ParvezElahi Punjab 720x454

پاکستانی سیاست کے مرکز نگاہ چوہدری پرویز الہی کا سیاسی سفر

48 views

پاکستانی سیاست کی بساط پر ہرلمحے چال بدل جاتی ہے ،چال چلنے والے بھی سبھی سیاست کے بڑے کھلاڑی ہیں ۔ کبھی کسی کھلاڑی کی چال اگلے کھلاڑی کے مہرے کو گرادیتی ہے توکبھی پٹنے والا کھلاڑی ایسی چال چلتا ہے کہ سیاسی بساط بدل کر رہ جاتی ہے ۔ پاکستانی سیاست کے کچھ  کھلاڑی ایسے ہیں جو بادشاہ نہیں لیکن بادشاہ گر ہیں چاہے وہ آصف زرداری ہوں یا پھر اس وقت تماتر خبروں کا مرکز چوہدری پرویز الہی ۔ 

پاکستان میں تخت لاہور ہمیشہ سے طاقت کا مرکز رہا ہے عام طورپر جس کے پاس ہو وہی وفاق میں بھی حکومت میں ہوتا ہے ۔ لیکن یہ پاکستان کی سیاست ہے جہاں کبھی دو تہائی اکثریت کی طاقت ہونے کے باوجود وزیراعظم کو گھر جانا پڑتا ہے ۔ تو کبھی سب سے پاپولر اور ایک پیچ ہونے کے دعوے دار وزیراعظم کو ووٹ آف نو کانفیڈنس کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

طاقت کے اس کھیل میں چھوٹی سیاسی جماعتوں کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ یہی جماعتیں اقتدار کے تخت کو کونسی بڑی جماعت حاصل کریگی اس میں ٹرمپ کارڈ کا درجہ رکھتی ہیں ۔

چاہے وہ ایم کیو ایم پاکستان ہو، یا بلوچستان کی نیشنلسٹ پارٹی ہو یا پھر پنجاب کی سیاسی بساط  پر سب سے اہم جماعت مسلم لیگ ق ہو ۔

پاکستان میں جاری سیاسی رسہ کشی میں پنجاب میں کس کا راج بہت ہی اہمیت کا حامل کا رہا ہے ۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان وزیراعلی پنجاب کے لیے جوڑ توڑ اور تمام داؤپیچ جاری ہیں ۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن  کی پے درپے غلطیوں کی وجہ سے پنجاب ان کے ہاتھوں سے نکلتا چلا جارہا ہے اور اس بار بھی  ان کو  شہہ مات دینے والے کپتان عمران خان نہیں بلکہ مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الہی ہیں ۔ جو کبھی مسلم لیگ ن کا حصہ ہوتے تھے ۔

لیکن انہوں نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کرکے مسلم لیگ ق بنائی تھی اورسال 1999 سے لیکر اب تک اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک سمجھے جانی والی  د س سیٹوں والی  مسلم لیگ ق پنجاب کی سیاست میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

نظر ڈالتے ہیں مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الہی کے سیاسی سفر پر جو اس وقت پاکستانی سیاست میں مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں

چودھری پرویز الہٰی 1945 کو گجرات کی جٹ فیملی میں پیدا ہوئے، ان کے والد چودھری منظور الہیٰ معروف بزنس مین تھے، چودھری ظہور الہٰی سیاسی میدان میں متحرک رہے، چودھری پرویز الہٰی ، چودھری شجاعت حسین نے ظہور الہیٰ کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھایا۔

پرویز الہٰی نے 1983 میں گجرات کی ضلع کونسل کے چیئرمین منتخب ہوکر اپنا سیاسی کیرئیر شروع کیا، 1985 میں پہلی بار پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔

1988، 1990 اور 1993 میں پھر ایم پی اے منتخب ہوئے، شہباز شریف کی غیرموجودگی میں 1993 سے 1996 تک قائم مقام اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری نبھائی، 1997 کے انتخابات میں پانچویں دفعہ ایم پی اے بنے اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔

1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، جس کے بعد چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی نے مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر پاکستان مسلم لیگ ق بنالی۔

2002 میں پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، اکتوبر 2007 میں اسمبلی کی تحلیل تک فرائض انجام دئیے۔

2008 میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر ساتویں بار کامیاب ہوئے، پہلی بار قومی اسمبلی کی نشست پر بھی فتح حاصل کی، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں وفاقی وزیر صنعت بنے۔

2011 میں ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ تشکیل دیا گیا، چودھری پرویز الہٰی ڈپٹی وزیراعظم منتخب ہوئے۔

2013 میں چودھری پرویز الہٰی این اے 105 سے پھر رکن قومی اسمبلی بنے، 2018 میں قومی اسمبلی کی 2 سیٹوں اور پنجاب اسمبلی کی ایک نشست سے کامیاب ہوئے۔

تحریک انصاف اور ق لیگ کی اتحادی حکومت قائم ہوئی اور پرویز الہٰی نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے فرائض انجام دئیے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے دوران پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ نامزد کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ گئی تھی، اور 25 اراکین نے انہیں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے ووٹ مخالف امیدوار حمزہ شہباز کو دے دیئے تھے۔

تحریک انصاف ان امیدواروں کے خلاف عدالت اور الیکشن کمیشن گئی، جہاں پر عدالت عظمیٰ نے ان کے ووٹ کو گنتی میں شمار نہ کرنے کا اعلان کیا تو الیکشن کمیشن نے ان منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا، اس دوران تحریک انصاف کو قانونی جنگ کے بعد 5 مخصوص نشستیں ملیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے ضمنی الیکشن ہوئے، 20 ضمنی الیکشن میں 15 سیٹیں پی ٹی آئی نے جیتیں، جبکہ 4 امیدوار ن لیگ اور ایک آزاد امیدوار منتخب ہوا۔

پنجاب اسمبلی اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے چناؤ کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار پرویز الٰہی 186 ووٹ حاصل کر سکے اور حمزہ شہباز نے 179 ووٹ حاصل کیے تاہم ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے چودھری شجاعت حسین کے خط کو جواز پیش کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ مسترد کر دیئے اور فتح حمزہ شہباز کے پلڑے میں ڈال دیئے۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے اراکین سپریم کورٹ گئے جہاں پر تین روز سماعت کے بعد ایک مرتبہ پھر فیصلہ پرویز الٰہی کے حق میں آ گیا تھا۔

جس کے بعد ایک بار پھر پنجاب میں سیاسی کشمکس عروج پر پہنچ گئی اور مسلم لیگ ن جو اپوزیشن میں ہے اس کی بھرپور کوشش تھی کہ کسی طرح پنجاب میں وزارت اعلی چوہدری پرویز الہی سے چھین لی جائے اور اس کے لیے انہوں نے اہڑی چوٹی کا زور لگادیا ۔

وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی اور یہ معاملہ عدالت پہنچ گیا جہاں عدالت کے حکم کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینا تھا ۔

چوہدری پرویز الہی نے اپوزیشن کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی سے 186 ممبران اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیکر ثابت کردیا کہ ان کو بادشاہ گر کیوں کہا جاتا ہے ۔

دس سیٹوں کی طاقت سے انہوں نے نہ صرف اپنی اتحادی جماعت تحریک انصاف سے اپنی شرائط منوائی بلکہ مسلم لیگ ن کو بھی بتادیا کہ سیاست  کی اس بساط پر وہ ہر ڈھائی چال کو ناکام بنانے کا ہنر جانتے ہیں ۔

مصنف کے بارے میں

راوا ڈیسک

راوا آن لائن نیوز پورٹل ہے جو تازہ ترین خبروں، تبصروں، تجزیوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر میں روزانہ ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Your email address will not be published. Required fields are marked *