھی میچ کے پہلے دن 75اوورز میں پانچ سو سے زائد رنز بنا کے انگلینڈ نے جو فیصلہ کن سنگ میل حاصل کیا وہ بغیر مثبت حکمت عملی کے ناممکن تھا

اس صورت حال میں پہلے دن کے کھیل کے اختتام  پر پاکستانی ہیڈ کوچ کا یہ کہنا کہ یہ انگلینڈ کا انداز ہے لیکن ہم اپنے ہی انداز سے کھیلیں گے اور میچ پاکستان ہی جیتے گا، کسی مذاق سے کم نہیں تھا۔ اس کے بعد میچ کے چوتھے دن صرف ڈیڑھ سیشن میں ڈھائی سو سے زیادہ رنز بنا کے اننگز ڈیکلئرکرنا اور پاکستان کو 343رنز کا ٹارگٹ دنیا بھی انگلش کپتان بین اسٹوکس کا ایک دلیرانہ فیصلہ تھا۔چوتھی اننگز کا پریشر اپنی جگہ لیکن چار سیشنز میں اس وکٹ پر کوئی بھی ذہنی طور پر مضبوط ٹیم یہ ہدف حاصل کرسکتی تھی۔

مزید پڑھیں:

بے خوف کرکٹ جراتمندانہ فیصلے بین اسٹوکس بہادر کپتان ہیں

مگر بدقسمتی سے پاکستان وہ ٹیم رہی نہیں اور یہی بات انگلش ٹیم کی مینجمنٹ کو بخوبی پتہ ہے۔ فلیٹ وکٹ پر پہلی اننگز میں سنچریاں بنانا اور دوسری اننگز میں ذمہ داری سے فتح کی جانب پیش قدمی کرنا دو الگ باتیں ہیں

لیکن کیا کریں کہ گزشتہ تین سال سے کپتان بابر اعظم اور دیگر بیٹرز اپنے ذاتی سنگ ہائے میل تک پہنچنے کو اولیت دے رہے ہیں اور سارا دھیان اپنی عالمی رینکنگز پر رکھ رہے ہیں۔

یہ تو بات ہوگئی انگلینڈ کی منصوبہ بندی کی لیکن میزبان ہونے کی حیثیت سے پاکستان کی تیاری بہتر ہونی چاہئے تھی جس کا ان کے پاس موقع بھی تھا۔ انگلینڈ میکولم کی کوچنگ میں جس انداز کی ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہا ہے وہ دنیا میں بچے بچے کو پتہ ہے سوائے شاید پاکستان کرکٹ کے تھنک ٹینک کے۔

جارحانہ بیٹنگ وکٹ لینے کے مواقع پیدا کرتی ہے اگر پچ بولنگ کے موافق ہو اور بولنگ اٹیک میں جان ہو۔ پاکستان نے ان دونوں عوامل کو نظر انداز کردیا۔ انگلش بیٹرز کو فلیٹ وکٹ پر کھل کے کھیلنے کا موقع دیا گیا اور حیران کن بولنگ اٹیک سلیکٹ کیا گیا۔

حارث رؤف کے پاس اسپیڈ ہے لیکن وہ تکنیک نہیں ہے جو ایسے فلیٹ ٹریکس پر بیٹر کو پریشان کرے۔وہ فرسٹ کلاس کرکٹ بھی زیادہ نہیں کھیلے،  اس لئے ان کے پاس چند اوورز سے زیادہ کا اسٹیمنا اور فیلڈ میں رہنے کی فٹنس بھی نہیں۔اسی لئے وہ میچ کے دوران انجر ی کا شکار ہوکے سیریز سے باہر ہوگئے۔

پہلے شاہین آفریدی اور اب حارث رؤف کے سائیڈ لائن ہونے میں سراسر قصور سلیکٹرز اور مینجمنٹ کا ہے جو ان کو ہر میچ میں کھلاتے رہنے پر اڑے رہتے ہیں۔محمد عباس اور حسن علی کی فارم پر نکتہ چینی ضرور ہوئی ہے لیکن کم از کم اس فارمیٹ میں ان کے تجربے سے فائدہ ضرور اٹھانا چاہئے تھا

کیونکہ ان کی پرفارمنس قائد اعظم ٹرافی میں بری نہیں رہی۔پہلے ٹیسٹ میں فہیم اشرف کا نہ کھیلنا بھی سمجھ نہ آیاجو نہ صرف بولنگ میں تجربہ بڑھاتا بلکہ بیٹنگ لائن اپ بھی لمبی کردیتا۔ڈومیسٹک میں اکثرسب سے زیادہ وکٹیں لینے والے محمد علی بھی بالکل متاثر نہ کرسکے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ30سالہ محمد علی کو مزید چانسز ملتے ہیں یا تابش خان کی طرح ان کو بھی صرف ایک ٹیسٹ تک محدود رکھا جائے گا۔دوسری جانب قائد اعظم ٹرافی کے ٹاپ فاسٹ بولرز عامر جمال اور محمد عمر کو نظر انداز کیا جانا بھی حیران کن ہے،  وہ اس لئے بھی کہ یہ دونوں بیٹنگ میں بھی ٹیل اینڈرز سے بہت بہتر ہیں۔

فاسٹ بولرز کی بات ہوہی رہی ہے تو یہ ایک اور سوال سر اٹھاتا نظر آتا ہے۔جہاں آف دی پچ موومنٹ سے پیسر یا اسپنر کو مدد نہ مل رہی ہو وہاں ریورس سوئنگ سے ہی کام چلتا ہے۔

اس کام میں سردست انگلینڈ ہی دنیا میں سب سے ماہر ہے جس کا مظاہرہ اس نے دوسری اننگز میں کرکے میچ اپنے نام کیا۔ اب کوئی یہ بتائے کہ ہمارے ریورس سوئنگ بولرز کہاں ہیں؟ وہاب ریاض کے بعد یہ فن کسی تک موثر انداز میں نہ آیا،  اس کی کیا وجہ ہے؟

اظہر محمود اور وقار یونس پاکستان کے کوچنگ اسٹاف میں شامل رہے،  وسیم اکرم قومی کرکٹ کی سرگرمیوں سے نہ صرف قریب ہیں بلکہ اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ اوول تنازعے کے بعد کسی نے ریورس سوئنگ کی طرف توجہ ہی نہیں دی

جبکہ دیگر ٹیمیں اب اس کا بخوبی استعمال کررہی ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم صرف گیند بگاڑ کے ریورس کرسکتے تھے اور ہاتھ پیر بچا کے ریورس کرنے کی کسی بھی قانونی تکنیک سے ہم نا واقف ہیں۔ جو بھی ہے افسوس کا مقام ہے۔

کم و بیش یہی حال اسپن بولنگ ڈپارٹمنٹ میں ہے۔یاسر شاہ کی بولنگ سے جان ختم ہونے کے بعد نعمان علی بھی غیر موثر ہوگئے ہیں اور آف اسپنر ساجد خان کا بولنگ ایکشن مشکوک ہوگیا ہے۔ایسے میں اگر موقع دیا گیا تو ڈومیسٹک میں اس سیزن میں محض 13وکٹ لینے والے لیگ اسپنرزاہد محمود کو۔

یاد رہے کہ زاہد محمود گزشتہ ایک سال سے کسی بھی فارمیٹ میں وکٹیں نہیں لے پارہے۔قائد اعظم ٹرافی میں 43وکٹیں لینے والے مسٹری اسپنر ابرار احمد کو،  جو قومی ٹی ٹوئنٹی میں بھی ہلچل مچا چکے ہیں.

اس لئے ڈیبو نہیں کروایا گیا کیونکہ بقول ثقلین،  زاہد پچھلی کئی سیریز سے ریزرو میں ہیں اور کھیلنے کا پہلا حق ان کا ہے۔

گویا حالیہ فارم اور کنڈیشنز سے قطع نظر اب کھلاڑی محض اپنا نمبر آنے پہ کھیلیں گے۔ قومی ٹیم کا چانس نہ ہوا،  قومی شناختی کارڈ کا بننا ہوگیا۔زاہد ایک ٹیلنٹیڈ بولر ضرور ہیں لیکن خراب فارم اور غیر موافق کنڈیشنز میں ڈیبو کروا کے ان سے صرف زیادہ بولنگ اوسط کے ریکارڈز بنوائے گئے ہیں اور ان کا مستقبل خطرے میں ڈالا گیا ہے

۔گویا بیک وقت دو بولرز کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور ایسا صرف ثقلین کی منطق ہی کرسکتی ہے۔

بیٹنگ کے بارے میں تو صرف اتنا کہنا ہے کہ اس فلیٹ پچ پر جو پرفارم نہ کرپائے،  اس پر سوالیہ نشان بنتا ہے۔بدقسمتی سے اس پچ پر بھی دو چانسز میں کم از کم نصف سنچری نہ بنانے والے بیٹر ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی اظہر علی ہیں۔

ممکن ہے کہ اظہر علی میں ابھی ایک دو سال کی کرکٹ باقی ہو،  ممکن ہے کہ کوئی ایک آدھ سنچری وہ اور بنا لیں،  ممکن ہے کہ وہ چار مزید ٹیسٹ کھیل کے سو ٹیسٹ کا سنگ میل عبور کرلیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اب ان کے کھیل میں زنگ نظر آنے لگا ہے۔

وہ واضح طور پر انگلش فاسٹ بولرز کا سامنا نہیں کرپارہے تھے اور اسی وجہ سے انگلی پر چوٹ بھی لگا بیٹھے۔ تو اگر فواد عالم کا بہترین وقت گزرا ہوا تصور کرلیا جائے تو اب اظہر علی سے بھی عزت کے ساتھ معذرت کرنے کا وقت آگیا ہے۔

شان مسعود اور عمر امین جیسے بیٹرز کیرئیر میں ایک اور چانس کے متلاشی ہیں،  عثمان صلاح الدین اور حسین طلعت مسلسل ڈومیسٹک میں پرفارم کررہے ہیں جبکہ محمدحریرہ،  طیب طاہر،  عمیر بن یوسف اور کامران غلام پاکستان کرکٹ کے ابھرتے ہوئے ستارے ہیں۔

سرکٹ میں اتنے سارے بیٹرز کے ہوتے ہوئے محض تجربے کے نام پر اظہر علی کا ٹیم کے ساتھ چپکے رہنا اب بہت زیادہ نامناسب لگنے لگا ہے اور اس کا سد باب ضروری ہے۔

ملتان ٹیسٹ سے قبل ہی بیٹنگ کوچ محمد یوسف کو پچ کی تیاری پرہدایات دینے بھیج دیا گیا ہے۔ خدا جانتا ہے کہ اس بار ہارجیت یا ڈرا کی کیاحکمت عملی ذہن میں ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ جیتنا ہمیشہ بہتر کھیلنے والی ٹیم کو ہوتا ہے جیسا راولپنڈی میں ہوا۔

ٹیسٹ جیتنے کے لئے تیز کھیل کررنز بنانا اور بیس وکٹیں لینا ضروری ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ سامنے والی ٹیم کے ڈیکلریشن کے بعد آپ اس سے زیادہ وکٹیں کھونے کے باوجود جیت جائیں گے تو یہ خام خیالی ہے

 دیکھتے ہیں کہ مینجمنٹ کی مزید کیا خام خیالیاں سامنے آتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *